روحُ القدس کے خلاف کفر کرنا کیا ہے؟
جب میں جوان تھا تو مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ روحُ القدس کے خلاف کفر کرنے کا اصل مطلب کیا ہے۔ درحقیقت،
میں اتنا سادہ لوح تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ گالی گلوچ کرنا یا جھوٹے بہانے بنا کر قسمیں کھانا روح کے خلاف کفر کرنا ہے۔
مجھے خُداوند کا اتنا خوف تھا کہ میں ان دونوں کاموں سے بچتا تھا، لیکن اگرچہ یہ کام بھی درست نہیں ہیں،
تاہم یسوع مسیح جس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے، وہ یہ نہیں تھی۔
مقدس صحائف اس ناقابلِ معافی گناہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
مجھے حقیقتاً یہ سمجھنے میں کافی عرصہ لگا کہ روحُ القدس کے خلاف کفر کرنے سے کیا مراد ہے۔
متی کی انجیل 32-12:31 میں (یسوع مسیح) فرماتے ہیں
اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ آدمِیوں کا ہر گُناہ اور کُفر تو مُعاف کِیا جائے گا
مگر جو کُفر رُوح کے حق میں ہو وہ مُعاف نہ کِیا جائے گا۔
اور جو کوئی اِبنِ آدم کے بَرخِلاف کوئی بات کہے گا وہ تو اُسے مُعاف کی جائے گی
مگر جو کوئی رُوح اُلقدُس کے بَرخِلاف کوئی بات کہے گا
وہ اُسے مُعاف نہ کی جائے گی نہ اِس عالم میں نہ آنے والے میں۔
اس عبارت کے پسِ منظر میں موجود واقعہ اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
متی 12
میں یسوع مسیح ایک ایسے شخص کو، جو بدروح کے قبضے میں تھا، شفا دیتے ہیں
اور اسے دوبارہ دیکھنے اور بولنے کے قابل بناتے ہیں۔
یہ دیکھ کر حیران ہجوم بلند آواز میں سوچنے لگتا ہے کہ کیا یسوع ہی وہ موعودہ مسیحا،
یعنی داؤد کے بیٹے، ہو سکتے ہیں۔ فریسی یسوع مسیح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ انہیں اپنے اختیار کے ختم ہونے کا خوف تھا۔
وہ اس معجزے کے واقع ہونے سے انکار نہیں کر سکتے تھے، اس لیے انہوں نے اس کے ماخذ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یسوع بدروحوں کو نکالنے کے لیے بعل زبول (شیطان) کی طاقت استعمال کر رہے ہیں

یسوع مسیح نے ان کی دلیل کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ جو سلطنت اپنے ہی خلاف تقسیم ہو جائے،
وہ قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر شیطان ہی شیطان کو نکالتا ہے تو اس کی اپنی سلطنت تباہ ہو جائے گی۔
برائی پر قابو پانے کی اُس کی قدرت اس بات کا ثبوت تھی کہ خُدا کی روح کام کر رہی تھی۔
فریسیوں نے جان بوجھ کر روحُ القدس کے مقدس کام کو شیطان سے منسوب کیا،
اور اسی کے جواب میں یسوع مسیح نے یہ سنجیدہ تنبیہ فرمائی۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ اس زبردست نقطے پر غور کریں جو (یسوع مسیح) اٹھاتے ہیں۔
وہ ذکر کرتے ہیں کہ خود ان کے یعنی خدا کے بیٹے کے خلاف بولنے کی صورت میں بھی معافی ممکن ہے۔
انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انسانوں کے لیے مجسم حالت میں ان پر شک کرنا قابلِ فہم تھا۔
یہ چیز مجھے ان کے ابتدائی شاگردوں کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا،
سوئے اور سفر کیا جبکہ وہ معجزات دکھاتے رہے،
لیکن اس کے باوجود وہ ان کی الہیٰ شناخت کو مکمل طور پر سمجھنے میں جدوجہد کرتے رہے۔
(یسوع مسیح) نے انہیں اس فہم کے تدریجی مرحلے پر کبھی ملامت نہیں کی کیونکہ ابھی ان پر مکمل حقیقت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔
صرف شمعون پطرس کو ہی شروع میں پاک روح کے ذریعے وہ براہِ راست گواہی ملی تھی، جبکہ باقیوں نے اسے وقت کے ساتھ حاصل کیا،
اور بالآخر وہ اس گواہی پر اتنے مضبوطی سے قائم ہو گئے کہ انہوں نے ان کا انکار کرنے کے بجائے شہادت کو گلے لگا لیا۔
مقدسین آخری آیام اس گناہ کے بارے میں کیسا سوچتے ہیں

یسوع مسیح جانتے تھے کہ انسانی آنکھیں ایک انسان کو دیکھتی ہیں،
لیکن روحُ القدس اُس کی حقیقی شناخت ظاہر کرتا ہے۔ تو پھر روحُ القدس کو رد کرنا خاص طور پر ناقابلِ معافی کیوں ہے؟
-
عقیدے کے مطابق،
- کوئی بھی شخص جہالت، شک یا کمزور ایمان کی وجہ سے غلطی سے اس گناہ کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔
- یہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جسے براہِ راست اور واضح الہام کے ذریعے خدا اور مسیح کا "مکمل اور کامل علم” حاصل ہو چکا ہو۔
- جوزف سمتھ نے تعلیم دی کہ اس گناہ کا ارتکاب کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی دوپہر کے وقت سورج کی طرف دیکھے
- اور جان بوجھ کر اس کے چمکنے کا انکار کرے۔
- چونکہ اس کے لیے کھلی آنکھوں کے ساتھ آگاہی (احساس) ضروری ہے،
- اس لیے یہ عمل انسان کی کسی کمزوری کا نتیجہ یا غلطی نہیں،
- بلکہ ایک جان بوجھ کر کی گئی اور خبیثانہ سرکشی ہے۔ عبرانیوں کی کتاب
-
میں اسے "خدا کے بیٹے کو نئے سرے سے مصلوب کرنا” قرار دیا گیا ہے
- یعنی مسیح کی الوہیت سے مکمل طور پر واقف ہونے کے باوجود جان بوجھ کر شیطان کا ساتھ دینا
- یسوع مسیح کے وسیلے سے معافی حاصل کرنے کے لیے حقیقی توبہ ضروری ہے،
- اور روحُ القدس وہ الٰہی ذریعہ ہے جو انسان کے دل میں گناہ کا احساس پیدا کرتا ہے۔
- روح کے خلاف جان بوجھ کر مزاحمت کرنے سے انسان اس راستے کو ہی بند کر دیتا ہے
- جو توبہ کو ممکن بناتا ہے، اور یوں اپنے آپ کو کفارے کی رسائی سے باہر کر دیتا ہے۔
پُرانا عہدنامہ میں فرعون کی طرح، جس کا دل بار بار خدا کی قدرت دیکھنے کے باوجود اور اپنی انا کو چننے کی وجہ سے اور زیادہ بھاری اور سخت ہوتا گیا،
روح القدس کے خلاف کفر ایسی چیز نہیں جو خدا کسی بے گناہ شخص پر مسلط کرے۔
یہ کسی ایسے شخص کا حتمی انجام ہے جو مسلسل الہٰی نور کا گواہ بنتا رہے، اپنے دل میں جانے کہ یہ سچ ہے،
اور ضد کے ساتھ اس کے خلاف لڑنے کا انتخاب کرتا رہے یہاں تک کہ اس کا دل مکمل طور پر سخت ہو جائے۔

خوف، شک اور خدا کا فضل
اس کو سمجھنے سے اکثر ایسے سوالات اٹھتے ہیں جیسے میرے اپنے شکوں کا کیا ہوگا؟
کیا میں نے کبھی روح القدس کو رنجیدہ کیا یا رد کیا ہے؟
جب کوئی سانحہ پیش آتا ہے، غم ہمیں گھیر لیتا ہے، یا زندگی ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتی ہے،
تو خدا کی محبت پر ہمارا بھروسا کمزور محسوس ہو سکتا ہے۔
وفادار اراکین بھی کبھی کبھی اپنی گواہی کے بارے میں جدوجہد کرتے ہیں
یا خود کو روح سے دُور محسوس کرتے ہیں۔ یا خود کو روح سے دور محسوس کرتے ہیں۔
لیکن سچے اور ایماندارانہ سوالات رکھنا، ایمان کے بحران سے گزرنا، یا غم کے دوران روحانی طور پر نڈھال یا
خدا سے ناراض محسوس کرنا، روح القدس کے خلاف کفر نہیں ہے۔
اگر آپ کبھی رات کو جاگتے رہے ہیں اور اس خوف میں مبتلا رہے ہیں کہ کوئی ماضی کی غلطی،
کوئی غصے کا خیال، یا شدید شک کا دور آپ کو نجات کی حد سے باہر کر چکا ہے، تو ایک گہرا سانس لیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
یہ حقیقت کہ آپ کو فکر ہے، آپ ندامت محسوس کرتے ہیں، یا خدا کے حضور اپنے مقام کے بارے میں پریشان ہیں،
اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ آپ کا دل ابھی بھی نرم ہے اور روح القدس آپ کے ساتھ فعال طور پر کام کر رہا ہے۔
جس شخص نے واقعی روح کی توہین یا کفر کیا ہو، وہ معافی کی کوئی خواہش، گناہ پر کوئی ندامت،
اور روحانی روشنی کی کوئی پروا نہیں رکھتا۔
جیسا کہ صدر اسپنسر ڈبلیو کمبل نے اپنی کتاب دی مریکل آف فورگیونس (معافی کا معجزہ) میں اطمینان دلاتے ہوئے
وضاحت کی، اس کے لیے درکار پختہ علم کی سطح عام لوگوں کے لیے ایسے گناہ کے ارتکاب کو "واضح طور پر ناممکن” بنا دیتی ہے۔
اس عقیدے کا مقصد سچے ایمانداروں کو خوف و ہراس میں رکھنا نہیں ہے—
بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خدا کا فضل ہماری انسانی پریشانیوں اور خدشات سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے۔

روح کی روزانہ کی آواز
اگر روحُ القدس کو اپنے دل سے دور کر دینا روحانی موت کا باعث بنتا ہے، تو اس کے برعکس یہ بھی بالکل درست ہے
کہ روحُ القدس کی آواز پر دھیان دینا ایک زندہ اور فعال روحانی زندگی کا باعث بنتا ہے۔
ایک سخت دل کی افراتفری اور تاریکی کا موازنہ اُس سکون اور ذاتی مکاشفے سے کریں جو ہماری زندگیوں میں اُس وقت داخل ہوتا ہے
جب ہم روزانہ روحُ القدس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ روحُ القدس ہمارا الٰہی ساتھی ہے، جو تسلی دیتے ہوئے سچائی کی گواہی دیتا ہے،
ہمارے فیصلوں میں رہنمائی کرتا ہے، صحیفوں کے مطالعے میں ہماری مدد کرتا ہے،
اور ہر ہفتے عشائے ربانی کی میز پر عبادت کے دوران ہماری راہنمائی کرتا ہے۔
حقیقت میں، کلیسیا کی پوری بحالی اسی اصول سے شروع ہوئی۔ 1820
ء کو یاد کریں، جب چودہ سالہ جوزف سمتھ نے یعقوب 1:5 پڑھنے کے بعد حکمت حاصل کرنے کے لیے ایک نرم روحانی تحریک محسوس کی۔
اگر وہ اُس خاموش احساس کو نظرانداز کر دیتا تو کیا ہوتا؟
اگر وہ مقدس جنگل میں گھٹنے ٹیک کر دعا کرنے کی اُس تحریک کو نظرانداز کر دیتا تو کیا ہوتا؟
اگر ایک نوجوان لڑکے نے روحُ القدس کی آواز سننے کا انتخاب نہ کیا ہوتا، تو انجیل کی بحالی اُس طرح کبھی وقوع پذیر نہ ہوتی جیسے ہوئی۔
بحال کی جانے والی ہر سچائی اور ظاہر کیے جانے والے ہر صحیفے کے پیچھے یہی وجہ تھی
کہ کسی نہ کسی شخص نے روحُ القدس کو خاموش کرنے کے بجائے اُس کی آواز سننے کا انتخاب کیا۔
آخرکار، متی 12 ہمیں روحُ القدس کی بےپناہ قدرت کی یاد دلاتا ہے۔
جب ہم سمجھتے ہیں کہ روحُ القدس کو مکمل طور پر رد کرنے کا کیا مطلب ہے،
تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اُسے اپنی زندگی میں دعوت دینا کتنا قیمتی ہے۔
ہمیں کسی ناقابلِ معافی غلطی کے خوف میں زندگی گزارنے کی ضرورت نہیں؛
بلکہ ہم اُن چھوٹے، روزمرہ کے انتخاب پر توجہ دے سکتے ہیں—جیسے خاموشی سے دعا کرنا،
ایک لمحے کے لیے غوروفکر کرنا، یا خدمت کرنے کی کسی تحریک پر عمل کرنا—
جو روحُ القدس کو ہماری زندگیوں کو رہنمائی، سکون اور نور سے بھرنے کا موقع دیتے ہیں۔
SOURCE :
FAQ :
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں روحُ القدس کے اثر کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
ہم دُعا، صحائف کے مطالعے، فرمانبرداری، نیک اعمال اور یسوع مسیح کی پیروی کے ذریعے روحُ القدس کو اپنی زندگی میں زیادہ مضبوطی سے محسوس کر سکتے ہیں۔
مشکل وقت میں روحُ القدس ہمیں تسلی اور سکون کیسے دیتا ہے؟
جب ہم غم، خوف یا مشکلات سے گزرتے ہیں تو روحُ القدس ہمارے دل میں سکون، امید اور تسلی پیدا کر سکتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔
مزید جاننے کے لیے آپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں
صدر کرسٹوفرسن کی والدین سے متعلق دل کو چھو لینے والی کہانی سکھاتی ہے کہ سچائی کو کیسے تلاش کیا جائے۔
بپتسمہ کا حقیقی مفہوم: آپ کی ابدی زندگی کا پہلا دن
SEE ALSO
