میں شرمندگی کی وجہ سے چرچ میں اپنا چہرہ نہیں دکھانا چاہتا تھاشرمندگی کے احساس پر قابو پانے کےچار اقدامات۔

ساڑھے چھ سال پہلے، سارہ ڈیوس کو طلاق کے عمل سے گزرنا پڑا—ایک ایسا تجربہ جس نے شروع میں انہیں غصے اور پھر شدید شرمندگی کے احساس میں مبتلا کر دیا۔

وہ پوڈکاسٹ پر بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں مجھے اپنی زندگی پر سخت شرمندگی ہو رہی تھی۔

میں چرچ میں اپنا چہرہ نہیں دکھانا چاہتی تھی۔

میں گروسری اسٹور پر لوگوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔

ساریا نے حال ہی میں دوبارہ شادی کی ہے، لیکن وہ آج بھی اُس تکلیف دہ دور کو بخوبی یاد کر سکتی ہیں،

جب شرمندگی کے احساس نے اُن کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا تھا۔

شرمندگی آپ کے اپنے ساتھ، دوسروں کے ساتھ، اور خدا کے ساتھ آپ کے تعلق کو تباہ کر دیتی ہے۔

مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں نے پوری محنت کی تھی، اور اپنی زندگی میں ان تمام چیزوں پر عمل کیا تھا جن کا ہم ذکر کرتے ہیں۔

… لیکن ہم یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ اگر ہم اپنے تمام کام بالکل درست طریقے سے انجام دیں،

تو ہماری زندگی بھی بالکل ہمارے منصوبے کے مطابق ہی گزرے گی۔

طلاق کے بعد، سارہ کو "شرمندگی سے نمٹنے کی صلاحیت کے تصور کا علم ہوا—جسے مشہور محقق برینے براؤن نے پیش کیا تھا—

اور انہیں معلوم ہوا کہ یہ احساس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے ہمیں بے بسی کے ساتھ برداشت کرنا پڑے۔

یہ وہ چار مرحلوں پر مشتمل عمل ہے جس نے ساریہ کی مدد کی —

اور جو کسی بھی شخص کو شرمندگی کی پوشیدہ گرفت سے آزاد ہونے اور خدا کی بلا شرط محبت کے لیے جگہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے

پہلا مرحلہ: اپنے احساسات کو پہچانیں

لوگ شرمندگی اور جرم کے احساس کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں،

لیکن یہ دونوں بنیادی طور پر مختلف جذبات ہیں اور مختلف ذرائع سے پیدا ہوتے ہیں۔

سارہ وضاحت کرتی ہیں:

جرم کا احساس یہ ہے کہ ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔ یہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔

یہ ایک ذریعہ ہے۔ یہ ایک مواصلاتی طریقہ ہے جس کے ذریعے روح ہم سے بات کرتی ہے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ اب بدلنے اور توبہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

اس لحاظ سے، جرم کا احساس ایک مثبت اور مفید جذبہ ہے جو ہمیں بہتر بننے پر ابھارتا ہے۔ اس کے برعکس، شرمندگی تباہ کن ہوتی ہے۔

سارہ کہتی ہیں:

شرمندگی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ یہ ہمارے اندر ایک تاریک موجودگی ہے جو کہتی ہے کہ ہم برے ہیں اور محبت،

تعلق اور اپنائیت کے قابل نہیں ہیں۔ یہ ہمیں دنیا سے، دوسروں سے اور خدا سے چھپنے پر مجبور کرتی ہے۔

سارہ کا ماننا ہے کہ غرور کے ساتھ ساتھ شرمندگی بھی شیطان کے سب سے بڑے ہتھیاروں میں سے ایک ہے، لیکن اس کا مقابلہ کرنے کا پہلا قدم اسے پہچاننا ہے۔

ایسا کرنے سے آپ کو اپنے احساس کا تجزیہ کرنے، زیادہ خود آگاہی پیدا کرنے،

اور یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ شرمندگی آپ کے جسم پر کس طرح ظاہر ہوتی ہے۔

دوسرا مرحلہ: اپنے احساسِ شرمندگی کو اُبھارنے والے عوامل کو پہچانیں

شرمندگی کے احساس پر قابو پانے کا دوسرا مرحلہ یہ جاننا ہے کہ کون سے عوامل یا حالات آپ کے اندر اس احساس کو پیدا کرتے ہیں۔

جب آپ یہ پہچان لیں کہ آپ شرمندگی محسوس کر رہے ہیں، تو اپنے آپ سے سوال کریں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

اُن حالات، گفتگوؤں اور واقعات پر غور کریں جن میں آپ کو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔

طلاق کے مراحل سے گزرنے والے افراد کے لیے، ان محرکات میں عبادت میں اکیلے بیٹھنا یا

ایسے خاندانوں کے بارے میں باتیں سننا شامل ہو سکتا ہے جو باہر سے بالکل باکمال نظر آتے ہیں۔

ساریا کہتی ہیں کہ جب آپ اُن عوامل کو پہچان لیتے ہیں جو آپ کے اندر شرمندگی کا احساس پیدا کرتے ہیں،

تو آپ آہستہ آہستہ اُن کا سامنا کرنا اور اُن پر قابو پانا سیکھ سکتے ہیں۔ بالآخر،

آپ یہ بھی سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں کہ آپ کی شرمندگی کے احساس کی اصل اور گہری وجہ کیا ہے۔

تیسرا مرحلہ: کسی قابلِ اعتماد شخص سے رابطہ کریں

سارہ کا ماننا ہے کہ تیسرا قدم سب سے زیادہ اہم ہے

: کسی ایسے شخص سے رابطہ کریں جس پر آپ کو اعتماد ہو۔ یہ وہ انسان ہونا چاہیے جس نے واقعی آپ کا اعتماد جیتا ہو

اور اپنے بارے میں برا محسوس کرنے پر آپ کو مزید شرمندہ نہ کرے۔ آپ کسی قابلِ اعتماد چرچ لیڈر،

بھائی یا بہن، کسی معالج یا اپنے گھر کے کسی فرد سے دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔

شرمندگی راز داری اور چھپے رہنے کو پسند کرتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ بڑھتی ہے، مضبوط ہوتی ہے اور اندر ہی اندر مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔

چوتھا مرحلہ: شرمندگی کے احساس پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کریں

جب آپ اپنے شرمندگی کے احساسات کسی قابلِ اعتماد شخص کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں،

تو چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ آپ مدد حاصل کریں اور ان احساسات کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے کے طریقے تلاش کریں۔

ساریا اور اُن کے شوہر ایک ایسا طریقہ اپناتے ہیں جس کی بنیاد شکرگزاری کے اظہار

پر ہے۔

ساریا کہتی ہیں

جب آپ اپنے اندر کمتری، شرمندگی، خوف اور بے چینی کے احساسات محسوس کرنے لگیں،

تو انہیں محسوس کریں اور پھر بس اپنے جسم کا شکریہ ادا کریں۔”

وہ درج ذیل مثالیں پیش کرتی ہیں

  • شکریہ کہ آپ نے مجھے یہ احساس دلایا کہ آج صبح میں دعا کرنے سے گھبرا رہی ہوں،
  • کیونکہ میں اپنے صحائف کا مطالعہ کرنا بھول گئی تھی یا اس لیے کہ گزشتہ رات میں نے اپنے بچوں پر غصہ کیا اور اُن پر چلائی تھی۔
  • میرے وجود، مجھے یہ بتانے کا شکریہ کہ چرچ جانا میرے لیے بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔
  • "اے میرے وجود، تمہارا شکریہ کہ تم نے مجھے یہ احساس دلایا کہ اس پوڈکاسٹ میں حصہ لینے کے بارے
  • میں میں بہت زیادہ گھبراہٹ اور بے چینی محسوس کر رہی ہوں۔”

ساریا کہتی ہیں کہ ان چار مراحل پر عمل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوبارہ کبھی شرمندگی محسوس نہیں کریں گے یا اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

بلکہ یہ مراحل ہمیں شرمندگی کے احساس کا سامنا کرنے، اسے سمجھنے اور اس پر قابو پانے کا راستہ فراہم کرتے ہیں،

تاکہ ہم اس تجربے سے پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر نکل سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ،

ہم اپنے تجربات اور اُن منفی عقائد کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں

جو ہماری صلاحیتوں اور ترقی کو محدود کرتے ہیں۔

جب ہم اس عمل میں خدا  کو شامل کرتے ہیں اور اپنی شرمندگی اس کے سپرد کر دیتے ہیں، تو وہ ہمارے دلوں کو شفا دے سکتا ہے

اور ہماری امید کو بحال کر سکتا ہے۔ طلاق کے بعد شرم و ندامت کا سامنا کرنے والوں کو سارہ یہ نصحیت کرتی ہیں:

source :

LDSLiving

مزید جاننے کے لیے آپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں

آگے بڑھو ، کبھی کبھار تمہارے لئے بوجھ ہو سکتا ہے جو تم سوچ رہے ہوتے ہو۔

کیا ستر مرتبہ سات بار معاف کرنا عملی طور پر ممکن ہے؟

See also :