ایسی آزمائشوں کا سامنا کیسے کریں جو ختم ہونے کا نام نہ لیں؟
کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین اخری ایام کے طور پر، ہم اکثر "آخر تک برداشت کرنے
کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ لیکن ہم اُن آزمائشوں میں کیسے ثابت قدم رہ سکتے ہیں جن کا اس زندگی میں کوئی اختتام نظر نہیں آتا؟
بریگہم ینگ یونیورسٹی میں منیجمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈ نار کے سب سے چھوٹے بیٹے،
جیفری ایس بیڈ نار نے حال ہی میں اس موضوع پر بی وائی یو میں ایک اثر انگیز مذہبی خطبہ دیا۔
انہوں نے اپنے بیٹے سیموئل کی ایک نایاب جینیاتی بیماری کے بارے میں انتہائی ذاتی خیالات کا اظہار کیا
اور بتایا کہ کس طرح اس چیلنج کا سامنا کرنے سے ان کا خاندان یسوع مسیح کے مزید قریب ہوا ہے۔
14
سال سے زیادہ عرصہ پہلے، ایک الٹراساؤنڈ کے دوران، جیفری اور اُن کی اہلیہ این کو معلوم ہوا
کہ اُن کے بیٹے کے اعضاء اس طرح نشوونما پا رہے تھے جس سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
جیفری اس خوفناک خبر سے سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے دعا میں اپنے دل کا حال بیان کیا۔
انہوں نے مسیح کے شاگردوں کے بارے میں سوچا، جنہوں نے بحیرہ گلیل میں ایک طوفان کے دوران نجات دہندہ (مسیح) سے پوچھا تھا،
"اے استاد، کیا تجھے ہماری فکر نہیں کہ ہم ہلاک ہو رہے ہیں؟”
"میں نے خود کو ایک ایسا ہی سوال پوچھتے ہوئے پایا، ‘اے استاد، کیا تجھے میرے بیٹے کی فکر نہیں؟'”
جیفری نے یاد کرتے ہوئے کہا۔ "نجات دہندہ نے میرے بیٹے کی بیماریوں کو ختم تو نہیں کیا،
لیکن میرے ذہن اور دل میں ایک خاموش اور واضح احساس آیا جس نے صرف یہ کہا، ‘جیف، وہ میرا بھی بیٹا ہے’۔”
اس احساس نے ان کے دل کو سکون کی ایک نئی امید بخشی، اگرچہ کچھ خوف اور غیر یقینی صورتحال اب بھی باقی تھی۔
جیفری کے بیٹے کی پیدائش کے بعد، طبی ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ اس کے اعضاء معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "شکر گزار دل کے ساتھ، ہم نے اس کا نام سیموئل رکھا، جس کا مطلب ہے ‘خدا نے سن لیا ہے’،
بطور ایک یاد دہانی کہ خدا نے ہماری دعائیں سن لیں اور ان کا جواب دیا۔”
لیکن تقریباً ایک ہفتے بعد، این نے محسوس کیا کہ سیم کا رنگ نیلا مائل سرمئی ہو رہا ہے،
چنانچہ وہ اُسے فوراً ایمرجنسی روم لے گئیں۔بالآخر سیم میں پرائمری سیلیری ڈسکینیشیا
(PCD)
کی تشخیص ہوئی، جو کہ ایک جینیاتی بیماری ہے اور یہ جسم میں بلغم اور انفیکشن کو صاف کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے
اس تشخیص کا مطلب یہ تھا کہ اپنی باقی تمام زندگی کے لیے سیم کو دن
میں متعدد بار سانس کی نالیوں کی صفائی کے علاج کی ضرورت ہے۔
جیفری نے کہا، "میری زندگی کی اکثر آزمائشوں کا کوئی نہ کوئی اختتام ہوتا تھا،
لیکن اچانک ہم ایک ایسے طوفان کا سامنا کر رہے تھے
جو شاید اس فانی دنیا میں کبھی ختم نہیں ہوگا،” "جب ہم ہسپتال میں اس مشکل سے لڑ رہے تھے
تو میرے دل کی گہرائیوں میں ایک سوال بیٹھ گیا: ‘میں ایک ایسی آزمائش کے اختتام تک کیسے صبر کروں جس کا کوئی اختتام ہی نہیں ہے؟’
زندگی بھر کے طوفانوں میں برداشت

جیفری نے کہا کہ روح کے اس سوال سے پیدا ہونے والی کشمکش نے انہیں صحیفوں کا گہرائی سے مطالعہ کرنے
اور ہیکل (عبادت گاہ) میں کثرت سے عبادت کرنے کی تحریک دی۔
مسیح کی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد، انہیں احساس ہوا کہ "آخر تک
برداشت کرنے” کا مطلب ہمیشہ کسی اختتامی مقام کے آنے تک ڈٹے رہنا نہیں ہوتا۔
جیفری نے کہا، "میں لفظ ‘آخر کی ایک متبادل تعریف کو تیزی سے سمجھنے اور سراہنے لگا ہوں، جس کا مطلب
‘وہ نتیجہ یا مقصد ہے جس کے لیے جدوجہد کی جائے’۔ مثال کے طور پر، جوزف سمتھ نے سکھایا تھا،
‘خوشی ہماری تخلیق کے مقصد کا بنیادی جزو ہے اور اگر ہم اس راستے پر چلیں
جو اس (خوشی) کی طرف لے جاتا ہے، تو یہی ہمارا انجام (مقصد) ہوگا۔’
اس بیان میں، انجام سے مراد اس فانی زندگی کا اختتامی نقطہ نہیں ہے، بلکہ یہ وہ حتمی انجام، نتیجہ یا مقصد ہے
جسے حاصل کرنے میں خدا اس پوری زندگی میں ہماری مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جیفری نے یہ سیکھا ہے کہ اس مقصد کے حصول کی جدوجہد میں ہم اکیلے نہیں ہیں؛
آخر تک برداشت کرنے کا اصل مقصد مسیح کے ساتھ جڑنا اور ان جیسا بننا ہے
اس انداز میں دیکھا جائے تو،آخر تک بردشت کرنا اور ثابت قدم رہنے’ کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم دکھ،
مایوسی، غیر یقینی صورتِ حال اور دل ٹوٹنے کے تجربات کو خود پر اثر انداز ہونے دیں، تاکہ یہ ہمیں ایسے پیروکاروں میں ڈھال سکیں
جو مسیح کی طرح سوچتے اور محبت کرتے ہیں۔ اور خوش قسمتی سے، ہمارے نجات دہندہ صرف
اس ثابت قدمی کے سفر کی منزل ہی نہیں ہیں، بلکہ وہ ہماری اس فانی زندگی کے تمام
طوفانوں سے گزرنے میں ہماری مدد کرنے والے ایک متحرک ساتھی بھی ہیں۔
اگرچہ مسیح کے پاس ہمارے مشکل حالات کو بدلنے کی قدرت ہے، لیکن وہ ہمیشہ فوری طور پر مداخلت نہیں کرتا۔
یہ وقفہ ہمیں یہ انتخاب کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم ان حالات کا کس طرح سامنا کریں گے۔
پطرس کے پانی پر چلنے کے لیے درکار ایمان کا مظاہرہ کرنے کے واقعے کو پڑھنے کے بعد، جیفری کے لیے یہ آیت ہمیشہ ایک
" عجیب سزا” محسوس ہوتی تھی۔ لیکن اس نے بتایا کہ اس کا نقطہ نظر اس وقت بدلا جب اسے ایک دوسری آیت کے ساتھ اس کا تعلق سمجھ آیا
جیسا کہ ہم نیا عہد نامہ
میں سیکھتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جن کے پاس "رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان” ہو، ان کے لیے
"کچھ بھی ناممکن نہیں ہوگا۔” پطرسکے "تھوڑے سے ایمان” اور مسیح کی عظیم تر قدرت کے ساتھ،
پطرس نے واقعی ایک ناممکن کام کر دکھایا تھا۔
اب ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے، متی
کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یسوع پطرس کے ساتھ اتنا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں
جتنا کہ کشتی تک واپس جانے کے لیے ضروری تھا۔
اور جب تک وہ کشتی میں واپس نہیں پہنچ جاتے، طوفان کی ہوا بند نہیں ہوتی۔
آج، میں آپ کے سامنے یہ گواہی دے سکتا ہوں کہ سموئیل
کا نام بالکل درست اور موزوں رکھا گیا ہے ۔جیفری نے کہا۔
"اور اگرچہ اس کی مشکلات و آزمائشوں کا طوفان روزانہ جاری رہتا ہے،
پھر بھی وہ ہمارے لیے اس بات کا ایک مسلسل یادگار ہے کہ خدا واقعی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کا جواب دیتا ہے،
چاہے وہ اس طریقے سے نہ ہو جس کی ہم نے توقع یا امید کی تھی۔
یہ ختم نہ ہونے والی آزمائشیں ہماری دشمن نہیں ہیں۔ یہ ہمارے بہترین اساتذہ میں سے ہیں
جو ہمارے کردار کو مسیح جیسا بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔”
SOURCE :
FAQ :
جب کوئی آزمائش ایسی محسوس ہو کہ جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہوگی، تو ہم اپنے ایمان کو مضبوط کیسے رکھ سکتے ہیں؟
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری آزمائشیں ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتیں، چاہے اس وقت ایسا ہی کیوں نہ لگے۔
ہمیں خدا کے وعدوں پر بھروسا رکھنا، یسوع مسیح کے قریب رہنا اور یہ یقین قائم رکھنا چاہیے کہ خدا ہماری حالت سے واقف ہے۔
مشکل وقت میں بھی اُس کی محبت اور وفاداری تبدیل نہیں ہوتی۔
جب ہمارے مشکل حالات تبدیل نہیں ہوتے تو ہم یسوع مسیح کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟
دعا ہمیں اپنے دل کا بوجھ خدا کے سامنے رکھنے اور اُس سے طاقت، تسلی اور صبر حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ صحائف ہمیں
خدا کے وعدے یاد دلاتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ اُس نے مشکل حالات سے گزرنے والے اپنے لوگوں کو کیسے سنبھالا۔
جب ہم باقاعدگی سے دعا اور صحائف کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہمیں آگے بڑھنے کی ہمت ملتی ہے۔
مسلسل مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہم اپنے دل میں سکون اور امید کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟
ہم سیکھ سکتے ہیں کہ یسوع مسیح ہمیشہ ہمارے حالات کو فوراً تبدیل نہیں کرتا، لیکن وہ آزمائش کے دوران ہمیں اکیلا بھی نہیں چھوڑتا۔
اُس نے خود دکھ، تکلیف اور مشکلات برداشت کیں، اس لیے وہ ہماری تکلیف کو سمجھتا ہے۔
ایسے وقت میں ہم اُس کی محبت، ہمدردی، صبر اور وفاداری پر زیادہ گہرا بھروسا کرنا سیکھ سکتے ہیں۔
مزید جاننے کے لیے آپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں
ہمیں اپنے نامکمل خاندان کے لیے امید کی ضرورت ہے؟
واپس آنے والے مشنریوں کے غیر فعال ہونے کی 5 وجوہات
SEE ALSO :
To Those Enduring Trials with No End | Jeffrey S. Bednar | July 2026 – YouTube
