"ایمان کا معجزہ”: جنوبی کوریا میں گیپیونگ کی معجزانہ جنگ
26 مئی 1951 کو جنوبی کوریا کے قصبے گیپیونگ میں ایک ایسی جنگ لڑی گئی جو تاریخ کا حصہ بن گئی۔ یوٹاہ (امریکہ) کے جنوبی چھوٹے
شہروں سے تعلق رکھنے والے 240 فوجیوں پر مشتمل 213ویں بٹالین نے تقریباً 4,000 چینی فوجیوں کا سامنا کیا۔
اگرچہ تعداد میں وہ بہت کم تھے، پھر بھی اتحادی فوجیوں نے گیپیونگ کی وادی میں نہایت بہادری سے لڑائی لڑی اور دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔
اس معجزانہ جنگ میں تقریباً 350 دشمن فوجی ہلاک ہوئے اور 830 کو قید کر لیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر، 213
ویں بٹالین کے 240 فوجیوں میں سے ایک بھی جان سے نہ گیا۔
یہ جنگ اتحادی فوجیوں کی شجاعت اور غیر معمولی حوصلے کی ایک طاقتور مثال بن گئی، جس نے جنگ کے رخ پر ایک اہم اثر چھوڑا۔
اس گروہ کی جنگ کا ایک روحانی پہلو یہ بھی تھا کہ کلیسیا یسوع مسیح برائے مقدسین اخری ایام سے تعلق رکھنے والے ان نوجوان فوجیوں سے سینٹ جارج یوٹاہ کے ہیکل کے صدر نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اپنے خدا کے ساتھ سچے اور وفادار رہیں گے تو وہ محفوظ واپس آئیں گے۔
ان نوجوانوں نے اس موقع پر اپنی ذمہ داری پوری کی اور اطاعت اور ہمت کے ساتھ اپنی زندگیاں گزاریں۔
سینٹ جارج، سیڈر سٹی، رچفیلڈ، فلمور، اور بیور میں بہت سے خاندان والوں اور دوستوں نے اس گروپ کا موازنہ ہیلامان کے نوجوان جنگجوؤں سے کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ، یہ غیر معمولی کہانی یاداشت سے دور ہونے لگی۔
جدید دور کے بہت سے کوریائی سینٹس (مقدسین) اس واقعے سے ناواقف تھے، لیکن بعض افراد نے اسے محفوظ کرنے کی کوششیں کیں۔
گیپیئونگ میں یوٹاہ کے بہادر سپاہیوں کے اعزاز میں ایک یادگار تعمیر کی گئی۔ بریڈ ٹیلر، جو کوریا سیول مشن کے سابق صدر تھے،
جیسے لوگوں کی انتھک محنتوں کے باعث یہ حیرت انگیز واقعہ آخرکار کوریا میں چرچ کے اراکین تک پہنچایا جا سکا۔
آج وہاں سالانہ یادگاری تقاریب منعقد کی جاتی ہیں اور اب ایک ویڈیو بھی بنائی گئی ہے
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ٹیلر خاندان 2018 اور 2021 کے درمیان کوریا میں مشن صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
اس دوران برادر ٹیلر کو کیلیفورنیا میں ایک پرانے دوست کی طرف سے ایک ٹیکسٹ میسج موصول ہوا، جس میں رچفیلڈ ریپر کے ایک خبرنامے کا لنک شامل تھا۔
اس مضمون میں یوٹاہ کے فوجیوں اور ان معجزات کی کہانی سنائی گئی تھی جو انہوں نے کوریا کی جنگ کے دوران دیکھے۔ ملک میں پانچ سال مشنری خدمت کے باوجود، ٹیلرز نے پہلے کبھی یہ واقعہ نہیں سنا تھا۔
تجسس کے باعث، انہوں نے بڑے عمر کے کوریائی کلیسیا کے اراکین سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا وہ اس کہانی سے واقف ہیں
مزید جاننے کے عزم کے ساتھ وہ خود گیپیونگ کے چھوٹے گاؤں گئے۔ ایک لمبی اور کٹھن سڑک طے کرنے کے بعد انہیں
امریکی فوجیوں کی یادگار کی طرف اشارہ کرتا ایک پرانا سائن ملا جو جنگ میں شریک ہوئے تھے۔
جب وہ تقریباً ہمت ہارنے ہی والے تھے،
تو ان کی نظر ایک چھوٹے اور خوبصورت یادگاری پارک پر پڑی
جو ان جانبازوں کے نام منسوب تھا۔ وہاں ایک شاندار یادگار کھڑی تھی جو 213ویں بٹالین کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کر رہی تھی۔
تابلوں پر دو زبانوں میں لکھے گئے کتبوں کو پڑھ کر ٹیلر خاندان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس خوفناک رات کو، جب ہزاروں چینی اور شمالی کوریائی فوجیوں نے اچانک حملہ کیا، یوٹاہ کے 240 فوجی ایمان اور ہمت کے ساتھ ڈٹے رہے اور ایک بھی ساتھی کو کھوئے بغیر جنگ جیت لی۔
یہ یادگار ان نوجوان فوجیوں کے لیے شکرگزاری اور احترام سے لبریز ہے جنہیں جنگ کے دوران ایک دور دراز ملک بھیجا گیا تھا۔
گھر واپس آنے کے بعد، ٹیلرز کے دل میں یہ گہری خواہش جاگی کہ اس کہانی کو نوجوانوں اور کلیسیا کے اراکین کے ساتھ بانٹا جائے۔
یہ خواہش ایک مختصر ویڈیو کی صورت میں حقیقت بنی جو اس معجزانہ جنگ کو بیان کرتی ہے۔
اس منصوبے کو صدور ڈیلن ایچ اوکس اور جیفری آر ہالینڈ کی حمایت اور الہام سے مزید گہرائی ملی
صدر اوکس،
جنہوں نے جوانی میں یوٹاہ نیشنل گارڈ میں خدمات انجام دیں، 213ویں بٹالین کے کئی فوجیوں کے دوست اور ساتھی تھے،
جن میں کیپٹن رے کاکس بھی شامل تھے، جو گیپیونگ کی جنگ کے ہیروز میں سے ایک تھے۔
صدر اوکس کو اس کہانی میں طویل عرصے سے دلچسپی رہی۔ انہوں نے شرکاء کے انٹرویوز کیے اور نوٹس اور بیانات کو محفوظ کیا۔
اپریل 2011 کی جنرل کانفرنس کی اپنی تقریر میں انہوں نے اس تاریخ کا ایک حصہ بیان کرتے ہوئے کہا:
"مجھے اس جنگ میں بڑی دلچسپی تھی۔ میں نے نوٹس بنائے اور کئی اہم شرکاء کے انٹرویوز کیے۔”
جب انہیں معلوم ہوا کہ ٹیلرز اس موضوع پر ایک ویڈیو تیار کر رہے ہیں، تو صدر اوکس نے انہیں
اپنے دفتر بلایا اور نہایت فراخدلی سے اپنے ریکارڈ اور یادداشتیں اس منصوبے کی حمایت کے لیے فراہم کیں۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا
کہ اگرچہ انہوں نے خود کوریائی جنگ میں خدمت نہیں کی، مگر وہ یوٹاہ میں ان فوجیوں کے ساتھ کام کر چکے تھے
اور ہمیشہ ان کے ایمان اور حوصلے کی تعریف کرتے رہے۔
صدر ہالینڈ کا بھی اس کہانی کے ساتھ ذاتی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا:
"جن نوجوانوں کو آپ ویڈیو میں دیکھیں گے، وہ جنوبی یوٹاہ سے تھے، وہی علاقہ جہاں میں پیدا ہوا تھا۔
وہ مجھ سے کچھ سال بڑے تھے اور جب وہ کوریا بھیجے گئے تو میں دس سال کا تھا۔ کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا تھا
کہ انہیں کس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن ہم ان کی کامیابیوں کے لیے گہری شکرگزار ہیں۔”
صدر ہالینڈ کے ایک پوتے کو جب ٹیلرز کے ساتھ کوریا سیئول مشن میں خدمت کے لیے بلایا گیا تو ان کا اس کہانی سے تعلق اور بھی گہرا ہوگیا۔
بعد میں، گھر واپس آنے کے بعد، ٹیلرز نے نہایت عاجزی سے صدر ہالینڈ سے درخواست کی کہ کیا
وہ ویڈیو کے لیے ایک مختصر پیغام یا گواہی ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
صدر ہالینڈ نے بخوشی ہاں کہی، حالانکہ اس وقت وہ صحت کے مسائل اور اپنی پیاری اہلیہ، سسٹر پیٹریشیا ہالینڈ کے حالیہ انتقال کے غم
کا سامنا کر رہے تھے۔
اس منصوبے میں ایک اور اہم حصہ دار کم سی ہان تھے۔
بھائی ٹیلر ویڈیو کے لیے کوریائی زبان میں ترجمان تلاش کر رہے تھے
دعا اور غور و فکر کے بعد انہیں برادر کم سی ہان یاد آئے جو 2021 میں بپتسمہ لے چکے تھے اور ریڈیو کے لیے ایک شاندار کیریئر بطور آوازکار بنا چکے تھے۔
دعوت ملنے پر برادر کم نے بخوشی اپنی صلاحیتیں اس منصوبے کے لیے پیش کر دیں۔
یہ ویڈیو بہت سے افراد کی الہام اور لگن کا نتیجہ ہے۔ یہ گیپیونگ کی جنگ میں لڑنے والے یوٹاہ کے فوجیوں کے ایمان، ہمت اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
یہ ویڈیو ہمیں طاقتور انداز میں یاد دلاتی ہے کہ جنگ کے سب سے تاریک لمحوں میں بھی معجزے ہو سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو دنیا بھر کے نوجوانوں، کلیسیا کے اراکین اور خاندانوں کے لیے یقینی طور پر باعثِ الہام ہوگی۔
معجزے جاری ہیں
گیپیونگ کے اپنے پہلے دورے پر، ٹیلرز کی ملاقات یادگار کے بانی اور ڈائریکٹر، چوئی سیونگ سونگ سے ہوئی۔
وہ اس معجزے پر طویل گفتگو کرتے رہے اور فوراً ایک گہری دوستی قائم ہوگئی۔
ٹیلرز نے انہیں کورین کتابِ مورمن دی اور انہیں ہیلمین کی فوجوں کی کہانی دکھائی،
یہ بتاتے ہوئے کہ یہ کہانی گیپیونگ کی جنگ سے کس قدر مشابہ ہے۔ وہ اس پر نہایت متاثر اور شکر گزار ہوئے۔ ٹیلرز نے چوئی خاندان کو مشنریوں سے بھی ملوایا۔
چوئی صاحب اور ان کی اہلیہ (بائیون سوجنگ) نے بپتسمہ لیا۔ اور گذشتہ مہینے ان کی کوریا سیول ہیکل میں مہر بندی ہو گئی۔
مئی 2025 کو گیپیونگ، جنوبی کوریا میں گیپیونگ کی جنگ کی 74ویں سالگرہ کی یاد میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔
اس موقع پر خاص طور پر امریکا کی 213ویں فیلڈ آرٹلری بٹالین کے فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا،
جو یوٹاہ کے سیڈر سٹی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر مشتمل تھی۔
اس تقریب میں امریکا اور کوریا دونوں کے شہری اور فوجی رہنما شریک ہوئے،
جن میں گیپیونگ کے میئر، اقوامِ متحدہ کمان کے نمائندے،
امریکی سفارت خانہ اور مختلف سابق فوجیوں کی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔
اس تقریب میں سیڈر سٹی کے میئر اور شہری بھی شریک ہوئے، ساتھ ہی ان فوجیوں کی نسلیں بھی موجود تھیں
جنہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا تھا۔ ان میں کیٹن ڈالی بھی شامل تھے،
جو اس وقت کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل فرینک ڈالی کے پردادہ پوتے ہیں۔
ایمان کی رہنمائی میں ایک کہانی
کیٹن ڈالی کی تقریب میں موجودگی ایک دل کو چھو لینے والی پسِ پردہ کہانی کا سبب بنی۔
تقریب سے پہلے جمعرات کو، بہن یون نے دریافت کیا کہ کلیسیا کے ایک مبلغ، ایلڈر ڈالی — جو ویٹرن فرینک ڈالی کے پڑپوتے ہیں
— فی الحال بوسان مشن میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگر سفر کی اجازت مل جاتی،
تو وہ اپنے پردادا کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کر سکتے تھے۔
اسی دن کے ابتدائی گھنٹوں میں، سسٹر یون کے دل میں اچانک خیال آیا کہ کوریل ایپ کھولیں۔
وہاں انہوں نے دیکھا کہ اتوار کے لیے سیئول جانے والی تمام ٹرین کی ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں—
سوائے ایک ٹرین کے، جو سہ پہر 3:30 بجے روانہ ہونی تھی، اور اس میں بالکل دو نشستیں ساتھ ساتھ خالی تھیں۔ بغیر ہچکچاہٹ کے،
انہوں نے فوراً بک کر لیں۔
اگلے دن، سرکاری طور پر سفر کی اجازت مل گئی۔ مشنری گائیونگ سان میں خدمت کر رہے تھے، اور یہ وہی واحد ٹرین تھی
جس سے وہ بروقت پہنچ سکتے تھے۔ وہ داگو سے سوار ہوئے، رات کو کلیسیا کے اراکین کے ساتھ قیام کیا، اور یوں وہ تقریب میں شریک ہو گئے۔
تقریب کے بعد، گِمچون کے ایک رضاکار نے انہیں واپس لے جانے کی پیشکش کی۔ سب کچھ نہایت کامل طریقے سے ترتیب پایا،
جیسے کہ یہ سب خدائی منصوبہ بندی کے تحت ہو۔ یہ یاد دہانی تھی کہ جب ہم ایمان، مقصد اور شکرگزاری کے ساتھ اپنے سے پہلے گزر جانے والوں کی میراث کو عزت دیتے ہیں تو راستے حقیقتاً خود بخود کھل جاتے ہیں۔
ہر سال جولائی میں پرووو، یوٹاہ میں ایک شاندار محب وطن تقریب منعقد کی جاتی ہے جسے "امریکہ کا فریڈم فیسٹیول” کہا جاتا ہے۔
صدر ٹیلر نے بڑی کوشش اور لگن کے ساتھ تلاش کی کہ کیا گیپیونگ کی جنگ میں شامل اصل 240 فوجیوں میں سے کوئی اب بھی زندہ ہے۔
مستقل محنت کے بعد، انہوں نے معجزانہ طور پر آخری زندہ فوجی کو تلاش کر لیا: 94 سالہ گنری سارجنٹ فرینک سویٹنگ۔
اپنے گھر پر کئی گھنٹوں تک ان سے ملاقات کے بعد، صدر ٹیلر نے انہیں اس سال کے فریڈم فیسٹیول میں اعزاز کے لیے نامزد کیا۔
خوبصورت تقریبات، پرچم کشائی اور حتیٰ کہ ایک اسٹیڈیم کنسرٹ میں 600,000 سے زیادہ لوگوں کے سامنے
ان کی خدمات اور قربانیوں پر انہیں خوب داد، محبت اور تشکر سے نوازا گیا، جس پر ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
صدر ٹیلر اس بات سے گہری تسکین محسوس کر رہے ہیں کہ اب نئی نسل کے لاکھوں لوگ اس جدید دور کے معجزے کو یاد رکھیں گے
