کیا مقدسین آخری آیام واقعی مسیحی ہیں؟

برسوں سے، لاکھوں مقدسین آخری ایام نے ایک ہی جملہ کو روزمرہ کی باتوں، سوشل میڈیا،

اور یہاں تک کہ دوسرے مذاہب کے بعض منبروں سے دہراتے ہوئے سنا ہے:

بہت سے اراکینِ کلیسائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری ایام کے لیے، یہ جملہ اُس بحث کا حصہ ہے جو نسلوں سے جاری ہے۔ تاہم، امریکی محکمہ دفاع کی ایک حالیہ انتظامی کارروائی کے بعد یہ مسئلہ شاید اب عروج پر پہنچ گیا ہے

"شاید ہم اُس صورتحال سے واقف ہوں جو اُس وقت پیدا ہوئی جب امریکی پینٹاگون نے فوجی اہلکاروں کے مذہبی وابستگی کے کوڈز کو سادہ بنانے کا اعلان کیا۔ اس فہرست کو 200 سے زائد زمروں سے کم کرکے صرف 31 زمروں تک محدود کر دیا گیا۔ اگرچہ یہ اقدام بظاہر ایک تکنیکی نوعیت کا معلوم ہوتا تھا، لیکن اس میں کی گئی ایک تبدیلی نے فوراً بہت سے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

جب کہ کئی مذہبی فرقے مسیحی درجہ بندی کے تحت شامل کیے گئے،

کلیسائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری ایام کو تو شامل کیا گیا لیکن اس گروپ کے باہر رکھا گیا۔

کلیسائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخریایام کی جانب سے فوری ردعمل سامنے ایا اس تبدیلی نے یوٹاہ کے سینیٹرز

مائیک لی

پر اپنی پوسٹس میں اس اقدام پر عوامی طور پر سوال اٹھایا،

جنہوں نے عوامی طور پرسابقہ ٹوئٹرپر اپنی پوسٹس میں اس اقدام پر سوال اٹھایا،

جس کے نتیجے میں یسوع مسیح کے چرچ کے ارکان کی جانب سے حیرت اور غصے کا اظہار کیا گیا، جبکہ غیر اراکین کی طرف سے کچھ طنزیہ تبصرے بھی سامنے آئے۔”

اسی وجہ سے چند دن بعد امریکی محکمۂ دفاع نے فہرست میں ترمیم کی، مسیحیوں ‘

کی عمومی درجہ بندی کو ختم کر دیا اور تمام مذہبی فرقوں کو الگ الگ درج کر دیا، جن میں

کلیسائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری آیام بھی شامل تھی۔

انتظامی لحاظ سے یہ معاملہ اس اصلاح کے ذریعے حل ہو گیا۔ تاہم روحانی اور مذہبی اعتبار سے اس ابتدائی اقدام نے ایک پرانے سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا:

کیا مقدسین آخریآآیام واقعی مسیحی ہیں؟”

کلیسائے یسوع مسیح اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

"ہم ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح خدا کے بیٹے اور دنیا کے نجات دہندہ ہیں، اور ہم اُن کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بہت سے مسیحی فرقوں کی طرح، ہمارے عقائد کسی حد تک دوسرے مسیحی کلیسیاؤں سے مختلف ہیں، لیکن ہم مسیح اور اُس کی تعلیمات کے وفادار پیروکار ہیں۔"

"اگر یہ کافی نہ ہو، تو کلیسیا کا نام ہی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا تعلق یسوع مسیح سے ہے۔

صدر رسل ایم نیلسن نے ایک بار سکھایا تھا:

 

"یسوع نے ہمیں حکم دیا کہ ہم کلیسیا کو اُس کے نام سے پکاریں کیونکہ یہ اُس کی کلیسیا ہے، جو اُس کی طاقت سے بھری ہوئی ہے۔”

شاید اس موضوع پر سب سے واضح بیانات میں سے ایک جوزف سمتھ کی طرف سے آیا ہے۔

1842

میں شائع ایک خط میں، اُنہوں نے لکھا

ہمارے مذہب کے بنیادی اصول یسوع مسیح کے بارے میں رسولوں اور انبیاء کی گواہی ہیں: کہ وہ مر گیا، دفن کیا گیا،

تیسرے دن دوبارہ جی اُٹھا، اور آسمان پر اٹھایا گیا؛ اور ہمارے مذہب سے متعلق تمام چیزیں صرف اسی پر منحصر ہیں۔

تو پھر یہ بحث کیوں؟

 . مقدسین آخری آیام پر ہونے والی بہت سی تنقیدوں کی ایک وجہ بعض ماہرینِ الٰہیات کے نظریات ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر مورخ ڈیوڈ بیبنگٹن

نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسیحیوں کی تعریف میں کچھ مخصوص خصوصیات کا شامل ہونا ضروری ہے۔

بیبنگٹن کے مطابق، ایک مسیحی میں چار بنیادی خوبیاں ضرور ہونی چاہئیں:

  • بائبل کو خدا کا کلام ماننا۔
  • صلیب کے نشان اور اس کی اہمیت کو اپنے ایمان کا مرکز سمجھنا۔
  • مسیح کی پیروی کے لیے روحانی تبدیلی کا تجربہ کرنا۔ ”
  • اور دوسروں تک جانفشانی سے انجیل (خوشخبری) پہنچان

اب، اگر آپ کسی مقدسین آخری ایام کو جانتے ہیں، تو آپ دیکھیں گے کہ جہاں ان میں سے کچھ پہلو ایک جیسے ہیں، وہیں دیگر قدرے مختلف ہیں

 کلیسائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری آیام کے اراکین بائبل پر ایمان رکھتے ہیں

  • لیکنکتاب مورمن کو بھی مقدس صحیفہ مانتے ہیں۔

 

  • اسی طرح، آپ عام طور پر انہیں صلیب یا مصلوب مسیح کی علامتیں استعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔
  • لیکن کیا یہ اختلافات اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انہیں مسیحی تسلیم نہ کیا جائے؟"

 

میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو؛

جیسا کہ میں نے تم سے محبت کی، تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اس سے سب جان لیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو، اگر تم میں ایک دوسرے کے لیے محبت ہو۔"

کسی مسیحی کی پہچان کی سب سے بنیادی اور مستقل علامت یہی ہونی چاہیے: مسیح کے طریقے کے مطابق محبت۔

نجات دہندہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے پڑوسی سے اپنے جیسی محبت کریں۔

لہٰذا اگر ہم اس محبت کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم مسیحی ہونے کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔

لیبلز سے پرے

یہ سب کہنے کے بعد، اگرچہ امریکی محکمۂ دفاع

کی جانب سے کی گئی اصلاح نے ممکنہ ‘غلط فہمیوں’ سے بچنے میں مدد دی، لیکن اس واقعے نے یہ یاد دہانی بھی کرائی کہ حکومتی اداروں کا کام یہ طے کرنا نہیں ہے

کہ کون سی کلیسیا مسیحی ہے اور کون نہیں۔ یہ شناخت اُن لوگوں سے وابستہ ہے جو حقیقت میں مسیح کے پیروکار ہیں۔

مقدسین آخری ایام، اس معاملے میں، یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں، اُنہیں خدا کے بیٹے کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، اُن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اُسی کا نام اپنی کلیسیا کے نام کے حصے کے طور پر رکھتے ہیں۔

پھر وہ کیوں سوچیں کہ وہ مسیحی نہیں ہیں

"جو بھی یسوع مسیح کو خدا کے بیٹے اور دنیا کے نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتا ہے،

وہ مسیحی ہے — چاہے عقائد میں تھیولوجیکل اختلافات کیوں نہ ہوں۔”

یہی وجہ ہے، اور وہ سب کچھ جو اس مضمون میں پہلے زیرِ بحث لایا جا چکا ہے،

کہ ہم پختہ یقین کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ مقدسین آخری ایام  واقعی مسیحی ہیں