مَیں بچپن ہی سے مسابقتی کھیلوں میں حصہ لیتا آ رہا ہوں ،

اور دَوڑ میری جسمانی تربیت کا ایک اہم عنصر رہی ہے۔

سالہا سال سے، دَوڑ کے ساتھ ساری زِندگی میرا تعلُق پسند–ناپسند کا رہا ہے۔

باقاعدگی سے ورزِش کرنے کے جسمانی فوائد اور ذہنی شگُفتگی مُجھے پسند ہیں۔

لیکن پٹھوں کا دُکھنا، پھیپھڑوں میں درد ہونا، اور تھکاوٹ مُجھے پسند نہیں۔

اگرچہ مَیں نے اپنی بُہت سی لمبی دوڑوں کو ختم کر دِیا ہُوا ہے، زور لگانے، ڈٹے رہنے،

اور آخِر تک برداشت کرنے کے لِیے مَیں نے اپنے آپ کو سمجھایا ہے۔

جِسمانی ورزش کے تناظُر میں، لفظ برداشت سے مُراد زیادہ دیر تک شدِید جِسمانی اور ذہنی ورزِش کرتے رہنا ہے۔

ہم میں سے بُہت سے لوگ لفظ برداشت کو معمُول کے کام اور ذمہ داریوں کی ناخُوش گوار مُشقت سے بھی جوڑ سکتے ہیں۔

لیکن رُوحانی تناظُر میں،

برداشت کرنا صِرف سختی سے محنت طلب فرائض یا مسائل کو اِستقامت سے پُورا کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

پاک کلام لفظ برداشت کو ہدایت کے سیاق میں زیادہ تر اِستعمال کرتا ہے۔ مثلاً، بنی نِیفی کو خُداوند نے فرمایا،

”میری طرف دیکھو، اور آخِر تک برداشت کرو، تو تُم زِندگی پاؤ گے؛

کیوں کہ جو آخِر تک برداشت کرے گا مَیں اُسے اَبَدی زِندگی دُوں گا۔“

اور نجات دہندہ نے نبی جوزف سمِتھ کے وسِیلہ سے ظاہر کِیا کہ ”

اگر تُو میرے حُکموں کو مانتا اور آخِر تک برداشت کرتا ہے تو اَبَدی زِندگی پائے گا، جو سب نعمتوں سے اعلیٰ و اَرفع نعمت ہے۔“

مَیں رُوحُ القُدس کی مدد کے لِیے دُعا مانگتا ہُوں جب ہم اِس بات کے افضل اور پاک تر فہم و اِدراک پر غَور کرتے ہیں

کہ خُداوند یِسُوع مسِیح کے تاحیات شاگِردوں کی حیثیت سے آخِر تک برداشت کرنے کا کیا مطلب ہے۔

مسِیح میں نئی مخلُوق بننا

نجات دہندہ کی بحال شُدہ اِنجِیل ہمیں رُوحانی طور پر تبدیل ہونے کی دعوت دیتی ہے–نہ کہ محض اپنے رویہ موثّر بنانے میں۔

جب ہم اپنے کِردار، خواہشات، اعمال، اور جِس چِیز سے ہم حقیقی معنوں میں پیار کرتے ہیں خُدا کی مرضی سے ہم آہنگ کرتے ہیں،

تو نجات دہندہ ہم میں جامع اور مکمل تبدیلی لا سکتا ہے۔

جب ہم نفسانی آدمی کو ترک کرنے اور نجات دہندہ کے کفارہ کے وسِیلہ سے مُقدّس بننے کی سَعی کرتے ہیں،

 تو ہمیں ”[اُس] کی طرف رُجُوع لانا ہے،“ ”نئے سِرے سے پَیدا ہونا ہے،“

اپنے آپ کو باپ اور بیٹے کے ساتھ مُقدّس عہُود اور رُسُوم کے ذریعے سے باندھنے کی کوشش کرنی ہے،

 نجات دہندہ کا نام اپنے تئیں اپنانے کے لِیے اپنی آمادگی کا عہد کرنا ہے، ”رُوحُ القُدس کی معمُوری پانی ہے،“

”دِل [کی] بڑی تبدیلی،“ کا تجُربہ پانا ہے،

 اور اپنے سارے ”دِل، اپنی ساری جان، اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے خُداوند کی خِدمت کرنی ہے۔“

ہمیں مسِیح میں نئی مخلُوق بننا ہے۔

اَیسی بڑی رُوحانی تبدیلی صِرف ”مُقدّس ممسُوح کی مہربانیوں، … رحم، اور فضل کے وسِیلہ سے“ مُمکن ہے۔

فانی بشر ہوتے ہُوئے، ہمیں اپنی اَبَدی تقدیر کو سمجھنے کے لِیے آسمانی باپ اور نجات دہندہ کی مُطلق اور کبھی نہ ختم ہونے والی مدد کی ضرُورت ہے۔

رُوحانی نعمتوں کا کِردار اور اہمیت

رُوحانی نعمتیں رُوحُ القُدس کی قُدرت کے وسِیلہ سے خُدا کی طرف سے اپنی اُمّت کو عطا کی گئی برکتیں اور صلاحیتیں ہیں۔

تمام افراد جِن پر مُجاز کہانتی اِختیار والے ہاتھ رکھ کر رُوحُ القُدس کی نعمت عطا کرتے ہیں

وہ رُوحانی نعمتیں پانے کے لائق ہوتے ہیں جِن کا مقصد

”اُن کو برکت دینا اور فائدہ پہنچانا ہے جو خُداوند سے پیار کرتے اور اُس کے حُکموں پر عمل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔“

 رُوحانی نعمتیں بُنیادی شرائط ہیں اور نجات دہندہ کے پاس آنے، اُس کی صفات سے بابرکت ہونے،

اور بالآخِر اُس کی مانِند زیادہ سے زیادہ بننے کے لیے ضرُوری ہیں۔

”رُوحانی نعمتوں“ کا نام ہی اِنتہائی اہم سبق سِکھاتا ہے۔ اَیسی تمام نعمتیں خُدا کی طرف سے اُس کی مرضی

اور وقت کے مُطابق عطا کی جاتی ہیں؛

وہ نتائج نہیں ہیں جِن سے ہم صِرف مرکوز کوشش اور ذاتی نظم و ضبط کے ذریعے سے کماتے ہیں۔

محبّت کی رُوحانی نعمت اور آخِر تک برداشت کرنا

مورمن نے گواہی دی کہ ”محبّت مسِیح کا سچّا عِشق ہے“ اور رُوحانی نعمتوں میں ”سب سے افضل۔“ خاص طور پر،

محبّت کی تعریف اور وضاحت کے لیے صحائف میں برداشت کا لفظ اِستعمال کِیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر، ”محبّت … ہمیشہ تک برداشت کرتی ہے،“ ”صابر ہے، … اپنی بہتری نہیں چاہتی، … سب کُچھ سہہ لیتی ہے،

… سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔“ اور، یعنی آپ بہنیں اچھی طرح جانتی ہیں، ”محبّت کو زوال نہیں۔“

مورمن نے یہ بھی سِکھایا کہ ”یُومِ آخِر جِس کسی میں یہ [محبّت کی رُوحانی نعمت] ہوگی، اُس کا بھلا ہوگا۔

“ اِس آیت میں لفظ کی اور کا کے دُہرے معنی پر غَور کریں۔ ہم محبّت کے مالک ہو سکتے ہیں، لیکن بالآخِر ہمیں محبّت کی ملکِیّت بننا چاہیے۔

جب ہم یہ ماورائی نعمت پا کر بابرکت ٹھہرتے ہیں، تو ہماری رُوحانی فطرت اور کِردارمیں تبدِیلی رُونما ہوتی ہے۔

محبّت کی رُوحانی نعمت کی ”ملکیت“ ہونا جُزوی طور پر رُوحانی ترقی اور بڑھوتی کا حوالہ دیتی ہے

جو نجات دہندہ کی اِنجِیل کے اِنتہائی اہم مقاصد ہیں۔

اَفضل اور پاک تر

نجات دہندہ کے شاگردوں کے لیے، محبّت دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے یعنی ہم کیا کرتے ہیں اور کیا بن سکتے ہیں

جب اِس رُوحانی نعمت کے ہم بالآخِر حِصار میں ہوتے ہیں۔ بنیادی درجہ پر، محبّت میں یقیناً دُوسروں کے ساتھ ہم دردی،

مہربانی، اور فیاضی کے اعمال شامِل ہیں۔

لیکن اَفضل تر اور یعنی پاک تر درجہ پر، محبّت اُس ”آخِر“ کا بُنیادی جوہر ہے جِس کے لِیے ہم برداشت کر رہے ہیں–

یعنی مسِیح میں نئی مخلُوق بن رہے ہیں۔

براہِ کرم غَور کریں کہ محبّت کے اِن دو بڑے پہلوؤں کو اِیمان کے تیرہویں رُکن میں کس طرح بیان کِیا گیا ہے۔

رُکن کا پہلا نِصف حِصّہ محبّت بھرے اور پُرشفیق اعمال پر زور دیتا ہے: ”ہم دیانت دار، سچّے، پاک دامن،

خیراندیش، نیکوکار، اور تمام لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے پر اِیمان لاتے ہیں۔“

رُکن کا دُوسرا حِصّہ ہماری رُوحانی تبدیلی کی جاری و ساری فطرت پر زور دیتا ہے: ”ہم سب باتوں پر اِیمان لاتے ہیں،

ہم سب باتوں کی اُمِّید کرتے ہیں، ہم نے بُہت سی باتیں برداشت کی ہیں، اور اُمِّید کرتے ہیں کہ سب باتیں برداشت کرنے کے قابِل ہوں۔

”اگر کوئی بات پاکِیزہ، پسندِیدہ، یا دِل کش یا قابلِ آفریں ہو تو، ہم اَیسی باتوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔“

اِیمان کے اِس رُکن کا نتیجہ ہمارے واسطے نیکی کرنے، نیکوکار بننے،

اور آخِر تک برداشت کرنے کی ہدایت ہے کہ نجات دہندہ کی تقلِید کریں

اور پاس آئیں اور آسمانی نعمت کو پائیں تاکہ محبّت کریں جَیسے وہ محبّت کرتا ہے۔

نجات دہندہ کی اِلہٰی فطرت اور اعلیٰ و ارفع کِردار اُس کی فانی خِدمت کے دوران میں کامِل شفقت کے سرچشمے تھے۔

دُنیا کا مُخلصی دینے والا دُوسروں سے محبّت اور خِدمت کرنے والے کا مُجسمہ بن گیا جِس وقت وہ رُوحانی مُصِیبت یا

جِسمانی دُکھوں سے گُزر رہا تھا–اِس کے برعکس ہم سب میں نفسانی اِنسان اپنے اندر مُفاد پرستی، خُود پرستی،

اور خُود غرضی کا بُت بن جاتا ہے۔ جب ہم اَیسی زِندگی بسر کرتے ہیں جَیسی وہ بسر کرنے کی دعوت دیتا ہے

تو اُس کی مدد سے ہماری فطرت اور سِیرت وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ اُس کی مانِند بنتی ہے۔

جب ہم نجات دہندہ کی تقلِید، محبّت، اور خِدمت کرتے ہیں، تو ہم آہستہ آہستہ اپنی خواہشات اور مفادات پر کم اور

دُوسروں کی ضرُوریات کو سمجھنے اور پُورا کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ہم محض خیر اَندیشی کے کام نہیں کرتے؛

بلکہ، ہماری ہستی کی کیفیت بدل جاتی ہے اور تیزی سے مسِیح کی مانِند بنتی جاتی ہے۔

محبّت، تب، بالآخر ہماری مالِک بن جاتی ہے۔

”پَس، … باپ سے اپنے دِل کی ساری طاقت کے ساتھ دُعا کرو، کہ تُمھیں اِس محبّت سے سرشار کر دے، …

تاکہ جب وہ ظاہر ہو تو ہم اُس کی مانِند ہوں، پَس ہم اُس کو وَیسا دیکھیں گے جَیسا وہ ہے۔“

فَضل پر فَضل

ہمیں یہ خیال اکثر نامُمکن سا لگتا ہے کہ فانی زِندگی میں ہم یِسُوع کی سِیرت اور صفات کا ذرا سا حِصّہ بھی پا سکیں۔

لیکن مُخلصی دینے والے نے ”راستہ بنا دِیا اور طریقہ بتایا۔“ اُس کی تعلِیم، عہُود اور رُسُوم کی قُدرت،

اور سِیرت ہماری زِندگی کے ہر پہلو کو برکت دے سکتی ہے۔

نجات دہندہ کی فانی زِندگی میں واضح رُوحانی ترقی کا نمُونہ بھی ہم میں سے ہر ایک پر لاگُو ہوتا ہے۔

یِسُوع مسِیح ”اِبتدا میں باپ کے ساتھ“ تھا۔ ہم بھی تھے۔

وہ ”آیا اور مُجسم ہُوا،“ اور ”اُس نے مَعمُوری کو پہلے سے نہ پایا، مگر فضل پر فضل [پایا اور] پاتا رہا … جب تک اُس نے مَعمُوری نہ پا لی۔

خُدا کی اُمّت ہونے کے ناطے، ہم بھی اُس کی مَعمُوری ”مُقرّرہ وقت پر،“ پا سکتے ہیں،

اُسی ”فَضل پر فَضل“ کے نمُونہ پر عمل کرتے ہُوئے جِس طرح نجات دہندہ نے پایا تھا۔

صحیفائی مثالیں

اب مَیں تین صحائف پڑھنے جا رہا ہوں جن میں یہ فقرہ شامِل ہے ”آخِر تک برداشت کرو۔“

مَیں ہر آیت میں یہ فقرہ ”مسِیح کے سچّے عِشق سے مالا مال ہے“ کو شامِل کرُوں گا تاکہ ہم اہم اور اَبَدی سبق سِیکھ سکیں۔

  1. نجات دہندہ نے اپنے قدیم رسُولوں کو سِکھایا: ”جو آخِر تک برداشت کرتا ہے [یعنی مسِیح کے سچّے عِشق سے مالا مال ہے] وہ نجات پائے گا۔“

  2. نِیفی نے گواہی دی: ”باپ کی طرف سے مَیں نے آواز کو کہتے ہُوئے سُنا: ہاں، میرے المحبُوب کی باتیں سچّ اور برحق ہیں۔

  3. وہ جو آخِر تک برداشت کرتا ہے [یعنی مسِیح کے سچّے عِشق سے مالا مال ہے]، وہی نجات پائے گا۔“

  4. ایلما نے فرمایا: ”وہ جو رحم پائے گا اور آخِر تک برداشت کرے گا [یعنی مسِیح کے سچّے عِشق سے مالا مال ہے] وہی نجات پائے گا۔“

آخِر تک برداشت کرنا لامحالہ طور پر محبّت کی رُوحانی نعمت سے جُڑے ہُوئے ہونا ہے۔

آخِر تک برداشت کرنا محض اپنے دانت پیسنے،

اپنی جسمانی طاقت اور ذہنی صلاحیت کی حدود پر قائم رہنے،

اور فانی زِندگی کے مسائل اور مُصائب میں سے گُزرنے کا ایک اَنتھک عزم نہیں ہے؛ یہ اُس سے بڑھ کہِیں زیادہ ہے۔

آخِر تک برداشت کرنا زِندگی بھر خُوشی کی جُست جُو ہے–یَسُوع مسِیح پر توّکل کرنے

اور اُس کی مانِند بننے کے لیے اپنے نجات دہندہ سے مدد پانے کے بتدریج عمل میں آگے بڑھنا ہے۔

جَیسے جَیسے اُس کے لِیے ہماری محبّت مزید مضبُوط اور گہری ہوتی جاتی ہے،

تو ہمیں رُوحانی تناظُر، خُداوند کا اِختیار بخش فضل، اور نہایت عظیم اور ناقابلِ بیاں خوشی پانے کی برکت مِل سکتی ہے۔

وعدہ اور گواہی

صحیفائی آیت ”میرے پاس آؤ“ نجات دہندہ کی تعارُفی دعوت ہے کہ اُس کی تعلِیم کو سِیکھیں اور عمل کریں

اور رُوحانی طور پر نئے سِرے سے پَیدا ہونے کے عمل کا آغاز کریں۔

صحیفائی آیت ”آخر تک برداشت کرنا“ ہمارے دِلوں میں بڑی رُوحانی تبدِیلی کی بار بار یاد دہانی ہے

جو ہماری زِندگی بھر جاری و ساری رہنی چاہیے؛ یہ اُس کا وعدہ بھی ہے کہ ہم کیا بن سکتے ہیں

اگر ہم حقِیقی طور پر مسِیح کے سچّے عشق سے مالا مال ہیں۔

خُداوند نے بنی جوزف سمتھ پر آشکار کِیا کہ، ”سارے تاج و تخت اور سلطنتیں، حُکومتیں اور اِختیارات ظاہر کِیے جائیں گے

اور اُنھیں بخشیں جائیں گے جِنھوں نے یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کے لِیے دلیری سے برداشت کِیا ہے۔“

مََیں خُوشی سے گواہی دیتا ہُوں کہ ہم میں سے ہر کوئی، خُداوند کے فَضل اور رحم کے ساتھ، سب باتوں پر یقِین کر سکتا ہے،

سب باتوں کی اُمِّید رکھ سکتا ہے، اور دلیری سے سب باتوں کو برداشت کر سکتا ہے۔ مَیں خُداوند یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام پر یہی گواہی دیتا ہُوں، آمین۔