آخری آیام کے مقدسین کے لیے سنہری اصول کیا ہے؟

جب لوگ مقدسینآخریآیام ” کی اصطلاح سنتے ہیں، تو عام طور پر جو ایک روایتی سوچ سامنے آتی ہے وہ یہ ہے

کہ ہم مسیحی نہیں ہیں، لیکن ہم عموماً "اچھے لوگ” ہیں۔ جس پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ

: کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین اخری ایام کو اتنی کثرت سے ’’اچھے‘‘ یا ’’مہربان‘‘ لوگ کیوں کہا جاتا ہے؟

میں اکثر سوچتا ہوں کہ “اچھا” ہونے کا یہ تصور اُس سنہری اصول سے جڑا ہوا ہے جو اس بات کی رہنمائی کرتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے۔

اگر کوئی شخص، جو اس مضمون کو اتفاقاً پڑھ رہا ہے اور یہ جانتا ہے کہ اسے ایک مقدسین اخری ایام نے لکھا ہے،

تو میں فوراً ایک عام غلط فہمی کو واضح کرنا چاہوں گا۔

جی ہاں، ہم یسوع مسیح کو اپنے خُداوند، نجات دہندہ اور خُدا کے بیٹے کے طور پر مانتے ہیں۔

اور اُن کی دی ہوئی بنیادی تعلیمات میں سے ایک سادہ مگر زندگی بدل دینے والا اصول یہ ہے کہ

ہمیں دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے ساتھ کریں۔

صحیفوں میں سنہری اصول کہاں پایا جاتا ہے؟

تو پھر، صحیفوں میں اس فکر کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ جب مسیح اپنی فانی زندگی کے دوران اس زمین پر چہل قدمی کرتے تھے،

تو انہوں نے ‘پہاڑی وعظ کے دوران کہا تھا

"پس جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں، تم بھی ان کے ساتھ ویسا ہی کرو” (متی 7:12)۔

اپنی پوری خدمت کے دوران، مسیح نے بار بار اس محبت پر زور دیا جس کو اپنانے کی ہدایت ہمیں اپنے پڑوسیوں کے لیے کی گئی ہے۔

لیکن آئیے ذرا ایمانداری سے بات کریں، کچھ پڑوسیوں سے محبت کرنا آسان نہیں ہوتا۔

اس کے باوجود، مسیح نے ہمیں بغیر کسی تفریق کے محبت کا اظہار کرنے کی ترغیب دی۔

پرانے عہدنامے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا تھا۔ مسیح کی فانی زندگی اور زمینی خدمت سے بہت پہلے، یہوواہ نے قدیم اسرائیل کو حکم دیا:

اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھیں۔
(احبار 19:18)

موسیٰ کی شریعت اس اصول کے عملی مظاہروں سے بھری ہوئی تھی، جو خاص طور پر معاشرے کے سب سے کمزور افراد کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے۔

اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے کھیتوں کے کونوں کو بنا کاٹے چھوڑ دیں، تاکہ غریب اور مسافر اپنے لیے خوراک جمع کر سکیں (احبار 19:9–10)۔

خدا نے اپنی قوم کو واضح طور پر تنبیہ کی تھی کہ وہ کبھی کسی بیوہ یا یتیم کے ساتھ برا سلوک نہ کریں،

اور انہیں یاد دہانی کرائی کہ کسی بھی محتاج کے لیے ان کے ہاتھ کھلے رہنے چاہئیں (خروج 22:22؛ استثنا 15:7–11)۔

سنہری اصول کس طرح یسوع مسیح کی تعلیمات کی عکاسی کرتا ہے

یسوع مسیح نے ہمیں سکھایا کہ اپنے پڑوسی سے محبت کرنا خدا کے ساتھ ہمارے تعلق سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

رسول یوحنا ہمیں ایک گہری حقیقت کی یاد دلاتے ہیں: اگر ہم اُس خدا سے محبت کرنے کا دعویٰ کریں

جسے ہم دیکھ نہیں سکتے، تو پھر ہم اپنے اُس پڑوسی سے محبت کرنے میں کیسے ناکام ہو سکتے ہیں

جو ہمارے سامنے موجود ہے اور جسے ہم دیکھ سکتے ہیں؟

اپنے پڑوسی سے محبت کرنا ہمارے نجات دہندہ سے محبت کا براہ راست عکس ہے۔ بنیادی طور پر،

مسیح ہمیں اپنے دل میں کوئی نفرت، بغض یا کینہ نہ رکھنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔

نفرت اور رنجش سے پاک زندگی ہماری پوری صحت اور فلاح و بہبود پر اثر ڈالتی ہے۔ جدید طبی تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے

کہ تلخی اور رنجش کو دل میں رکھنا ہماری جسمانی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے،

جبکہ معافی اور ہمدردی کو اختیار کرنا ذہنی دباؤ کو کم کرتا اور شفا یابی کو فروغ دیتا ہے۔

سنہری اصول پر عمل کرنا ہمارے اردگرد کے ماحول کو بدل دیتا ہے۔ مجھے حال ہی میں اس کی ایک بہت خوبصورت اور اثر انگیز مثال کا تجربہ ہوا۔

ایک ایسے شخص کو، جسے میں نے چرچ سے متعارف کروانے میں مدد کی تھی اور جسے میں ابتدا میں زیادہ اچھی طرح نہیں جانتا تھا،

مسیح کا نام اپنے اوپر لینے اور کل وقتی مشن پر خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔

جب اُس سے پوچھا گیا کہ اُس نے یہ فیصلہ کیوں کیا، تو اُس نے ایک ایسی بات بتائی جو میرے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی۔

چرچ کے اراکین کی طرف سے جس محبت کا اُس نے تجربہ کیا، اُس محبت نے اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا کی کہ وہ بھی دوسروں کے ساتھ یہی محبت بانٹے۔

سنہری اصول کو کیسے سمجھتے ہیں؟

” اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھیں۔“
” اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھیں۔“

بطور ایک رکن، مقدسین اخری ایام سنہری اصول کو محض ایک خیال نہیں بلکہ عملی اقدام کی دعوت سمجھتے ہیں۔

ہمارا ماننا ہے کہ محبت صرف محسوس کرنے کا نام نہیں، بلکہ کچھ کر دکھانے کا نام ہے۔ آپ اس اصول کو

مشنری کام میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ سوچیں کہ یہ نوجوان مشنری اپنے ترغیبی میدانوں میں کیا کچھ برداشت کرتے ہیں؛

کبھی انہیں لوگوں کے دروازوں سے واپس بھیج دیا جاتا ہے، کبھی وہ میلوں پیدل چلتے ہیں،

اور کبھی کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے کئی گھنٹے تھکا دینے والا جسمانی کام کرتے ہیں۔

اس عزم کو اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھیں تو، چرچ کی رپورٹ ‘کیرنگ فار دوز ان نیڈ’

کے مطابق، مقدسین اخری ایام اور مشنریوں نے 196 ممالک اور علاقوں میں صرف ایک ہی سال کے اندر 74 لاکھ

ریکارڈ شدہ رضاکارانہ خدمات انجام دی ہیں—جو کہ تقریباً 20,000 گھنٹے روزانہ کی خدمات کے برابر بنتے ہیں۔

اس رضاکارانہ محنت کے ساتھ ساتھ، چرچ نے عالمی انسانی امداد اور ہنگامی امدادی کاموں کے لیے 1.58 ارب ڈالر فراہم کیے۔

مسیح کے شاگرد کی حیثیت سے سنہری اصول پر عمل کرنا

سنہری اصول کا اصل مطلب ہماری نیت میں پوشیدہ ہے۔ یہ دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے

کہ ایک نوجوان مشنری، حتیٰ کہ وہ مشنری بھی جو جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ خدمت کر رہے ہوں،

کس جوش اور محبت کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تاکہ ایسے لوگوں کی خدمت کریں اور اُن کے ساتھ مسیح کی محبت بانٹیں جن سے وہ پہلے کبھی نہیں ملے۔

یہ محض ظاہری شائستگی نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقی اور بے غرض محبت ہے، ایسی محبت جو قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔

تو پھر لیٹر ڈے سینٹس کو "اچھے لوگ” کیوں کہا جاتا ہے؟ بنیادی طور پر، محض "اچھا”

بننا حتمی مقصد نہیں ہے، بلکہ مسیح کی پیروی اور شاگردی اصل مقصد ہے۔

جب ہم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں،

تو ہم کسی شہرت کو حاصل کرنے یا صرف اپنا فرض پورا کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہوتے۔

ہم صرف اس نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں

جو (یسوع مسیح) نے ہمارے لیے قائم کیا۔ جب ہم دوسروں کے ساتھ مہربانی اور سخاوت کے ساتھ پیش آتے ہیں،

تو ہم ان کی محبت کو اپنے ذریعے پھیلنے کا موقع دیتے ہیں—خدمت کے ایک چھوٹے سے عمل کے ذریعے۔

SOURCE :

Third Hour

FAQ :

سنہری اصول ہمیں دوسروں کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنے کی تعلیم دیتا ہے؟

ہم اپنے خاندان، دوستوں اور کلیسیا کے اراکین کے ساتھ محبت اور خدمت کے ذریعے سنہری اصول پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟

ضرورت مندوں کی خدمت کرنا سنہری اصول کی عملی مثال کیسے بن سکتا ہے؟

مزید جاننے کے لیے اپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں

مورمنزکے متعلق اکثر پوچھے جانے والے سوالات۔

میں کیسے جان سکتا ہوں کہ جو فیصلہ میں کررہا ہوں یہ درست ہے ؟

SEE ALSO :