صدر کرسٹوفرسن کی والدین سے متعلق دل کو چھو لینے والی کہانی سکھاتی ہے کہ سچائی کو کیسے تلاش کیا جائے۔

ایک حالیہ ویڈیو میں، صدر ڈی ٹوڈ کرسٹوفرسن نے اپنے بیٹے کے بچپن کا ایک پیارا واقعہ سنایا تاکہ بصیرت اور پرکھنے کی صلاحیت کے بارے میں سبق دے سکیں۔

گراہم کریکر” کی کہانی

ہفتے کی ایک صبح سویرے، جب صدر کرسٹوفرسن اور ان کی اہلیہ کیتھی نئے نئے والدین بنے تھے،

تو ان کا ڈیڑھ سالہ بیٹا انہیں نیند سے جگا دیتا ہے۔

ان کا بیٹا ایک گراہم کریکر (ایک قسم کا بسکٹ)

 پکڑے ہوئے ان کے کمرے میں آیا اور روتا ہوا بولا کہ وہ دو کریکر چاہتا ہے اور اس نے ان سے کہا کہ باورچی خانے میں ایک اور کریکر تلاش کرنے میں اس کی مدد کریں

صدر کرسٹوفرسن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں

ہم چھوٹے بچوں والے اکثر جوڑوں کی طرح نیند کی کمی کا شکار تھے۔ چنانچہ

اہلیہ نے کہا، ‘اچھا، یہ ایک بسکٹ مجھے دو، میں تمہیں دو بنا دیتی ہوں۔

چنانچہ بچے نے وہ بسکٹ انہیں دے دیا۔ میری اہلیہ نے اسے چادر کے نیچے لے جا کر دو حصوں میں توڑ دیا اور واپس اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ بہت خوش ہوا اور یہ سوچ کر بھاگ گیا کہ اب اس کے پاس دو بسکٹ ہیں۔”

صدر کرسٹوفرسن بتاتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بیٹے میں اس وقت اتنی سوچنے اور پرکھنے کی صلاحیت نہیں تھی

کہ وہ سمجھ سکتا کہ یہ وہی ایک بسکٹ ہے

"وہ ایک اور دو کے درمیان فرق تو جانتا تھا، لیکن مقدار کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔

اسی طرح، وقت گزرنے کے ساتھ، تجربے، تعلیم اور سیکھنے کے ذریعے ہمیں بھی اپنی اس صلاحیت کو مزید ترقی دینی چاہیے

کہ ہم باتوں کا تجزیہ کریں، اُن پر غور کریں، اور جیسا کہ صحیفے سکھاتے ہیں، اپنے ذہن میں اُنہیں اچھی طرح پرکھیں۔”

ہماری تنقیدی و تحلیلی صلاحیتوں کے استعمال کا بہترین طریقہ

صدر کرسٹوفرسن مزید وضاحت کرتے ہیں کہ جیسے جیسے ہم روحانی طور پر بالغ ہوتے ہیں،

ہم مختلف معلومات اور ذرائع کے بارے میں سوچ سمجھ کر سوال کرنا سیکھتے ہیں، مثلاً:

  • یہ ہمیں کس طرف لے جاتا ہے؟”
  • اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟”
  • اس کا پھل (نتیجہ) کیا ہے؟”
  • یہ طریقہ کار کس انجام تک پہنچاتا ہے؟”
  • یہ ہمیں کہاں پہنچا دیتا ہے؟”

وہ سکھاتے ہیں کہ اپنی تنقیدی سوچ کی صلاحیت کو بڑھانا ہمیں

مختلف تجاویز، فلسفوں اور نتائج کی خوبیوں کا جائزہ لینے

میں مدد دے سکتا ہے

"جب ہم اپنی تنقیدی سوچنے کی صلاحیت کو ترقی دیتے اور اسے نکھارتے ہیں،

اور اسے روحُ القدس کی راہنمائی کے ساتھ خداوند کے حضور لے جاتے ہیں،

جبکہ روحانی ہدایت کے لیے حساس رہتے ہیں، تو ہم دھوکے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ہم صحیح راستے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔”

دنیا بھر میں بہت سے لوگوں نے اس پیغام کو سراہا اور تبصروں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

فیس بک کے ایک صارف نے لکھا

"مجھے بہت خوشی ہے کہ اس موضوع پر اب زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ احساسات اور وجدان اہم ہیں،

لیکن ان کی وجہ سے تجزیے اور عقل کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

دل اور ذہن، دونوں کو مل کر سچائی کی گواہی دینی چاہیے۔ یہ پیغام شیئر کرنے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ!”

مجھے یہ پیغام واقعی بہت پسند آیا۔ ایلڈر کرسٹوفرسن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خدا نے ہم سے کبھی یہ نہیں کہا

کہ ہم ایمانداری سے سوچنے اور ایمان (اعتقاد) میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔

مورونی ہمیں روح القدس کی تلاش کی تعلیم دیتا ہے۔

تعلیم و عہدہمیں ہدایت دیتے ہیں کہ ہم اپنے ذہنوں میں ‘اس کا اچھی طرح مطالعہ اور غور و فکر کریں

پالوس رسول کہتا ہے کہ ‘تمام چیزوں کو پرکھو اور ثابت کرو

اور مورونی باب 7 ہمیں نتائج اور پھلوں سے فیصلہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

میرے نزدیک، یہ تمام اصول ہمیں بغیر کسی خوف کے سچائی کی تلاش کی دعوت دیتے ہیں۔

اگر کوئی چیز خدا کی طرف سے ہے، تو وہ ہمیں

یسوع مسیحکی طرف مائل کرے گی، اچھے نتائج (پھل) پیدا کرے گی،

اور سچے دل سے کیے گئے مطالعے اور تحقیق پر پورا اترے گی۔

ایمان اورایمانداری سےتلاش ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں — بلکہ وہ مسیح کے راستے پر ایک دوسرے کے ہم سفر ہیں۔”

SOURCE :

LDSLiving

FAQ :

سچے دل سے سچائی تلاش کرنے کا حقیقی مطلب کیا ہے؟

جوابات کی تلاش کے دوران صحائف کا مطالعہ کرنا کیوں ضروری ہے؟

کون سی رکاوٹیں ہمیں سچائی کو پانے یا قبول کرنے سے روک سکتی ہیں؟

مزید جاننے کے لیے اپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں

مشکل سوالات سے نبٹنا:3 اصول جومدد کرسکتے ہیں

 خدا کے قریب محسوس کرنے کے لیے، ہر روز اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں۔

SEE ALSO  :