ہم اَبَدی بیاہ پر اِیمان رکھتے ہیں، ہم اَبَدی بیاہ کی بابت تعلیم دیتے ہیں، اور ہم اَبَدی بیاہ کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔
گتسِمنی باغ اور صلیب پر مُنّجی کی بے مِثال محبّت اور قُربانی کے بعد، اُس کی بے جان لاش کو کسی کی دی گئی قبر میں بحفاظت بند کر دِیا گیا۔
مگر قبر خُدا کے اِلہیٰ بیٹے کو قید نہ رکھ سکی۔ ”زِندہ کو مُردوں میں کِیُوں ڈھُونڈتی ہو“ فرِشتے نے اِعلان کِیا۔ ”وہ یہاں نہیں، بلکہ جی اُٹھا ہے۔“
مَوت اور گُناہ پر ہمارے نجات دہندہ کی فتح کی بدولت، ہم ہمیشہ تک اُس کے نام کی سِتایش کرتے رہیں گے۔
یِسُوع مسِیح اَن گِنت دُوسری برکتیں بھی ساتھ لایا۔ اُس نے اپنے رَسُول پطرس سے فرمایا، ”
جو کُچھ تُم زمِین پر باندھو گے وہ آسمان پر بندھے گا۔“ مُقدّس مُہربندی کی یہ قُدرت زمین پر بحال ہو چُکی ہے
اور آج یہ اُس کی تقدِیس شُدہ ہَیکلوں میں پائی جاتی ہے۔ صدر گورڈن بی ہِنکلی نے کہا، ”اگر بحالی کے تمام دُکھوں،
مُشقتوں اور تکلیفوں کا ثمر صِرف خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے باندھنے والی مُقدّس کہانت کی مُہربندی کی یہ قُدرت ہی ہوتا،
تو بھی یہ سب کُچھ اُس قِیمت کے قابل ہوتا جو اَدا کی گئی۔“
قُربان گاہ کے سامنے گھُٹنے ٹیکنا
میری 74 سالہ زِندگی میں، صِرف چند ہی اَیسے تجربات ہیں جہاں تقریباً ہر جذبہ اور اِحساس میرے شعُور میں پُختگی سے نقش ہوگیا ہے۔
اُن سب سے زیادہ پُر اَثر تجربات میں سے ایک وہ ہے جب مَیں خُدا کی مُقدّس ہَیکل میں قُربان گاہ کے سامنے کیتھی کے سامنے گھُٹنوں کے بَل بیٹھا تھا۔
ہماری تمام اُمیدیں، خواب، اور محبّت جو ہم نے ایک دُوسرے سے بانٹی تھی توقعات کے رنگین منظر کی طرح اُس وقت کھِل اُٹھیں
جب ہم نے وہ ناقابلِ فراموش اَلفاظ سُنے: ”اِس جہان اور ساری اَبَدیت کے لیے۔“
آپ میں سے وہ تمام لوگ جو اِس عالم گِیر عِبادت کا حِصّہ ہیں اور اپنی زِندگی کے اُس دِن کو محبّت کے ساتھ یاد رکھتے ہیں، مَیں خاص طور پر آپ ہی سے مُخاطِب ہُوں۔
اُس خاص گھڑی میں، قُربان گاہ کے سامنے گھُٹنوں کے بَل بیٹھ کر، ہمیں خُدا اور ایک دُوسرے کے ساتھ اپنے عزّم کی گہرائی کا شِدت سے اِحساس ہونے لگتا ہے۔
یہ پاک رسم ہمیں اپنے اَبَدی جیون ساتھی اور خُدا کے ساتھ اَبَدی بندھن میں باندھ دیتی ہے۔ ہم عہُود کی پاسداری کرنے کا پُختہ عہد کرتے ہیں،
اور خُداوند ہم سے وعدہ فرماتا ہے کہ اگر ہم وفادار رہیں، تو وہ ہمیں اِس حیاتِ فانی میں اور اگلی زِندگی میں اَیسی بے پناہ ناقابلِ بیان برکتیں عطا فرمائے گا،
بشمُول اَبَدی جہان میں تاج و تخت، قُدرتیں، اور اِختیارات۔
اپنی فِطرت کو نِکھارنا
تاہم، ہماری اِس سے بھی بڑی تمنّا یہ ہے، کہ ہم اپنی فِطرت کو نِکھاریں، اپنے مُنّجی کی مانِند بنیں، تاکہ اِک روز ہم اُس کے ساتھ رہ سکیں۔ اپنے مُقدّس نِکاح کے بندھن میں،
جو خُدا اور ایک دُوجے کے ساتھ جُڑا ہُوا ہے، ہم خُود کو رُوحانی نشوونُما کی ایک اَیسی بھٹی میں پاتے ہیں جہاں ضرُوری خصُوصیات—
جیسے قُربانی، محبّت، صبر، اور صُلح کروانے والا بننا،
جیسا کہ صدر ڈیلن ایچ اوکس نے آج صُبح ذِکر کِیا، اور وہ مسِیحی کِردار

جس کے مُتعلق صدر ڈی ٹاڈ کرسٹوفرسن نے بات کی—
ہماری شخصیت رَچ بَس سکتی ہیں۔
جیسے جیسے نجات دہندہ کے لیے ہماری محبّت بڑھتی ہے، تو ایک دُوسرے کے لیے بھی ہماری محبّت بڑھتی جاتی ہے۔
ہماری اپنی شاگِردی کی طرح، ہمارا اَبَدی بیاہ کوئی عارضی تجربہ نہیں بلکہ ایک سفر ہے—
ایک اَیسا اَبَدی سفر جس میں ہم وہ بننے کی کاوِش کرتے ہیں جو خُدا ہمیں بنانا چاہتا ہے۔
دُنیا کے بیشتر حِصّوں میں، بیاہ کے مُستقل و پائیدار ہونے کے اِعتماد میں دھیرے دھیرے کمی آ رہی ہے۔ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل میں ہم یہ اِعلان کرتے ہیں
کہ ”ایک مَرد اور ایک عَورت کے درمیان بیاہ خُدا کی طرف سے مُقرر کردہ ہے۔“
ہم اَبَدی بیاہ پر اِیمان رکھتے ہیں، ہم اَبَدی بیاہ کی بابت تعلیم دیتے ہیں، اور ہم اَبَدی بیاہ کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔
عہُود کے لیے تیاری
ہم اِیمان اور اِعتماد کے ساتھ اپنے بیاہ کی توقع کرتے ہیں کیوں کہ ہم اُن عہُود کے لیے خُود کو دیانتداری سے تیار کرتے ہیں جو ہم خُداوند کے گھر میں باندھتے ہیں۔ اپ
نی جوانی میں، ہم یِسُوع مسِیح پر اپنے اِیمان کو مضبُوط کرتے ہیں اور اُس کے حُکموں کو مانتے ہیں، بشمُول پاک دامنی کا قانُون،
ایک اَیسا قانُون جسے دُنیا کے بُہت سے لوگوں نے پسِ پُشت ڈال دِیا ہے۔
ہم یِسوع مسیح کا نام اپنے اُوپر اَوڑھتے ہیں۔
لیکن اپنی تمام تر تیاری کے باوجُود، ظاہر ہے کہ ہم میں سے ہر ایک میں کمزوریاں ہیں، اور ہمیں اِس بات کا اِحساس ہے
کہ ہماری زِندگیوں کو مزید بے غرضی، توبہ، اور مُعافی کی ضرُورت ہوگی۔ کیتھی اور مَیں نے اپنے ولیمے پر اِستعمال ہونے والے کاغذی نیپکِن پر
وِلیم شیکسپیئر کے یہ اَلفاظ نقش کروائے تھے: ”وہ محبّت، محبّت نہیں [جو] حالات بدلنے پر بدل جائے۔“
شادی کے اُن اِبتدائی مہینوں میں جب وہ مُجھے بہتر طور پر جاننے لگی، تو مَیں نے بچے ہُوئے نیپکِنز اپنے پُورے اپارٹمنٹ میں جگہ جگہ رکھ دِیے۔
زِندگی کے تجربات کی خُوشیوں اور غموں کو اَپناتے ہُوئے، ہم اپنے عہُود کو اپنی پہچان اور ذات کا مُستقل اور بُنیادی جُزو بناتے ہیں،
اور اپنی نظریں اُس جلالی منزل کی طرف مرکُوز رکھتے ہیں جو آسمان پر ہمارا اِنتظار کر رہی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ جن اِلہیٰ صِفات کی ہم جُستجُو میں ہیں وہ اِس زِندگی میں کامِل نہیں ہو سکیں گی۔ اَبَدی بیاہ اِک اَبَدی سفر ہے۔
رُوحُ القُدس پر توّکل کرنا
ہمیں اپنی اِنفرادی اور اَزدواجی زِندگی میں رُوحُ القُدس کی نعمت کی اَشد ضرُورت ہے۔ جیسا کہ اِس مجلسِ عامہ میں پہلے بھی حوالہ دِیا گیا ہے،
صدر ڈیلن ایچ اوکس نے حال ہی میں فرمایا: ”آپ ایک ایسے دَور میں رہ رہے ہیں
جہاں دُشمن سچّائی کو تبدیل کرنے میں اِتنا ماہر ہو چُکا ہے کہ اگر آپ کے پاس رُوحُ القُدس نہیں ہو گا،
تو آپ دھوکا کھا جائیں گے۔ آپ کے سامنے بُہت سی رُکاوٹیں کھڑی ہیں۔
بھٹکانے والی چیزیں بُہت سی ہوں گی۔“
دُنیا کے فریبوں میں سے ایک فریب یہ ہے کہ مُہربندی کی پاک رسم کی اَہمیت اور اِس کی حقیقی قُدرت کو کم تر سمجھا جائے۔
ایک دُوجے پر اور یِسُوع مسِیح پر اپنی اُمید قائم رکھیں۔ اُس کے وعدے ہمیں رُکاوٹوں اور دُںیاوی اُلجھنوں کے دوران ثابت قدم رکھ سکتے ہیں۔
ہماری اَزدواجی زِندگی میں اَیسے لمحات آتے ہیں جن میں ہمیں بے پناہ صبر و تحمل کی ضرُورت پڑتی ہے۔
ہماری شادی کی 25وِیں سالگِرہ پر، کیتھی اور مَیں فِلدِلفیہ میں مُنادوں سے خِطاب کر رہے تھے۔
مُجھے بارہ رَسُولوں کی جماعت سے صدر بائڈ کے پیکر کی کال موصُول ہوئی۔
ہماری بات چیت کے اِختتام پر، مَیں نے کہا: ”صدر پیکر، آج ہماری شادی کی 25وِیں سالگِرہ ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے؟
“ رُکے بغیر، اُنھوں نے جواب دِیا، ”کیتھی کے لیے تو یہ واقعی بڑی کامیابی ہے!“
مسِیح پر آپ کی اُمید اور ایمان کے ساتھ، خُداوند کو اجازت دیں کہ وہ آپ کی تفہیم اور صبر کی روحانی نعمتوں کو وسیع کرے۔
اَبَدی بیاہ کی بابت بات کرتے ہُوئے، مَیں دو مزید نکات کا ذِکر کرنا چاہتا ہُوں۔
پہلا یہ کہ، یِسُوع مسِیح کا ہر سچّا پیروکار، اگر وہ اِس کی خواہش رکھتا ہے،
تو اُسے اَبَدیت کے لیے اپنی پسند کے راستباز جیون ساتھی کے ساتھ مُہربند کر دِیا جائے گا، چاہے اِس زِندگی میں یا اگلی میں۔
دُوسرا، یہ سوال پُوچھا جاتا ہے کہ، ”کیا اَیسی صُورتِ حال بھی ہو سکتی ہے جب طلاق پر غور کرنا چاہیے؟
“ جواب ہے ہاں اَیسی صُورتِ حال ہو سکتی ہے، لیکن اِس میں احتیاطی تدابیر اِنتہائی اَہم ہیں۔
مَیں اپنے پیغام کے شائع شُدہ ورژن میں اِس موضُوع پر نبُوتی تعلیمات کو شامِل کرُوں گا۔
ایک دُوسرے کی دیکھ بھال کرنا
پچاس سال پہلے، کیتھی اور مَیں ایک بُہت ہی مُتاثر کُن جوڑے سے مِلے جنھوں نے حال ہی میں خُدا کے گھر میں نِکاح کِیا تھا۔
زِندگی بُہت پُر اُمید تھی۔ اُن کے ہاں اولاد ہُوئی۔ وہ باصلاحیت اور اِیمان سے بھرپُور تھی۔ اُس کے کام میں خُوشحالی آئی۔ وہ اپنے عہُود پر قائم رہے۔
غیر مُتوقع طور پر، اُس نوجوان خاتُون کو صحت کے سنگین مسائل دَرپیش ہو گئے۔
اُن کے بیٹے نے حال ہی میں مُجھ سے یہ خیالات بیان کِیے:
”میرے بچپن کے سالوں میں، میری والِدہ شدید ذہنی دباؤ کے اَیسے تکلیف دہ مرحلوں سے دوچار ہُوئیں،
جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک اپنی بُنیادی ضرُوریات کا خیال رکھنے سے بھی قاصِر رہیں۔
یہ میرے والدین دونوں کے لیے ایک نئی صُورتِ حال تھی۔ زندگی اُن کی توقعات سے بالکل مُختلف ہونے والی تھی۔
”میرے والِد پہلے کبھی ذہنی بیماری کے اَیسے مسائل سے دوچار نہیں ہُوئے تھے چُنانچہ اُنھوں نے اپنے آسمانی باپ سے مدد مانگی۔
مَیں گِن نہیں سکتا کہ مَیں کتنی بار اُنھیں سجدہ ریز دیکھ چُکا ہُوں، یا کتنے ہی اِتوار وہ خاموشی سے روزے کی حالت میں ہوتے تھے۔ اُنھوں نے میری والِدہ کی خِدمت کی—اور ہماری بھی—اَیسی محبّت،
صبر، اور عاجزی کے ساتھ جو ناقابلِ یقین تھی۔ اُنھوں نے رُوحُ القُدس کے اَثر و رُسُوخ کے طالِب ہو کر، یہ اُمید رکھی کہ وہ ویسی ہی محبّت کریں،
ویسا ہی عمل کریں، اور ویسا ہی ردِعمل دیں جیسا کہ نجات دہندہ دیتا۔
”میری والِدہ اُن کی زِندگی کی سب سے بڑی محبّت تھیں۔ یہ مُشکل اوقات ہوں گے مگر دم بھر کے لیے۔
وہ ہمیشہ کے لیے ایک دُوجے کے ساتھ بندھے ہُوئے تھے۔ چُوں کہ وہ وفادار رہے، وہ صحت اور خُوشی کے ساتھ اَبَدیت میں ایک دُوسرے کے ساتھ رہیں گے۔
اُس وعدے نے اُنھیں اُمید کی کامِل چمک عطا کی تھی۔
”اگرچہ بُہت بار میری والِدہ کو یہ اِحساس ہوتا تھا کہ اُن کی مُشکلات میرے والِد کے لیے بوجھ بن گئی ہیں،
لیکن والِد کا نظریہ بالکل مُختلف تھا۔ خُدا کی اِس عظیم، بیش قِیمت بیٹی کی خِدمت کرنا، اُن کے لیے باعثِ مَسرت تھا۔
”جیسے ہی میری والِدہ نے بہادُری سے—اور مُعجزانہ طور پر—اپنی صحت کی بُہت سی مُشکلات پر قابُو پا لِیا، اُنھوں نے ایک ساتھ مِل کر روشنی اور خُوشی کا تجربہ کِیا:
ایک جوڑے کی حیثیت سے اور بطور والدین اور دادا دادی/نانا نانی۔
”بعد ازاں، اپنی عُمر کی 60وِیں دہائی میں، اُنھیں بالکل ہی مُختلف قِسم کی آزمایشوں کا سامنا کرنا پڑا،
جن میں چھاتی کا کینسر اور اَعصابی مسائل شامِل تھے
جنھوں نے اُن کے چلنے پھِرنے کی سکت کو مُتاثر کِیا۔ ایک بار پھر، اُنھوں نے اور میرے والِد نے ایک دُوسرے کے ساتھ اپنے عہدِ وفا اور خُداوند کے ساتھ اپنے عہُود پر اپنی پُختگی کو دُوگنا کر دِیا۔
”اُنھوں نے اُن کے فانی سفر کے آخِری دِن تک یہ سب کُچھ ایک ساتھ مِل کر کِیا۔“
اَبَدی بیاہ اِک اَبَدی سفر ہے۔
مضبُوطی حاصِل کرنا
وہ کون ہے جو آپ کو ایک دُوسرے کا ہاتھ مضبُوطی سے تھامے رکھنے اور اِس اَبَدی سفر کے فانی حِصّے کو مُکمل کرنے کی طاقت بخشتا ہے؟
”اَبَدی خُدا ، … تمام زمین کا خالق،“ وہ جو تیسرے دِن جی اُٹھا، ”[وہ] تھکتا نہیں، [وہ] ماندہ نہیں ہوتا۔ …
”وہ تھکے ہُوئے [جب آپ ہوتے ہیں] کو زور بخشتا ہے؛ اور [وہ] [جب آپ ہوتے ہیں] ناتواں [آپ کی] توانائی کو زیادہ کرتا ہے۔ …
”[اور مِل کر، جب آپ] خُداوند کا اِنتظار کریں گے … تو [آپ] عُقابوں کی مانِند بال و پَر سے اُڑیں گے؛ [اِکٹھے،
آپ] دوڑیں گے، اور نہ تھکیں گے؛ اور … چلیں گے، اور ماندہ نہ ہوں گے۔“
مَیں یِسُوع مسِیح کے نام سے اِس مُقدّس
وعدے کی پُرعزم گواہی دیتا ہُوں، آمین۔
ذرائع: churchofjesuschrist.org
