جب ہم نبیوں، رویا بِینوں، اور مُکاشفہ بِینوں کی تعلیمات اور مِثالوں پر عمل کرتے ہیں، تو ہم اپنے مُنّجی، یِسُوع مسِیح کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔

نبی کی پیروی کرو

دولت مند نوجوان لڑکے سے، یِسُوع نے کہا، ”اپنا سب کُچھ بیچ کر غریبوں کو بانٹ دے، تُجھے آسمان پر خزانہ مِلے گا:

اور آ، میرے پِیچھے ہو لے۔“ اُس نوجوان کو یہ معلوم نہ تھا کہ جِس راستے پر چلنے کا اُسے حُکم دِیا گیا ہے،

وہ اُسے اَیسے ”آسمان کے خزانوں تک لے جائے گا، جہاں نہ کِیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ۔“

مَیں اُن تعلیمات کے لیے شُکر گُزار ہُوں جو مَیں نے برسوں سے پائی ہیں اور جنھوں نے مُجھے نجات دہندہ کی بہتر پیروی کرنے میں مدد دی ہے۔

آج اپنے مقصد کے لِیے، مَیں صِرف ایک بات پر توجہ مرکُوز کرنا چاہتا ہُوں۔ جَیسا کہ پرائمری کے گِیت میں کہا جاتا ہے، ”نبی کی پَیروی کرو؛

وہ راستہ جانتا ہے۔“

اکتوبر 2024 میں، صدر ڈیلن ایچ اوکس نے یہ مشورت دی:

”مسِیح کی پَیروی کرنا کوئی غیررسمی یا کبھی کبھار كا عمل نہیں ہے۔

یہ مُسلسل عزم اور طرزِ زِندگی ہے جِس کو ہر وقت اور ہر جگہ ہماری راہ نُمائی کرنی چاہیے۔

اُس کی تعلیمات اور اُس کی مثال یِسُوع مسِیح کے ہر شاگِرد کے لِیے راستہ مُتعیَّن کرتی ہے۔

اور سب کو اِسی راستے پر مدعُو کِیا گیا ہے۔“

اِنجِیلی ثقافت

میرے والدین فلپائن میں پَیدا ہُوئے تھے، لیکن اُن دونوں کا نسب چینی تھا۔ فلپائن کے تقریباً ہر فرد کی طرح،

اُنھوں نے میرے آبائی مُلک کے اکثریتی مذہب کو اپنایا۔ لہٰذا، ہمارے خاندان نے مُختلِف خاندانی،

نسلی اور مذہبی روایات اور رُسُوم کا ایک صحت مند اِمتزاج حاصِل کِیا جو ہماری روزمرہ کی زِندگی پر اثر انداز ہُوا۔

جب میرے والدین نے چرچ میں شمُولیت اِختیار کی، تو اُنھیں معلُوم نہیں تھا کہ وہ کُچھ اور اِقدار اور روایات کو اپنا رہے ہیں

—حتیٰ کہ اِنجِیل کی ثقافت بھی، جو نجات کے منصُوبے، خُدا کے احکام، اور زِندہ نبیوں کے کلام پر مبنی ہے۔

وقت گُزرنے کے ساتھ، جب ہمارا خاندان اِنجِیل کو مُکمل طور پر اپنانے کی کوشش کر رہا تھا،

میرے والدین كو پتا چلا کہ ہماری کُچھ پسندِیدہ روایات اِنجِیل کی ثقافت سے مُطابقت نہیں رکھتیں۔

اُن پر یہ عیاں ہو گیا کہ اُنھیں اِنتخاب کرنے کی ضرُورت تھی۔

اور یُوں ہمارے خاندان کی رُسُوم اور ثقافتی روایات کو ختم کرنے کا مُشکل کام شرُوع ہوُا جو اِنجِیل کی ثقافت کے خِلاف تھیں۔

آپ تَصَوُّر کر سکتے ہیں کہ خاندان اور دوستوں کی طرف سے اُنھیں کِتنا شدِید دباؤ مِلا ہوگا

کہ وہ کُچھ روایات کو برقرار رکھیں حالاں کہ وہ اِنجِیل کے خِلاف تھیں۔

مَیں بُہت شُکر گُزار ہُوں کہ میرے والدین نے اِیمان کا مُظاہرہ کِیا اور اپنے عہُود کو پُورا کرنے کا اِنتخاب کِیا۔ یہ ایک طویل اور کٹھن عمل تھا۔

یہاں تک کہ جب مَیں اکیلے رہنے چلا گیا، وہ اب بھی اِس پر غالِب آنے كے لِیے کام کر رہے تھے۔

اگرچہ ہمارا خاندان ابھی تک کامِل نہیں تھا، مگر ہم بُہت طویل راستہ طے كر چُكے تھے۔

اِس تجُربہ نے مُجھے سِکھایا کہ اِنجِیلی ثقافت کو اپنانے کا مطلب صِرف اپنے عہُود پر قائم رہنا ہے۔

صدر اوکس نے سِکھایا:

”یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل ہمیں تبدِیلی كی دَعوت دیتی ہے۔ ’تَوبہ‘ اِس کا سب سے عام پیَغام ہے، اور تَوبہ کا مطلب اپنی تمام روایات

—ذاتی، خاندانی، نسلی اور قَومی—کو ترک کرنا جو خُدا کے اَحکام کے خِلاف ہیں۔

اِنجِیل کا مقصد عام مخلُوق کو سیلیسیٹیئل شہریوں میں تبدِیل کرنا ہے، اور اِس کے لِیے تبدِیلی درکار ہوتی ہے۔ …

اِنجِیل کا مقصد عام مخلُوقات کو سیلیسٹیئل شہری بنانا ہے، اور اِس کے لِیے تبدِیلی ضرُوری ہے

۔ … کسی قَوم کی روایات، ثقافت یا طرزِ زِندگی میں لازمی طور پر کُچھ اَیسی روایات شامِل ہوتی ہیں جِنھیں اُن لوگوں کو بدلنا ہوتا ہے

جو خُدا کی بہترین نعمتوں کے اہل ہونا چاہتے ہیں۔“

یِسُوع مسِیح کے کَفارہ کی تقوِیّت بخش اور لائق بنانے والی قُدرت

چند ہفتہ پہلے، جاپان میں سٹیک کے صدر نے محسُوس کِیا کہ ہمیں کِسی اَیسے شخص سے مُلاقات کرنی چاہیے

جِس میں کینسر کی تشخیص ہُوئی ہے۔ اُس کا عِلاج جاری رہنے کے باوجُود کینسر پھیلتا رہا۔ اَیسی صُورتِ حال میں، مَیں اَلفاظ تلاش کرنے میں مُشکل محسُوس کرتا ہُوں۔ لہٰذا، کئی دِنوں تک مَیں خُدا سے مدد کی فریاد کرتا رہا۔ مَیں نے تَصَوُّر کِیا کہ وہ آدمی کِتنا افسُردہ اور تباہ حال ہوگا۔

مَیں نے سوچا تھا کہ وہ پُوچھے گا کہ خُداوند نے اُسے یہ آزمایش کیوں دی۔ مَیں نے تَصَوُّر کِیا کہ وہ بے بس ہوگا اور شاید تھوڑا ناراض بھی۔

مُلاقات کا دِن آ گیا اور مَیں اَبھی تک کش مکش کا شِکار تھا۔ جب ہم آخِرکار مِلے تو مَیں بالکل حیران رہ گیا۔

جو میرے سامنے کھڑا تھا بالکل وہ آدمی نہیں تھا جِس کا مَیں نے تَصَوُّر کِیا تھا۔ اُس کا چہرہ رَوشن اور خُوش تھا۔

کوئی تلخی نہیں تھی اور اُس نے وجہ بالکُل نہیں پُوچھی۔

حال ہی میں، میرا کوریا میں رہنے والے اَرکان کے ساتھ بُہت مِلتا جُلتا تجربہ ہوُا۔ میرا مقصد دُوسروں کی خِدمت کرنا تھا۔

تاہم، میری مُلاقاتوں كے آخِر میں، اَیسا محسُوس ہُوا جَیسے میری خِدمت گُزاری کی جا رہی ہو۔

یِسُوع مسِیح نے اِن میں سے ہر فَرد کو اپنی آزمایشوں کو برداشت کرنے کے لِیے مضبُوط کِیا۔ جَیسا کہ صدر اوکس نے سِکھایا ہے:

”ہمارے نجات دہندہ نے تمام فانی مُشکلوں کی کاملیت کا تجربہ کِیا اور دُکھ اُٹھایا۔ …

لہٰذا وہ ہماری جدوجہد، ہمارے دِل کے دُکھ، ہماری آزمایشوں، اور ہمارے دُکھ کو جانتا ہے،

کیونکہ اُس نے اُن سب کو اپنے کَفارہ کے لازمی حِصے کے طور پر خُوش دِلی سے محسُوس کِیا۔

اور اِسی وجہ سے، اُس کا کَفارہ اُسے قُدرت بخشتا ہے کہ وہ ہماری مدد کرے—ہمیں سب کُچھ برداشت کرنے کی طاقت دے۔“

تُم دُنیا کے نُور ہو

دو سال پہلے ہمیں ہانگ کانگ میں رہنے کے لیے کہا گیا تھا، جو اپنی بُلند و بالا عِمارتوں کے لیے مشہُور ہے۔

ہماری اپارٹمنٹ بلڈنگ اپنے ارد گرد بُہت اُونچی عمارتوں کے مقابلے میں چھوٹی لگ رہی تھی۔ اِس لِیے مَیں زیرِ سایہ رہنے کے لِیے تیار تھا۔

تَصَوُّر کریں کہ مَیں کتنی خُوشی محسُوس کرتا ہُوں کہ صُبح کی دھوپ ہماری کھڑکیوں سے اندر آ رہی ہے۔

اِس سادہ تجُربہ نے میری رُوح کو بے پناہ خُوشی اور تَشَکُّر سے معمُور کر دِیا۔

کِھڑکیوں میں چمکتا سُورج
سُورج عِمارت کی عکاسی کرتے ہُوئے

جب مَیں نے آخِرکار اپنی حالت سنبھالی تو مَیں بُہت اُلجھن میں تھا۔ ہماری کھِڑکیاں مشرِق کی طرف نہیں تھیں۔

ہمیں آخِر صُبح کی دھُوپ کیسے مِلتی؟ مزید تحقِیق کرنے پر، مُجھے معلُوم ہوُا کہ سُورج کی کِرنیں ہمارے اپارٹمنٹ میں اُس بُلند عِمارت سے مُنعکس ہو رہی تھیں۔ مُجھے یاد دِلایا گیا کہ جب مَیں نجات دہندہ کی پیروی کرنے کی کوشش کرُوں گا،

تو وہ مُجھے دُوسروں کو برکت دینے کے لِیے اِستعمال کرے گا۔

میری مثال اور دُوسروں کی خِدمت کے ذریعہ سے، وہ نجات دہندہ کی محبّت کو اپنے لِیے محسُوس کریں گے۔

صدر اوکس كی جانب سے: ”یِسُوع نے اپنی خِدمت کے دَوران میں سِکھایا،

’دیکھو میں نُور ہُوں؛ مَیں نے آپ کے لِیے مثال قائم کی ہے۔‘ بعد میں، اُس نے اپنے رَسُولوں سے کہا، ’اپنی روشنی جلائے رکھنا

تاکہ یہ دُنیا کو مُنوّر کرے،‘ مزید کہا، ’دیکھو، مَیں ہی وہ روشنی ہُوں

جو تُم نے جلائے رکھنی ہے—یعنی جو کُچھ تُم نے مُجھے کرتے دیکھا ہے۔‘“

میرے لِیے یہ دِل چسپ بات ہے کہ کُچھ لوگ سوچتے ہیں کہ خُدا کے نبی ماضی میں رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے۔

جو کُچھ مَیں نبیوں کے بارے میں جانتا ہُوں وہ اِس کے برعکس ہے۔ وہ دراصل مُستقبل کو بُرج پر نگہبان کی طرح دیکھتے ہیں۔

جَیسا کہ ہم مُضایاہ کی کِتاب میں سِیکھتے ہیں،

”رویا بِین وہ باتیں جان سکتا ہے جو ماضی کی ہیں، اور وہ باتیں بھی جو ہونے والی ہیں، اور سب باتیں اُن کے وسِیلہ سے آشکار کی جائیں گی، یا،

بلکہ پوشِیدہ باتیں ظاہِر ہوں گی، اور مخفی باتیں عیاں کی جائیں گی،

اور وہ باتیں جو نامعلُوم ہیں اُن کے وسِیلہ سے معلُوم ہوں گی، اور اُن کے وسِیلہ سے وہ باتیں بھی معلُوم ہو جائیں گی

جو کسی اور طرح سے معلُوم نہیں ہو سکتیں۔“

مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ آج ہماری قیادت زِندہ نبی کر رہے ہیں، صدر ڈیلن ایچ۔

اوکس۔ وہ، صدارتِ اَوّل کے مُشِیر صاحبان اور بارہ رَسُولوں کی جماعت سمیت درحقِیقت نبی، رویا بین، اور مُکاشفہ بین ہیں۔ آج اِس صُبح مجلسِ مُقدّسہ میں شِرکت کرنے کے لِیے میں شُکر گُزار ہُوں۔

میرے پیارے بھائیو اور بہنو، خصُوصاً آپ، میرے عزیز نوجوان دوستو،

جب ہم اُن کی تعلیمات اور مثالوں پر عمل کرتے ہیں، تو ہم اپنے نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ پَس مَیں یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام پر یہ گواہی دیتا ہُوں، آمین۔