یسعیاہ نبی کو سمجھنے کے لیے یہ ’آسان طریقے‘ استعمال کریں

مقدسین آخری آیام کے لیے یسعیاہ کا صحیفہ اس لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ نیفی نے مورمن کی کتاب

میں یسعیاہ کے کچھ ابواب شامل کرنے کا انتخاب کیا۔ نیفی نے یسعیاہ کی اہمیت پر زور دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا

کہ نیفیوںکو بھی اس کی تحریروں کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم

خود نجات دہندہ نے یسعیاہ کے کلام کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت پر بار بار زور دیا۔

جوزف ایم۔ اسپینسر نے

The Vision of All

کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ اسپینسر یسعیاہ کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کے لیے چار طریقے تجویز کرتے ہیں

  1. بائبل کے کنگ جیمز ورژن پر مکمل انحصار نہ کریں۔ یہ 400 سال پرانا ترجمہ ہے اور اس میں قدامت پسند اور متروک زبان استعمال کی گئی ہے۔
  2. کسی جدید ترجمے کا مطالعہ کریں جیسے کہ
  3. (New Revised Standard Version)
  4. مزید وضاحت اور آسانی کے لیے، آپ کنگ جیمز ورژن اور این آر ایس وی
  5. کی آیات کا آپس میں موازنہ بھی کر سکتے ہیں۔
  6. اگر ہر آیت یا لفظ سمجھ نہ آئے تو پریشان نہ ہوں۔
    بنیادی خیالات کو سمجھنے کے لیے عبارت کے سیاق و سباق اور اردگرد موجود اشاروں سے مدد لیں۔
  7. تفصیلات میں الجھ نہ جائیں۔
    یسعیاہ کی کتاب میں بہت زیادہ علامتی اور تصوراتی زبان استعمال ہوئی ہے۔
  8. اس کا ہر حصہ اس کے بنیادی پیغام کو سمجھنے کے لیے ضروری نہیں۔
  9. بعض اوقات جب یسعیاہ بظاہر مسیحا کے بارے میں بات کرتا ہے،
  10. تو وہ کسی دوسرے مسیحا نما شخص کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا ہے، جیسے بادشاہ حزقیاہ۔

اس کے علاوہ، یسعیاہ کے مجموعی پیغام کو ذہن میں رکھیں۔ سب سے پہلے، یسعیاہ کی تحریروں کے کئی معانی ہیں۔

جس طرح مورمن کی کتاب کے نبیوں نے یسعیاہ کو مختلف انداز میں سمجھا، اسی طرح جدید علما بھی اس کی مختلف تشریحات پیش کرتے ہیں۔

اس لیے یہ سوچ رکھنے سے گریز کرنا بہتر ہوگا کہ کسی خاص آیت کا صرف ایک ہی مقررہ مطلب ہے۔

یسعیاہ کا صحیفہ ایک باقاعدہ نظام اور ترتیب کے ساتھ لکھا گیا ہے

جو اس کے پیغام کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اس کتاب کا پہلا حصہ ایک ‘بچ جانے والے گروہ’ ک تشکیل کے بارے میں ہے

جبکہ دوسرا حصہ ان کی نجات اور چھٹکارے سے متعلق ہے۔ کتاب کے پہلے حصے میں انبیاء کو لکھنے کی ہدایت کی گئی ہے

لیکن دوسرے حصے میں انہیں پڑھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یسعیاہ کی کتاب میں کچھ مخصوص نمونے اور ترتیب بھی موجود ہیں جن پر غور کرنا چاہیے

اور اس کا بنیادی موضوع عہد ہے۔ اسرائیل خداوند کی برگزیدہ قوم ہے

اور ابراہیمی عہد کے وعدے وقت آنے پر باقی ماندہ قوم کے لیے بحال کیے جائیں گے۔

آپ خود بھی اکثر یسعیاہ کی طرح گفتگو کرتے ہیں

یقین نہیں آتا؟ ذرا تصور کریں۔ آپ اسٹار وارز فلم دیکھنے سنیما گئے۔ گھر واپس آکر آپ بہت پُرجوش تھے

اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کو بتانا چاہتے تھے کہ فلم کتنی اچھی تھی۔ آپ کہانی کے کچھ اہم موڑ بتانے سے گریز کرتے ہیں

تاکہ دوسروں کو فلم کے بارے میں پہلے سے معلوم نہ ہو جائے، لیکن پھر بھی آپ پوری کہانی کا راز فاش کر دیتے ہیں۔

آپ ایک ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں جو مستقبل میں واقع ہونے والی ہے! اور غالباً آپ اپنی بات ماضی کے زمانے میں بیان کر رہے ہوتے ہیں

اور سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ (تجسس ختم ہونے کی تنبیہ کائیلو رین

اب یہ تصور کریں کہ یسعیاہ نے ایک رویا میں مستقبل دیکھا تھا، بالکل اسی طرح جیسے آپ نے ‘اسٹار وارز’ فلم میں مستقبل دیکھا تھا۔

جی ہاں، یسعیاہ ایک شاعر تھا اور اس نے قدیم عبرانی شاعری کی تمام تر حکمت اور اسالیب کو استعمال کیا

لیکن بنیادی طور پر وہ اپنی رویا کا احوال بالکل اسی انداز میں بیان کر رہا ہے جیسے آپ آج مستقبل پر مبنی فلموں کا احوال بیان کرتے ہیں۔

جیسے جیسے یسعیاہ کی پیش گوئیاں پوری ہوں گی، ہم انہیں سمجھتے جائیں گے

دوسرا نیفی ۲۵:۷ میں بیان ہے:

بلکہ دیکھو، مَیں اپنی راست گوئی کے مُطابق، اپنی نبُوّت کے ساتھ آگے بڑھتا ہُوں؛ جِس میں مُجھے معلُوم ہے کہ کوئی شخص غلطی نہیں کرسکتا؛

پھر بھی، جِن دِنوں یسعیاہ کی نبُوّتیں پُوری ہوں گی تو لوگ یقِیناً جان لیں گے، اُن زمانوں میں جب وہ پُوری ہوں گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرکار ہم پہچان لیں گے کہ یسعیاہ کی نبوتیں پوری ہو رہی ہیں

لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں پہلے یسعیاہ کی تحریروں کو پڑھنا ہوگا۔ اسی کے ساتھ ہمیں اپنے ساتھ صبر سے کام لینا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے

کہ حتیٰ کہ نیفیوں کو بھی یسعیاہ کی تحریروں کو سمجھنے میں مشکلات پیش آئیں۔

یسعیاہ کے وہ حصے جنہیں نیفی اور مورمن نے صفحات پر شامل کرنے کے لیے منتخب کیا،

اُن سب کا تعلق اسرائیل کے منتشر ہونے اور دوبارہ جمع کیے جانے سے ہے۔ یہ موضوعات نیفیوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے تھے

کیونکہ وہ خود کو یروشلم سے جلاوطن سمجھتے تھے۔ یعقوب نے اُن جذبات کا اظہار یوں کیا:

وقت ہم پر سے گزر گیا، اور ہماری زندگیاں بھی ایسے گزر گئیں جیسے ہمارے لیے ایک خواب ہو؛

ہم ایک تنہا اور غمگین قوم تھے، یروشلم سے نکالے گئے بھٹکنے والے، مصیبت میں پیدا ہونے والے

بیابان میں، اور اپنے بھائیوں کی طرف سے نفرت کیے جانے والے، جس کی وجہ سے جنگیں اور جھگڑے پیدا ہوئے؛ پس ہم نے اپنے دن ماتم کرتے ہوئے گزارے۔”

اگرچہ یعقوب کبھی یروشلم نہیں گیا تھا، پھر بھی وہ ایسا ہی محسوس کرتا تھا۔ یسعیاہ کی نبوتوں نے اُسے اور تمام نیفیوں کو تسلی دی۔

اوہ ہاں، اور یسعیاہ کی کچھ نبوتیں متعدد بار پوری ہوتی ہیں

معذرت، اس چیز سے معاملہ مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ یسعیاہ بادشاہ حزقیاہ کے دربار میں کافی بااثر تھا

اور اس نے اسرائیل کی شمالی مملکت اور یہوداہ کی جنوبی مملکت، دونوں کے گناہوں کی گواہی دی۔ جب ہم ان گناہوں کے بارے میں پڑھتے ہیں،

تو ہم یقیناً خدا کے سامنے اپنی موجودگی اور حالت پر غور کر سکتے ہیں۔ غریبوں کے ساتھ ہمارا سلوک خداوند کے نزدیک اتنا ہی اہم ہے

جتنا کہ یہ بات کہ ہم چوری یا قتل کرتے ہیں یا نہیں۔ ماضی میں جو کچھ ہوا، اس کے ذریعے ہم آنے والی تباہی کے آثار بھی دیکھ سکتے ہیں۔

ایک حقیقت یہ ہے: اس سے پہلے کہ خدا کی تباہی نازل ہو، وہ قدرتی آفات—جیسے قحط، زلزلے

طوفان اور اس جیسے دیگر واقعات—کے ذریعے ہمیں توبہ کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے۔

ہم یہ بائبل میں بھی دیکھتے ہیں اور مورمن کی کتاب میں بھی۔ اس سے پہلے کہ بابلیوں

نے یروشلم کو تباہ کیا، وہاں ایک دل دہلا دینے والا قحط پڑا تھا۔ یہ قدیم اسرائیلیوں کے لیے یسعیاہ کی طرف سے ایک سبق تھا

ایک ایسا واقعہ جو مورمن کی کتاب کے لوگوں کے ساتھ بھی پیش آیا، اور ایک ایسی بات جو غالباً دوبارہ بھی پیش آئے گی۔

source :

Third Hour 

مزید جاننے کے لیے آپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں

اس ہفتے کے لیے آؤ، میرے پیچھے ہولو کا سبق 17 سے 23 اگست تک کا ہے۔ خداوند میرا چرواہا ہے

SEE ALSO :