زندگی میں توازن کیسے پیدا کریں؟ اور آپ اس کے بارے میں غلط کیوں سوچتے رہے ہیں

دو بچوں کی ذمہ داری؛ ایک ازدواجی زندگی جو آپ کی توجه کی مستحق ہے؛ کالج کے اسائنمنٹس جو جمعے تک جمع کروانے ہیں؛ ایک ایسی نوکری جو پیر کی صبح 8 بجے شروع ہوتی ہے؛ اور چرچ کی ایک خدمت جو اتوار کو آپ کا وقت مانگتی ہے۔

کیا یہ سب جانا پہچانا لگتا ہے؟اگر آپ نے کبھی اپنی زندگی کو دیکھ کر سوچا ہے، مجھے بس بہتر توازن تلاش کرنے کی ضرورت ہے

تو یقین جانیے، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ برسوں تک اس کامل توازن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنا وقت تھوڑا بہتر انداز میں منظم کر لیں، زیادہ منصوبہ بندی کریں، یا کچھ کم سوئیں، تو وہ آخرکار اپنی زندگی کے ہر پہلو کو وہ توجہ دے سکیں گے جس کا وہ مستحق ہے۔

یہاں وہ سچائی ہے جو آپ کو کوئی نہیں بتاتا

کامل توازن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اور جتنی جلدی آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں گے، اتنا ہی خود کو آزاد اور پرسکون محسوس کریں گے۔

توازن کا ایک عام غلط تصور

ہمیں اس طرح سوچنے کی عادت ڈال دی گئی ہے کہ

زندگی میں توازن ہی اصل مقصد ہےکہ واقعی کامیاب اور ہر لحاظ سے منظم انسان وہ ہے

جو اپنی زندگی کے ہر پہلو—خاندان، کام، صحت، تعلقات اور ایمان—کو ایک ہی وقت میں یکساں توجہ دے، اور ان میں سے کوئی بھی چیز نظر انداز نہ ہو

ذرا سوچیے کہ یہ عملی طور پر کیسے نظر اتا ہے جب آپ پوری توجہ کے ساتھ اپنے

بچے کے اسکول کے پروگرام میں موجود ہوتے ہیں، تو آپ دفتر کی ای میلز کا جواب نہیں دے رہے ہوتے۔

جب آپ کام کی کسی اہم ڈیڈ لائن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہوتے ہیں، تو آپ گھر پر بچوں کا ہوم ورک نہیں کروا رہے ہوتے۔ اور جب آپ ورزش کر رہے ہوتے ہیں،

تو اسی وقت رات کا کھانا بھی تیار نہیں کر سکتے۔

حقیقت یہ ہے

کہ آپ ایک ہی انسان ہیں۔ آپ کے پاس ایک ہی دماغ ہے، اور آپ ایک وقت میں صرف ایک ہی جگہ پر پوری توجہ کے ساتھ موجود ہو سکتے ہیں۔

ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈنر نے فیس بک پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں نہایت سادہ الفاظ میں کہا:

"توازن کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ کامل توازن نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔”

یہ کوئی مایوس کن بات نہیں ہے۔ یہ ان سب سے آزادانہ سچائیوں میں سے ایک ہے جو آپ کبھی سنیں گے۔

جب آپ "ملٹی ٹاسک” کرتے ہیں تو درحقیقت کیا ہوتا ہے؟

سائنس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے۔ ‘کلیولینڈ کلینک’ کی نیورو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر سنتھیا کوبو اس کی وضاحت کرتے ہوئے سیدھے الفاظ میں کہتی ہیں:

"ہمارا دماغ بنیادی طور پر ایک وقت میں صرف ایک کام پر توجہ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم ایک ساتھ کئی کام کر رہے ہیں، تو حقیقت میں ہم بیک وقت دو کام نہیں کر رہے ہوتے،

بلکہ ہمارا دماغ بہت تیزی سے ایک کام سے دوسرے کام کی طرف منتقل ہو رہا ہوتا ہے۔”

کوارٹرلی جرنل آف ایکوپیریمنٹل سائیکالوجی’ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے

اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وسیع تر تربیت کے بعد بھی انسان کا دماغ ایک ساتھ دو کام انجام نہیں دے سکتا،

اور معمول کے کام میں معمولی سا تغیر بھی غلطیوں کی شرح میں نمایاں اضافہ کر دیتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں، آپ توازن میں برے نہیں ہیں. کوئی بھی اس میں اچھا نہیں ہے کیونکہ یہ اعصابی طور پر ناممکن ہے۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید سائنس نے جس حقیقت کی آج تصدیق کی ہے، اس کی طرف یسوع مسیح نے بہت پہلے اشارہ کر دیا تھا:

"کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔"
(متی 6:24)

ہماری توجہ، صحیح معنوں میں مرکوز توجہ، ایک وقت میں صرف ایک چیز پر مرکوز کی جا سکتی ہے۔

اصل جواب: توازن نہیں، بلکہ باارادہ توجہ

اگر توازن کا کوئی وجود نہیں ہے، تو پھر کیا ممکن ہے؟ ایلڈر بیڈنر کا جواب انتہائی عملی ہے:

"ہم ایک وقت میں صرف ایک ہی کام کر سکتے ہیں۔

جب میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار رہا ہوتا ہوں، تو میں اسی لمحے کلیسیا، اپنی ملازمت،

اور شاید اپنی ذات کے کچھ پہلوؤں پر توجہ نہیں دے رہا ہوتا۔ جب میں ورزش کر رہا ہوتا ہوں، تو بھی کچھ دوسرے کام پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم ہر لمحہ اُن تمام کاموں کے بارے میں پریشان رہیں

جو ہم اس وقت نہیں کر رہے، تو ہم خود کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر لیتے ہیں، اور پھر وہ کام بھی اچھی طرح نہیں کر پاتے جو واقعی اہم ہوتے ہیں۔ اس لیے جب آپ گھر پر ہوں،

تو پوری توجہ کے ساتھ گھر پر رہیں۔ اور جب آپ کلیسیا میں خدمت کر رہے ہوں، تو پوری دلجمعی سے خدمت کریں۔”

اس سوچ میں ایک چھوٹی سی، مگر بہت طاقتور تبدیلی ہے۔ ہر وقت ہر چیز کو تھوڑی تھوڑی توجہ دینے کی کوشش کرنے کے بجائے،

ایک وقت میں ایک اہم کام کو اپنی مکمل توجہ دیں

پھر مناسب وقت پر اگلی ذمہ داری کی طرف بڑھیں۔

اسے ایک سرکس کے فنکار کی مثال سے سمجھیں، جو لمبی چھڑیوں پر رکھی ہوئی پلیٹوں کو گھماتا ہے۔ وہ تمام پلیٹوں کو ایک ہی وقت میں برابر طاقت سے نہیں گھماتا۔ پہلے ایک پلیٹ کو گھماتا ہے،

پھر دوسری کی طرف جاتا ہے، اس کے بعد تیسری کی طرف،

اور پھر پہلی پلیٹ کے پاس واپس آ جاتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ رک جائے۔ اسی طرح وہ مسلسل یہ عمل جاری رکھتا ہے۔

تمام پلیٹوں کو ایک ہی لمحے توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صرف اتنی ضرورت ہوتی ہے کہ ہر پلیٹ کو وقت پر دوبارہ گھما دیا جائے تاکہ وہ چلتی رہے۔

ایلڈر بیڈنار نے اسے یوں کہا

اپنی زندگی میں دو، تین، چار سب سے اہم ترجیحات کی نشاندہی کریں، اور پھر اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ وقت پر واپس آتے رہیں تاکہ ہر ایک کو وہ گردش

ملتی رہے جس کی اسے ضرورت ہے۔

عملی طور پر آپ کیا کر سکتے ہیں

توازن کے تعاقب سے نکل کر ارادی اور مکمل توجہ کی عادت اپنانے کے لیے کچھ عملی اقدامات درج ذیل ہیں:

ہر وہ چیز لکھ لیں جو آپ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب اس فہرست کو دیکھیں اور پوچھیں: ان میں سے کون سی چیزیں واقعی سب سے زیادہ ضروری ہیں؟

نے سکھایا تھا:صدر ڈیلن ایچ اوکس

"ہم جتنے اچھے کام کر سکتے ہیں، ان کی تعداد ہمارے پاس موجود وقت سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں کچھ اچھی چیزوں کو چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ ہم ان چیزوں کا انتخاب کر سکیں جو زیادہ بہتر یا بہترین ہیں۔”

(جنرل کانفرنس، اکتوبر 2007)

آپ کی فہرست میں موجود ہر چیز اس قابل نہیں ہے کہ اسے ایک الگ ذمہ داری (پلیٹ) کا درجہ دیا جائے۔

. آپ جہاں بھی ہوں، مکمل طور پر وہیں موجود رہیں

جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ ہوں تو فون ایک طرف رکھ دیں۔ جب آپ کام پر ہوں تو توجہ سے کام کریں۔ جب آپ آرام کر رہے ہوں تو واقعی آرام کریں۔ مکمل توجہ کے ساتھ موجود ہونا کوئی آسائش نہیں ہے، بلکہ یہ معنی خیز کام انجام دینے کا واحد طریقہ ہے۔

. خود کو کچھ ذمہ داریاں (پلیٹیں) نیچے رکھنے کی اجازت دیں

ہر ذمہ داری کو ہر وقت سنبھالنا ضروری نہیں۔

کبھی کبھی کسی کام کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دینا غفلت نہیں، بلکہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ کچھ کام انتظار کر سکتے ہیں، اور ہر چیز کو ایک ساتھ کرنے کی کوشش کرنا ضروری نہیں۔

کسی چیز کو ابھی نہ کرنے کا فیصلہ ناکامی نہیں، بلکہ اپنی توجہ کو صحیح جگہ مرکوز کرنے کا نام ہے۔

چیزوں کو بہتر بنانےسے پہلے آسان بنائیں

سسٹر پیٹریسیا ٹی ہالینڈنے ایک بار کہا تھا:

*”جب میں اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں، تو اگر مجھے اس کا کوئی حصہ دوبارہ جینے کا موقع ملے، تو میں ایک کام مختلف انداز سے، بلکہ بہت مختلف انداز سے کروں گا: زندگی کو سادہ بناؤں گا! مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جب چیزوں کو سادہ رکھا جائے تو ہر چیز بہتر ہو جاتی ہے۔”*

 (ورلڈ وائیڈ ڈیوشنل فار ینگ ایڈلٹس، جنوری 2023)

مزید چیزوں کو سنبھالنے کی کوشش کرنے سے پہلے، خود سے پوچھیں کہ کیا آپ کم کام کر کے اسے زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں؟

باقاعدگی سے ان چیزوں کی طرف لوٹیں جو سب سے زیادہ اہم ہیں

توازن کوئی ایسی منزل نہیں ہے جہاں آپ ایک بار پہنچ جائیں۔ یہ ایک ایسا نظم و ضبط

ہے جس کی طرف آپ کو بار بار لوٹنا ہوتا ہے۔ ہر ہفتے اپنی سب سے اہم ترجیحات کا جائزہ لیں۔ کون سی ذمہ داریاں (پلیٹیں) سست پڑ رہی ہیں؟ اس ہفتے کن چیزوں کو آپ کی توجہ کی ضرورت ہے؟

توازن کے بجائے کس چیز کی تلاش ہونی چاہیے؟

تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دراصل توازن نہیں چاہتے، بلکہ ہم سکون چاہتے ہیں۔ ہم اس بات پر خود کو مجرم محسوس کرنا بند کرنا چاہتے ہیں جو ہم نہیں کر پا رہے۔ ہم یہ محسوس کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جو کر رہے ہیں، وہ کافی ہے۔

اور وہ سکون زیادہ کام کرنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ یہ صحیح وقت پر، صحیح کاموں کو، مکمل موجودگی اور نیت کے ساتھ انجام دینے سے ملتا ہے۔

جیسا کہ ایلڈر ایم رسل بالارڈ نے کہا:

اسی سادگی میں تمہیں … سکون، خوشی اور مسرت ملے گی۔

آپ ایک انسان ہیں۔ اور یہی کافی ہے۔ اس وقت جو سب سے زیادہ اہم ہے اس پر توجہ مرکوز کریں، اور اس بات پر بھروسہ رکھیں کہ باقی چیزیں انتظار کر سکتی ہیں

FAQ :

آپ کے نزدیک متوازن زندگی گزارنے کا کیا مطلب ہے؟

کام، خاندان، آرام، اور روحانی ترقی کے درمیان توازن قائم رکھنا کیوں ضروری ہے؟

آج آپ کون سی ایک تبدیلی لا سکتے ہیں جو آپ کی زندگی کو زیادہ متوازن اور یسوع مسیح پر مرکوز بنا دے؟

مزید جاننے کے لیے اپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں

کیا مورمن ہونامشکل ہے ۔

خدا کی مافوق الفطرت چیزوں کی پہچان۔

SEE ALSO :