’گھر اور چرچ کے لیے گیتوں‘ کے مجموعے میں کرسمس کے گیتوں سمیت مزید آٹھ گیت شامل کر دیے گئے ہیں۔
کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری آیام نے جمعرات
29
اکتوبر کو اپنی نئی عالمی گیتوں کی کتاب
حمد برائے گھر اور چرچ کے لیے آٹھ مزید حمدیں اور گیت جاری کیے۔
جیسے جیسے مزید نئے گیت جاری کیے جا رہے ہیں، انہیں چرچ کی ویب سائٹ اور ‘گاسپل لائبریری
ایپ پر موجود گاسپل لائبریری میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اب تک کلیسیا آٹھ مختلف مراحل میں انگریزی، ہسپانوی، پرتگالی اور فرانسیسی زبانوں میں
90
مجموعی طور پر نئے حمدیہ گیت آن لائن جاری کر چکی ہے۔
چرچ نے جمعرات، 29 اکتوبر کو یہ بھی اعلان کیا کہ گیتوں کی کتاب کے پرنٹ ورژن (شائع شدہ نسخے)
میں 394 گیت شامل ہوں گے۔

جرمن، کوریائی، جاپانی اور ٹیگالوگ زبانوں میں بھی اب تک حمدیہ گیتوں کے کئی مجموعے جاری کیے جا چکے ہیں،
جبکہ آرمینیائی، سیبوانو، انڈونیشیائی، اطالوی، ملاگاسی، ساموائی، ٹونگن،
ویتنامی اور روسی زبانوں میں ان گیتوں کی اشاعت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے
ان نئے نغموں میں سے کچھ اکثر لوگوں کے لیے جانے پہچانے ہوں گے۔ مثال کے طور پر، "او کم، او کم، امینوئل
ایک معروف مسیحی حمدیہ گیت ہے
جو روایتی طور پر کرسمس کی تیاری کے ایام میں گایا اور بجایا جاتا ہے۔
اس بار جاری کیے گئے نئے گیتوں کی کتاب میں شامل ایک اور کرسمس کا نغمہ اے کوائٹ نائٹ
ہے، جسے این گرین بائز نے لکھا تھا اور 2018 میں ترانوں کی کمیٹی کو پیش کیا تھا
اس قسط میں شامل دیگر نئے ترانے بھی ‘ مقدسین آخری آیام کے نغمہ نگاروں کی طرف سے پیش کی گئی نئی تخلیقات ہیں۔
صدارتِ اوّل اور بارہ رسولوں کی جماعت نئی حمدیہ کتاب کی تیاری کے ہر پہلو میں بھرپور طور پر شامل رہی ہیں،
جس میں کتاب کے مطبوعہ اور ڈیجیٹل نسخوں میں شامل کیے جانے والے حمدیہ گیتوں کا انتخاب بھی شامل ہے۔
منظور شدہ گیت، خواہ وہ نئے ہوں یا پرانے، درج ذیل پانچ مقاصد کو پورا کرتے ہیں:
- کیا یہ حمد ہمارے آسمانی باپ اور اُس کے بیٹے، یسوع مسیح پر ایمان اور اُن کی عبادت میں اضافہ کرتی ہے؟
• کیا یہ حمد انجیل کی بنیادی تعلیمات کو قوت اور وضاحت کے ساتھ سکھاتی ہے؟
• کیا یہ حمد گھر اور چرچ میں خوشی سے گانے کی دعوت دیتی ہے؟
• کیا یہ حمد تھکے ہاروں کو تسلی دیتی ہے اور اراکین کو ایمان میں قائم رہنے کی ترغیب دیتی ہے؟
• کیا یہ حمد پورے چرچ کے اراکین کو متحد کرتی ہے؟
ایلڈر ڈیل جی رینلنڈ نے 2025 میں وضاحت کی کہ موجودہ گیتوں کی کتاب کے تمام گیت نئی کتاب میں شامل نہیں ہوں گے۔
ممکن ہے کہ آپ کا پسندیدہ حمدیہ گیت نئی کتاب میں شامل نہ ہو۔
اس لیے اپنی موجودہ کتاب کو سنبھال کر رکھیں اور گھر میں اپنے پرانے پسندیدہ گیتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔
ایلڈر مارک ڈی ایڈی جو ستر کی جماعت کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور گیتوں کی کتاب کے مشیر ہیں، نے کہا
جب ہم خوشی اور شادمانی کے ساتھ ان گیتوں کو گاتے ہوئے مل کر عبادت کرتے ہیں،
تو ہمیں یقین ہے کہ آپ بھی وہی روحانی احساسات محسوس کریں گے
جو ہم نے اس نئی حمدیہ کتاب کی تیاری کے دوران محسوس کیے ہیں۔
ہم نے ان گیتوں کے بولوں میں سکھائی گئی ابدی سچائیوں کے ذریعے اپنے ایمان میں اضافہ پایا ہے،
اور ان کی خوبصورت دھنوں اور موسیقی کی ترتیب میں ہمت، اطمینان اور سکون محسوس کیا ہے۔
دعا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ان مقدس اور دل سے نکلنے والے گیتوں کے ذریعے وہ برکات
حاصل کرے جو خُداوند نے ہمارے لیے تیار کر رکھی ہیں۔

اسٹیفن ایم جونز، جو گیتوں کی کتاب کمیٹی کے رکن ہیں، موسیقی کی ادارتی ذیلی کمیٹی کی صدارت کر رہے ہیں
اور وہ چرچ کی موجودہ ترانوں کی کتاب اور بچوں کی نغموں کی کتاب،
غیر انگریزی چرچ کے موجودہ ترانوں کی کتابوں کے ترانوں اور نغموں، پہلے سے شائع شدہ ترانوں، دیگرمسیحی روایتوں کے موجودہ ترانوں اور
سے زیادہ اصل تخلیقات کا جائزہ لینے کے اس چند سالہ عمل کا حصہ رہے ہیں۔
جونز نے بتایا کہ گیتوں کی کتاب کی کمیٹی اکثر یہ کہتی تھی:
”یہ گیت دلچسپ معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ کلیسیا کے اعلیٰ رہنماؤں کی جانب سے مقرر کردہ مقاصد پر پوری طرح پورا نہیں اترتا۔“
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:
”اس کے بعد کمیٹی اس گیت کو الفاظ کی تدوین یا موسیقی کی تدوین کرنے
والی کمیٹیوں میں سے کسی ایک کے پاس بھیج دیتی تھی۔
پھر ہم ان کی درخواستوں یا تجاویز کے مطابق ضروری تبدیلیاں تجویز کرتے تھے۔
اس عمل میں مسلسل تبادلۂ خیال ہوتا رہتا تھا اور تجاویز کو بار بار بہتر بنایا جاتا تھا
۔ یہ واقعی بہت محنت طلب کام تھا۔
مقدسینِ آخر ایامِ اور دیگر مسیحی مذہبی روایات سے تعلق رکھنے والے بعض
معروف حمدیہ گیتوں اور نغموں میں بھی نظرثانی کی گئی ہے،
تاکہ انہیں موسیقی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر اور عقائد و تعلیمات کے اعتبار سے زیادہ درست بنایا جا سکے۔
اس کے بعد مجوزہ تبدیلیاں اور تجاویز ان گیتوں کے مصنفین اور موسیقاروں کو بھیجی جاتی تھیں،
بشرطیکہ وہ حیات ہوتے، تاکہ ان سے مشاورت کی جا سکے۔
جونز نے کہا
"ہم اس وقت تک بار بار تبادلہ خیال اور اصلاح کرتے تھے جب تک معاملات حل نہ ہو جاتے۔
اس کے بعد ہمارا کام چرچ کے قائدین کو بھیج دیا جاتا تھا، جنہوں نے موسیقی اور بول دونوں کے بارے میں حتمی فیصلے کیے-
نئی حمدیہ کتاب کے اہم مقاصد میں سے ایک پوری کلیسیا کے اراکین کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا تھا۔
کلیسیا کے ایک کروڑ ستر لاکھ سے زائد اراکین مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ اس لیے ”گھر اور کلیسیا کے لیے حمدیہ گیت
حقیقی معنوں میں ایک عالمی حمدیہ کتاب ہے، جو اراکین کو دنیا بھر کی مختلف ثقافتوں میں
تخلیق کیے گئے اور پسند کیے جانے والے حمدیہ گیت سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
لیاہونا کے ایک مضمون میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ایما سمتھ کو ترانوں کی کتاب مرتب کرنے کی ہدایت ملنے کے بعد،
آنے والی گیتوں کی کتاب کے زیادہ تر گیت دیگر مسیحی روایتوں سے لیے گئے تھے۔
مضمون میں کہا گیا، "لیکن ایما اور دیگر افراد اس دن کے منتظر تھے جب چرچ کو ‘صیون
کے نغموں کی کثرت اور تنوع کا تحفہ نصیب ہوگا’۔
