کیا ہم پردے کے دوسری طرف جانے کے بعد اس دنیاوی زندگی کو یاد کریں گے

میرے ذہن میں ایک سوال ہے

جو شاید تھوڑا سا عجیب لگے، لیکن… جب ہم روحوں کی دنیا میں جائیں گے تو کیا

ہمیں “فانی زندگی” کی کمی محسوس ہوگی؟ ہم یہاں اپنے جسموں کے ساتھ، اپنے خاندانوں کے ساتھ،

اور یہاں تک کہ اپنی آزمائشوں کے ذریعے سیکھنے میں بہت وقت گزارتے ہیں۔

کیا ہم اس زندگی کو پیچھے مُڑ کر کسی میٹھی یاد یا یادِ ماضی کے احساس کے ساتھ دیکھیں گے؟

یا وہاں اپنی ترقی اور خوشی میں اس قدر مصروف ہوں گے کہ ہمیں اس مرحلے کی کمی محسوس ہی نہیں ہوگی؟

کچھ عقائد میں موت کے بعد کی زندگی کو ایک ساکن اور غیر متحرک حالت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،

لیکن کلیسیا ےیسوع مسیح برائے مقدسین آخری آیام میں ہم سیکھتے ہیں

کہ روحوں کی دنیا ایک فعال اور متحرک مقام ہے۔

موت کے بعد افراد روحوں کی دنیا میں جاتے ہیں، جو مسلسل سیکھنے اور ترقی کا ماحول ہے۔

وہاں پر روح قیامت اور عدالت کے دن کا انتظار کرتی ہیں صدر ڈیلن ایچ اوکس نے سکھایا

” روحوں کی دنیا میں سب کے لیے جی اُٹھنے کی یقین دہانی یسوع مسیح کے جی اُٹھنے سے کی گئی ہے (1 کرنتھیوں 15:22 دیکھیں)،

اور جَیسے آدم میں سب مرتے ہیں وَیسے ہی مسِیح میں سب زِندہ کِئے جائیں گے۔

حالانکہ یہ مختلف گروہوں کے لیے مختلف اوقات میں ہوتا ہے۔

اس مقررہ وقت تک، صحیفے جو کچھ ہمیں روحوں کی دنیا میں ہونے والی سرگرمی کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ بنیادی طور پر نجات کے کام سے متعلق ہے۔

اس کے علاوہ بہت کم انکشاف کیا گیا ہے۔ انجیل، جاہلوں، نافرمانوں، اور سرکشوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے

تاکہ وہ اپنی غلامی سے آزاد ہو کر ان نعمتوں کی طرف بڑھیں جو ایک محبت کرنے والے آسمانی باپ نے ان کے لیے رکھی ہیں۔

­ یہاں ہم سیکھتے ہیں کہ موت کے بعد کی زندگی کوئی وقفہ نہیں بلکہ اُس ابدی ترقی کا تسلسل ہے

جو قبل از پیدائش زندگی میں شروع ہوئی اور دنیاوی زندگی کے دوران جاری رہی۔

اسی خطاب کے ایک اور حصے میں صدر اوکس مزید فرماتے ہیں:

اس سوال کے بارے میں کیا خیال ہے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ روحیں کہاں رہتی ہیں؟

­ اگر یہ سوال آپ کو عجیب یا معمولی لگتا ہے تو اپنے اُن بہت سے سوالات پر غور کریں،

یا اُن سوالات پر جن کا جواب دینے کی آپ نے کبھی کوشش کی ہو،

کسی ایسی بات کی بنیاد پر جو آپ نے ماضی میں کسی اور سے سنی ہو۔

­روحوں کی دنیا کے بارے میں تمام سوالات کے لیے، میرا مشورہ ہے کہ دو جوابات یاد رکھیں۔

پہلا، یاد رکھیں کہ خدا اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے اور یقیناً وہی کرے گا جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے بہترین ہو۔

دوسرا، بائبل کی یہ تعلیم یاد رکھیں، جو بے شمار غیر جواب شدہ سوالات کے بارے میں میرے لیے انتہائی مددگار رہی ہے

سارے دِل سے خداوند پر توکل کراور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر ۔

­ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا ۔

­امثال

3.5/6

­نتیجہ

تو کیا لوگ فانی زندگی کو یاد کرتے ہیں؟ ہم یقینی طور پر نہیں جانتے۔

صحیفے اور انبیا کی تعلیمات ظاہر کرتی ہیں کہ عالمِ ارواح میں روحیں باشعور، فعال اور ابدی ترقی میں مصروف رہتی ہیں۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں کی گئی زندگی کے تجربات ابدی قدر رکھتے ہیں اور موت کے بعد بھی یاد رکھے جاتے ہیں۔

اگرچہ عالمِ ارواح کے بارے میں ہر بات ظاہر نہیں کی گئی، لیکن ہم یقین رکھ سکتے ہیں

کہ خدا اپنی کامل محبت میں اپنے منصوبے کے مطابق اپنے بچوں کی بھلائی کے لیے سب کچھ انجام دیتا ہے۔