" تیرہ ایمان کے ارکان کیا ہیں؟ عقائد کی تشریح "
تیرہ ایمان کے ارکان جو 1842
میں ایک متجسس صحافی کو بھیجا گیا تھا۔ شکاگو ڈیموکریٹ کے ایڈیٹر جان وینٹ ورتھ نے جوزف سمتھ سے رابطہ کیا۔ وہ نیو ہیمپشائر کی تاریخ لکھ رہا تھا
اور "مورمنز” (آخری ایام کے مقدسین) پر ایک باب شامل کرنا چاہتا تھا۔
اس درخواست کے جواب میں، جوزف اسمتھ نے ایک خط تحریر کیا، جو آج وینٹ ورتھ لیٹر”
کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خط میں جوزف اسمتھ نے کلیسیا کے آغاز کی تاریخ اور پس منظر بیان کیا۔
خط کے اختتام پر انہوں نے کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین اخری ایام
کے بنیادی عقائد کا خلاصہ پیش کیا، جسے آج ہم ایمان کے ارکان کے نام سے جانتے ہیں۔
ایمان کے ارکان کیوں اہم ہیں؟
جوزف اسمتھ کے زمانے میں مقدسینِ کو شدید مخالفت اور ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بہت سے لوگ انہیں غیر مسیحی اور جادو ٹونے یا
خفیہ علوم سے وابستہ قرار دیتے تھے۔
ایمان کے ارکان لکھ کر، جوزف سمتھ نے
ان غلط فہمیوں کا مؤثر جواب دیا۔ انہوں نے واضح اور مختصر انداز میں بیان کیا کہ
کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین اخری ایام درحقیقت کن عقائد پر ایمان رکھتی ہے،
جس سے مخالفین کے لیے کلیسیا کی بنیادی تعلیمات کو غلط انداز میں پیش کرنا زیادہ مشکل ہو گیا۔
پہلا ایمان کا ارکان
ہم ابدی باپ، خُداوند پر، اور اُس کے بیٹے یسوع مسیح پر، اور روح القدس پر ایمان رکھتے ہیں۔
اس عقیدے کے مطابق، آسمانی باپ (خدا)، یسوع مسیح، اور روح القدس تین الگ اور منفرد ہستیاں ہیں، لیکن وہ اپنی مرضی،
مقصد، محبت، جلال اور کام میں مکمل طور پر متحد ہیں۔ ان کے درمیان کامل ہم آہنگی اور یکجہتی پائی جاتی ہے،
اور وہ انسان کی نجات اور خوشی کے لیے ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔
دوسرا ایمان کا ارکان
ہم ایمان رکھتے ہیں کہ انسان کو اُس کے اپنے گناہوں کی سزا ملے گی، نہ کہ آدم کی نافرمانی کی۔
اگرچہ آدمؑ کے سقوط
یہ (آرٹیکل) اس خیال کو رد کرتا ہے کہ انسان آدم کی خطا کا گناہ اپنے اوپر لیتے ہیں۔
کلیسیا یسوع مسیح برائے مقدسین اخری ایام یہ سکھاتی ہےکہ اگرچہ ادم کی خطا کےنتیجے میں دنیا میں فناپذیری اور نیکی و بدی کی کشمکش آئی، لیکن بچے معصوم اور بے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔
تیسرا ایمان کا ارکان
- ہم ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح کے کفارے کے ذریعے، تمام بنی نوع انسان کو نجات مل سکتی ہے، بشرطیکہ وہ انجیل کے قوانین اور رسوم کی اطاعت کریں۔
یہ مضمونِ ایمان فضل اور اعمال کے درمیان ایک متوازن تعلیم پیش کرتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ یسوع مسیح کی قربانی اور کفارہ نجات کا اصل سرچشمہ ہیں،
کیونکہ کوئی بھی انسان اپنی کوششوں سے خود کو نجات نہیں دے سکتا۔
تاہم، یہ بھی سکھاتا ہے کہ خدا کے اس عظیم تحفے کے جواب میں فرمانبرداری اور اطاعت ضروری ہے۔
نجات صرف یسوع مسیح کے فضل اور رحمت کے وسیلہ سے ممکن ہوتی ہے، جبکہ اطاعت، ایمان،
توبہ اور مقدس رسومات وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے لوگ اُس کی پیروی کرتے ہیں اور اُس کی نجات کو قبول کرتے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں، نجات کا دروازہ مسیح کے فضل سے کھلتا ہے، اور انسان ایمان و فرمانبرداری کے ذریعے اُس راستے پر چلنے کا انتخاب کرتا ہے۔
چوتھا ایمان کا ارکان
- ہم ایمان رکھتے ہیں کہ انجیل کے اولین اصول اور رسوم یہ ہیں: اوّل، خُداوند یسوع مسیح پر ایمان؛ دوم، توبہ؛ سوم،
- گناہوں کی معافی کے لیے پانی میں بپتسمہ؛ چہارم، روح القدس کی بخشش کے لیے ہاتھوں کا سر پر رکھا جانا۔
یہاں، ایک مخصوص روڈ میپ ہے جسے ایمان میں شامل ہونے کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔
اس میں بپتسمہ لینے کے طریقے کو بھی واضح کیا گیا ہے، یعنی
پانی میں مکمل غوطہ دے کر بپتسمہ اسی طرح، یہ سکھاتا ہے
روح القدس کا تحفہ ہاتھ رکھنے کے ذریعے دیا جاتا ہے
یہ تعلیم اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ رسومات مناسب کہانت کے اختیار کے تحت انجام دی جانی چاہئیں۔
اس طرح یہ مضمونِ ایمان نہ صرف ایمان میں داخل ہونے کے مراحل کی وضاحت کرتا ہے بلکہ الٰہی اختیار اور مقررہ رسومات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
پانچواں ایمان کا ارکان
- ہم ایمان رکھتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو خُدا کی طرف سے بُلایا جانا چاہیے، نبوت کے ذریعے، اور اُن لوگوں کے ہاتھوں سے جو اختیار رکھتے ہیں، تاکہ وہ انجیل کی منادی کر سکے اور اُس کی رسوم ادا کر سکے۔
پچھلے ایمان کے ارکان میں ہم نے بعض مقدس رسومات کے بارے میں بات کی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان رسومات کو انجام دینے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے؟
اس سوال کا جواب اس ایمان کے ارکان میں دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ان رسومات کو انجام دینے کے لیے
کہانت کا اختیار ضروری ہے،
چھواں ایمان کا ارکان
- ہم اُسی تنظیم پر ایمان رکھتے ہیں جو ابتدائی کلیسیا میں موجود تھی، یعنی رسول، نبی، پادری، استاد، مبشر، وغیرہ۔
اس مضمونِ ایمان میں کلیدی لفظ بحالی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کلیسیا کوئی نیا مذہب نہیں ہے،
بلکہ اصل نئے عہد نامے کی کلیسیا کی طرف واپسی ہے۔ رسولوں اور انبیاء کی فہرست کے ذریعے،
ستواں ایمان کا ارکان
ہم زبانوں کی نعمت، نبوت، مکاشفہ، رویا، شفا، اور زبانوں کے ترجمہ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں۔
آخری دن کے مقدسین کے لیے، نئے عہد نامے کے مافوق الفطرت عناصر کا مقصد جدید مسیحی تجربے کا ایک عام حصہ ہونا ہے۔ اگر کلیسا قدیم جیسا ہی ہے (آرٹیکل 6)، تو اس میں وہی معجزات ہونے چاہئیں (آرٹیکل 7)۔
اٹھواں ایمان کا ارکان
- ہم بائبل کو خُدا کا کلام مانتے ہیں جہاں تک اُس کا صحیح ترجمہ کیا گیا ہو؛ ہم مورمن کتاب کی کو بھی خُدا کا کلام مانتے ہیں۔
یہ مضمون بہت دلچسپ
یہ کہنے کا ایک طریقہ ہے کہ ہزاروں سالوں میں، انسانوں نے بائبل کے متن میں غلطیاں یا کوتاہیاں کی ہیں۔
نوواں ایمان کا ارکان
- ہم اُس سب پر ایمان رکھتے ہیں جو خُدا نے ظاہر کیا ہے، جو وہ اب ظاہر کر رہا ہے، اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ خُدا کی بادشاہی سے متعلق بہت سی عظیم اور اہم باتیں ابھی اور ظاہر کرے گا۔
یہ عقیدہ کھلے صحیفے کے اصول کی وضاحت کرتا ہے ۔ جبکہ بہت سے عقائد مانتے ہیں کہ آسمان "بند” ہیں (یعنی کوئی نیا صحیفہ شامل نہیں کیا جا سکتا)، یہ مضمون اس بات پر زور دیتا ہے
کہ خدا اب بھی ہم کلام ہو رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کلیسیا کے پاس آج ایک زندہ نبی ہے
دسواں ایمان کا ارکان
- ہم اسرائیل کے حقیقی طور پر اکٹھے ہونے اور دس قبیلوں کی بحالی پر ایمان رکھتے ہیں؛
- کہ صیون (نیا یروشلم) امریکی براعظم پر تعمیر کیا جائے گا؛ کہ مسیح خود زمین پر حکومت کرے گا؛
- اور، یہ کہ زمین کو تجدید کیا جائے گا اور اُس کا فردوسی جلال حاصل ہوگا۔
کلیسیا کے اراکین کے طور پر ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اسرائیل کا جمع ہونا روحانی اور حقیقی دونوں معنوں میں ہو رہا ہے۔
یہ عمل اُس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب لوگ انجیل کو قبول کرتے ہیں اور خدا کے ساتھ عہد باندھتے ہیں۔
یہ عقیدہ اس بارے میں ایک مخصوص جغرافیائی دعویٰ بھی پیش کرتا ہے کہ نیا یروشلم کہاں قائم ہوگا۔
مزید یہ کہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ زمین مکمل طور پر تباہ نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے نیا، پاکیزہ اور بہتر بنایا جائے گا۔
یارواں ایمان کا ارکان
- ہم اپنے ضمیر کے تقاضوں کے مطابق خدائے قادر کی عبادت کرنے کے حق کا دعویٰ کرتے ہیں، اور تمام انسانوں کو بھی یہی حق دیتے ہیں، کہ وہ چاہیں تو کیسے، کہاں، یا جس کی بھی عبادت کریں۔
یہ دیکھتے ہوئے کہ ابتدائی مقدسین کو پرتشدد طریقے سے ان کے گھروں سے نکال دیا گیا تھا،
یہ ایک بہت ہی پُرجوش مضمون ہے۔ یہ انسانی آزادیِ اختیار کا ایک عالمگیر اعلان ہے۔
یہ مسلمانوں، یہودیوں، ملحدوں اور دیگر تمام افراد کے مذہبی حقوق کے دفاع کی حمایت کرتا ہے
اور یہ اصول قائم کرتا ہے کہ ایمان اور عقیدہ کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق عبادت اور عقیدہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
بارہواں ایمان کا ارکان
- ہم بادشاہوں، صدور، حکمرانوں، اور مجسٹریٹس کے تابع رہنے، اور قانون کی اطاعت، توقیر اور حمایت کرنے پر ایمان رکھتے ہیں۔
یہ جوزف سمتھ کا امریکی حکومت کو یقین دلانے کا طریقہ تھا کہ کلیسیا ریاست کے اندر ایک الگ ریاست نہیں ہے۔
یہ تعلیم دیتا ہے کہ مقدسین ہونے کا مطلب ایک اچھا شہری ہونا بھی ہے
یہ اصول نظم و ضبط، قانون کی پاسداری، اور قانونی عمل کے احترام پر زور دیتا ہے، حتیٰ کہ ایسے حالات میں بھی جب کلیسیا کے اراکین کسی خاص حکومتی رہنما یا عہدیدار سے اختلاف رکھتے ہوں۔
تیرواں ایمان کا ارکان
- ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ایماندار، سچے، پاکباز، خیرخواہ، اور نیک ہونا چاہیے، اور تمام انسانوں کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے؛
- درحقیقت، ہم پولس کی اس نصیحت پر عمل پیرا ہیں: ہم سب کچھ برداشت کرتے ہیں، ہم ہر چیز کی امید رکھتے ہیں،
- ہم نے بہت سی مشکلات برداشت کی ہیں، اور امید رکھتے ہیں کہ ہم تمام چیزوں کو برداشت کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اگر کوئی چیز نیک، پیاری، قابلِ ذکر، یا قابلِ تعریف ہے تو ہم اُس کی تلاش کرتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ مضمون ایک اخلاقی کمپاس کا کام کرتا ہے یہ اُن مخصوص خوبیوں اور نیکیوں کی نشاندہی کرتا ہے جو ایک رکن کی زندگی میں ہونی چاہئیں۔
اس کے علاوہ، آخری جملہ خاص طور پر بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلیسیا یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ تمام بھلائی صرف اسی کے پاس ہے
۔ اگر کوئی خوبصورت موسیقی، کوئی سائنسی دریافت، یا کسی دوسری ثقافت کا کوئی فلسفہ نیک، سچا اور قابلِ قدر ہو،
تو ہمیں اس کی تلاش کرنے، اسے سیکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
