خدا کے نزدیک کو ئی بھی چیز نہ ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔ اگست دوہزار 15میں دوبئی میں تھا اور میری بہت خواہش تھی
کہ میں ایک باردوبئی وارڈ میں جاو اور جیسے ہی جمہ کا دن آیا تو میں جلدی سے جانے کے لیے تیار ہو گیا
ایک بات بتاتا چلو مھجے دوبئی وارڈ کا پتہ نہیں تھا کہ کس جگہ پر ہے میراایک دوست جو شارجہ میں رہ رہا تھا
اس نے مجھے بتایا کہ السفہ 2 میں چرچ ہے ۔
اور خدا کا نام لیا میٹرو ریل گاڑی میں اپنے دیئے گئے پتہ کی جانب بڑھا اور جب میں السفہ2 اترا تو میں بات کا اندازہ نہیں لگا سکا
کہ مجھے دائیں جانب اترنا ہے یا بائیں جانب ۔ کیونکہ کہ مجھے ٹرین سے اتر کر با ئیں جانب آنا تھا۔
پر صیح سے اڈریس معلوم نہ ہونے کی وجہ سے میں بائیں جانب چلا گیا
اور مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا میڑو ٹرین سے اترنے کے بعد جہاں
میں 30 منٹ میں وارڑ میں پہنچنا تھا وہاں میں 4 گھنٹوں میں پہنچا،
اوراس دوبئی کا درجہ حرارت 50 تھا اور میں بھو کا پیاسااوراسی دوران میں 3 ٹیکسیاں بھی تبدیل کر چکا تھا
اور میں بھی بہت پریشان تھا کہ اب کیا کروں
کیونکہ میرے پاس صرف30درہم باقی رہ گئے تھے 100میں سےاور دعا کررہا تھا۔
کہ کسی ٹیکسی والے کو وارڈ اڈریس سمجھ آجائے اور معجزانہ طور 2 لوگوں نے میری راستے میں بہت مدد کی ایک نے مجھے کھانہ دیا
اور دوسرے نے میری اڈریس ڈھو ڈنے میں میری رہنمائی کی
اور آخر کا میں چار گھنٹوں بعددوبئی وارڈ میں تھا
اور دوبئی وارڈ کے اراکین نے مجھے خوش آمدید کہا ۔
خدا ہم سے پیا رکر تاہےاورہماری رہنمائی کرتا ہے ہم دنیا میں جہاں کہیں بھی ہو۔آمین!
صدر تھامس ایس مونسن نے اپریل 2005 میں کلیسیا کی خواتین سے خطاب کرتے ہوئے
اپنی محبت بھری فطرت کا ثبوت دیا:
“میری عزیز بہنو، خدا آپ کو برکت دے۔ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں؛ ہم آپ کے لیے دعا کرتے ہیں۔”
صدر مونسن کے الفاظ نے ایک اہم تعلیم کو دہرایا:
“یاد رکھیں کہ آپ اکیلی نہیں چل رہیں۔ خداوند نے آپ سے وعدہ کیا ہے:
‘میں تمہارے آگے آگے چلوں گا۔
میں تمہارے دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ پر ہوں گا، اور میری روح تمہارے دلوں میں ہوگی،
اور میرے فرشتے تمہارے اردگرد ہوں گے تاکہ تمہیں سنبھال سکیں۔’”
کم از کم تین جنرل کانفرنس تقاریر میں صدر مونسن نے یہ بھی فرمایا:
“کتنا جلالی اور فرشتوں کے قریب وہ نوجوان ہوتا ہے جو پاکیزہ زندگی گزارتا ہے۔”
