جب آپ گنا ہ کریں گے توشیطان آپ کو پانچ جھوٹ بتائے گا
شیطان کبھی نہیں بدل سکتا ، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا اس کا مقصد ہمیں بھی اسی طرح سے محسوس کرنا ہے. لیکن ہم مسیح کے کفارا کی وجہ سے بچ سکتےہیں۔
خدا تم سے تحریک دینے والے سوالات پوچھ سکتا ہے۔
خدا کے سوالات کو سننا سیکھنا ایک اہم پہلو ہے کہ روح القدس کس طرح کام کرتا ہے ۔ جب ہم اس تحفہ کو ترقی دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
میں آسمانی رہنمائی کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟
ہم اپنی زندگی میں اس کے اثر اور رہنمائی سے کس طرح لطف اندوز ہوتے ہیں ؟ اس سوال کے ڈھیروں جواب ہیں ۔ لیکن وہ ڈھیروں جواب سطحی یا ہلکے ہو سکتے ہیں ۔
زندگی کے کیا معنی ہیں ؟ یا زندگی کا کیا مطلب ہے ؟
( ۱نیفی . ۱۰. ۲۱) ۔اس نے اس کو ممکن بنایا کہ ہر گناہ، ہر غلطی، جو تم اس زندگی میں کرتے ہو وہ ختم کر دی اور بھلا دی جائے گی ۔
حقیقی خود مختاری کیا ہے؟
ہمیں ایسے راستوں کا چناوں کرنا چاہیے جس میں ہم کامیاب ہوسکے اور جس میں خدا کی مرضی شامل ہو اور ہمیں ایسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جس سے ہم مستقبل میں اچھی جاب حاصل کر سکے ۔
اپنے بچوں کےساتھ فحش نگاری کےبارے میں گفتگو کرنا اور اکٹھے ایک ساتھ سات صحائف کامطالعہ کرنا ۔
اپنے بچوں کو نفسانی انسان (ان کی لاشیں) اور روح کے درمیان فرق کی شناخت میں مدد کریں. وضاحت کریں کہ اگر ہم صرف وہی چیزوں پر توجہ دیں جو ہمارا جسم چا ہتا ہے
آزمائشے اور مشکلا ت خدا کی طرف سے نہیں آتی ۔
آسمانی باپ نے فانیت کو منظم کیا ، لیکن اس نے برائی کو متعارف نہیں کروایا۔آدم اورحوا کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے اچھا ئی اور برائی کا انتخاب کر سکتےہیں۔
کیا شیطان (ابلیس )ہمارے خاندانوں کو گمراہ کر رہا ہے ؟
میں یقین دلانا چا ہتا ہوںکہ ابھی بہت دیر نہیں ہوئی ہے. ہم ابھی بھی اپنے خاندانوں کو بچانے کے لئے لڑ سکتے کیونکہ وہ ہمارے خاندانوں کی بربادی چاہتا ہے۔
میری خواہش تھی کہ میں ہیکل میں اینڈومنٹ سے پہلے چار چیزوں کے بارے بتا پاتا۔
ہیکل کی برکات کی وجہ سے ہم شوہر اپنی بیویوں کے ساتھ اور ماں باپ اپنےبچوںکےساتھ ہیکل میں سیل ہوسکتے ہیں سربمہر ہوسکتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی اکھٹےرہ سکتےہیں
روز مرہ کی زندگی میں دوسروں کو معاف کرنے کی چار ضروری تجاویز۔کہ ہم کییے معاف کر سکتے ہیں۔
ہمارے قر ض ہمیں معاف کر جس طرح سے ہم اپنے قرض داروں کو معاف کرتے ہیں ۔ جب ہم معافی کی بات کرتے ہیں تو پیپر میں ہم اکژاُن لوگوں کی بڑی کہا نیوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور حیران کن فیس بک کی پوسٹیں ہماری آنکھوں میں آنسو لے آتی ہیں ۔مثال […]