ایشیا علاقے کے لیے نو علاقائی تنظیمی مشیر مقرر

یہ مواد صرف ان افراد اور اداروں کے لیے ہے جو مسیحی عقیدے اور اس کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس کا مقصد اسلام یا کسی بھی دوسرے مذہبی عقیدے پر کاربند افراد کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دینا،

اور نہ ہی کسی کمیونٹی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا یا ان کی دل آزاری کرنا ہے۔

‘ کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسینِ آخری آیام’

میں خواتین کی قیادت کا بڑھتا ہوا کردار ان نو  ‘ایریا آرگنائزیشن ایڈوائزرز’ (AOAs) کے ذریعے نمایاں ہوتا ہے جو فی الوقت ایشیا کے علاقے میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

متنوع ثقافتوں اور علاقائی ضروریات کی نمائندگی کرنے والی یہ بہنیں، پاکستان سے لے کر تائیوان تک، ریلیف سوسائٹی،

ینگ وومن، اور پرائمری لیڈرز کو مقامی سطح پر رہنمائی، تربیت اور تعاون فراہم کریں گی۔

کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسینِ آخری ایام’

میں خواتین کی قیادت کا بڑھتا ہوا

کردار ان نو  ‘ایریا آرگنائزیشن ایڈوائزرز’  کے ذریعے نمایاں ہوتا ہے جو فی الوقت ایشیا کے علاقے میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

متنوع ثقافتوں اور علاقائی ضروریات کی نمائندگی کرنے والی یہ بہنیں، پاکستان سے لے کر تائیوان تک، ریلیف سوسائٹی،

ینگ وومن، اور پرائمری لیڈرز کو مقامی سطح پر رہنمائی، تربیت اور تعاون فراہم کریں گی۔

انہوں نے کہا، "میں نے ان کے ساتھ یہ بات شیئر کی کہ سٹیکور ڈسٹرکٹ آرگنائزیشن کے لیڈرز کے ساتھ ہمارا وقت صرف انہیں تربیت فراہم کرنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ روح القدس

سے ہدایت و الہام حاصل کرنے میں ان کی مدد کرنے کے بارے میں ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، "میں دعا کرتی ہوں کہ انہیں روح القدس کی رفاقت حاصل رہے اور وہ دوسروں کے ساتھ آسمانی باپ

کی محبت اور اس کی دیکھ بھال کو محسوس کرنے اور بانٹنے کے قابل ہو سکیں۔ خدا ان بہن لیڈرز کا پورا خیال رکھتا ہے۔

بولِنڈا سوک (کمبوڈیا)

سسٹر سوک کلیسیا میں پروڈکشن ریسورس مینیجر کے طور پر کام کرتی ہیں اور فنانس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔

انہوں نے ثقافتی تبدیلیوں اور سوشل میڈیا کی وجہ سے نوجوانوں کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی۔

انہوں نے خدا کی محبت کی گہری سمجھ پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا، "جہاں خدا کی محبت ہوتی ہے،

وہاں برکت دینے، تسلی دینے اور شفا بخشنے کے لیے خدا کی شفا بخش قدرت بھی موجود ہوتی ہے۔”

گریس (منگ یو) چینگ (ہانگ کانگ)

ایک ریٹائرڈ مینجمنٹ کنسلٹنٹ، سسٹر چینگ نے تیز رفتار شہر میں روحانی عادتیں پیدا کرنے میں درپیش مشکلات کی نشان دہی کی۔

ان کا ارادہ لیڈرز کی اس

بات پر حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ روزانہ کا کچھ وقت خداوند کے لیے وقف کریں، اور انہیں یہ یاد دلانا ہے

کہ خدا کے پاس ہر فرد کی ترقی کے لیے ایک مخصوص اور ذاتی منصوبہ ہے۔

مِنی شالینی آئزک (انڈیا)

انڈین پوسٹل ڈیپارٹمنٹ (بھارتی محکمہ ڈاک) میں کام کرنے والی، سسٹر آئزک ہندوستانی خواتین اور نوجوانوں کی دیکھ بھال اور تعلیمی دباؤ کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔

اپنے ذاتی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہ ان لیڈرز کے دلوں میں ایک بنیادی سچائی بٹھانا چاہتی ہیں

جن کی وہ خدمت کرتی ہیں: "خداوند ان لوگوں کو تقویت دیتا ہے جنہیں وہ چنتا ہے، آپ اکیلے نہیں ہیں۔”

جینیٹ اولیویرو (انڈونیشیا):

چرچ میں لینگویج کوآرڈینیٹر اور تقریباً 50 سالوں سے رکن،

سسٹر اولیویرو نے ٹیکنالوجی کا حکمت کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے روحانی بصیرت کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا مقصد لیڈرز کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ دائمی امن و سکون حاصل کرنے کے لیے اپنی توجہ ‘نجات دہندہ’

پر مرکوز رکھیں۔

چین ینگ لی (ملائیشیا)

ایک کلینیکل سائیکالوجسٹ (طبی نفسیات داں)، سسٹر لی ایک مذہبی اقلیت کے طور پر زندگی گزارنے کے انوکھے چیلنجز کو سمجھتی ہیں۔

وہ مقامی بہنوں کو ان کی الہیٰ قدر و قیمت کو سمجھنے میں مدد کرنے کی امید رکھتی ہیں تاکہ وہ دنیاوی دباؤ سے دور رہ سکیں اور اس بات

پر بھروسہ رکھیں کہ خداوند خود اپنے کام کی رہنمائی کر رہا ہے

افیہ کرن پیٹر (پاکستان)

ایم بی اے کی ڈگری ہولڈر، سسٹر پیٹر ان ثقافتی رکاوٹوں اور محدود تعلیمی مواقع کو اچھی طرح سمجھتی ہیں

جن کا سامنا بہت سی مقامی خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ اپنی رہنمائی

ے ذریعے، ان کا مقصد "ایک ایسا محفوظ اور حوصلہ افزا ماحول بنانا ہے جہاں وہ خود کو سنتا ہوا، قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہوا،

اور اپنے خاندانوں و برادریوں میں مثبت اثر ڈالنے کے لیے بااختیار محسوس کریں۔”

جنجیرا سیری سارن (تھائی لینڈ)

پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے

والی ایک کاروباری خاتون (entrepreneur)، سسٹر سیری سارن معاشرتی معیاروں پر پورا اترنے کے دباؤ سے اچھی طرح واقف ہیں۔

وہ چرچ کی خدمت کو نکھار اور اصلاح کا عمل سمجھتی ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ عہدے اور ذمہ داریاں "صرف نبھانے کی ذمہ داریاں نہیں،

بلکہ مثبت تبدیلی اور خود کو سنوارنے کے مواقع ہیں۔”

شو وین ینگ (تائیوان)

غیر ملکی زبانوں کی تعلیم میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی ایک فری لانس مترجم،

سسٹر ینگ تائیوانی نوجوانوں پر شدید تعلیمی اور سماجی دباؤ کا مشاہدہ کرتی ہیں۔

وہ لیڈرز کی اس بات پر حوصلہ افزائی کرتی ہیں کہ وہ چرچ کی تنظیموں کو "پیروکاروں کی ایک ایسی باہم منسلک برادری کے طور پر دیکھیں

جن کی خدمات ایک دوسرے سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔”

تھی تھانہ نگوین (ویت نام)

ایک خاتون جنہیں شروع میں خاندانی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،

سسٹر نگوین اس وقت ہنوئی میں کلیسیا کے قائدین اور اراکین کی معاونت کی خدمات

لیڈر اینڈ ممبر سپورٹ سروسز

میں کام کر رہی ہیں۔ وہ مقامی خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ روایتی معاشرتی توقعات اور دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے

اس سچائی میں مضبوط رہیں کہ وہ "آسمانی باپ کی پیاری بیٹیاں ہیں،

جن سے کامل محبت کی جاتی ہے اور جن کی زندگی کا ایک الٰہی مقصد اور صلاحیت ہے۔”

چرچ کے ایشیا ایریا کے صدر، ایلڈر کیلی آر جانسن نے کہا

ہم ان شاندار سسٹرز کی خدمت کے لیے لگن اور آمادگی کے لیے انتہائی مشکور ہیں۔” "ان کی روحانی پختگی،

متنوع تجربات، اور نجات دہندہ سے عقیدت انہیں اس قابل بنائے گی کہ وہ اسٹییک اور ڈسٹرکٹ کے پرائمری،

ینگ ویمن، اور ریلیف سوسائٹی کے رہنماؤں کو گہرے طور پر برکت بخشیں، ان کی سرپرستی کریں،

اور انہیں تعلیم دیں، کیونکہ کلیسیا ایشیا ایریا میں مسلسل جڑ پکڑ رہی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔”

ایریا آرگنائزیشن ایڈوائزرزکے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہاں دیکھیں

FAQ :

کلیسیا کی ترقی کے لیے مقامی کلیسیائی راہنماؤں کی تربیت، راہنمائی اور مدد کرنا کیوں اہم ہے؟

ان نو بہنوں کی خدمت پورے ایشیا ایریا میں افراد، خاندانوں اور معاشروں کو مضبوط بنانے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے؟

کلیسیا میں ایریا آرگنائزیشن ایڈوائزر کا کیا کردار ہوتا ہے؟