صدر اوکس نے سالٹ لیک سٹی میں جی 20 بین المذاہب فورم میں امن سازی کی کال دی۔

کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسینِ ایامِ آخر کے صدر ڈیلن ایچ اوکس نے جمعرات کے روز دنیا بھر سے آنے والے

مذہبی رہنماؤں کو سالٹ لیک سٹی میں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے عقائد کے اختلافات کا احترام کرتے ہوئے امن،

باہمی افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا۔

سالٹ لیک ٹیبرنیکل میں جی 20 بین المذاہب فورم کی افتتاحی تقریب کے دوران انہوں نے کہا

"نیک نیتی، ہمدردی اور ایک دوسرے کو سمجھنے اور مدد کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگ،

جو کسی سے اس کے مخصوص عقائد اور اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے، امن قائم کرنے کی کوششوں کی اصل بنیاد ہیں۔”

1″نیک نیتی، ہمدردی اور ایک دوسرے کو سمجھنے اور مدد کرنے کی خواہش رکھنے والے لوگ،

جو کسی سے اس کے مخصوص عقائد اور اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کا مطالبہ نہیں کرتے، امن قائم کرنے کی کوششوں کی اصل بنیاد ہیں۔”

صدر ڈیلن ایچ اوکس

انہوں نے اس فورم کو بیان کرتے ہوئے کہا:

"یہ اس موضوع پر، جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، ممتاز رہنماؤں کا سب

سے نمایاں اجتماع ہے جو آج تک سالٹ لیک سٹی میں منعقد ہوا ہے۔”

جی 20 بین المذاہب فورم، جو پہلی بار ریاستہائے متحدہ میں منعقد ہو رہا ہے

 دنیا بھر سے مذہبی رہنماؤں، علما، انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں کو اکٹھا کرتا ہے۔

2014

میں قائم ہونے والا یہ اجلاس ہر سال اُس ملک میں منعقد ہوتا ہے

جس کے پاس جی 20 کی صدارت ہوتی ہے

اور اس کا مقصد امن کے قیام اور مذہبی آزادی سے لے کر غربت، ٹیکنالوجی اور اقتصادی

ترقی جیسے مسائل پر بحث میں مذہبی نقطہ نظر کو شامل کرنا ہے۔

میرے پیارے دوستو، ہمارےفطری اختلافات نہ تو ہمارے لیے خطرہ بننے چاہئیں اور نہ ہی تصادم اور تنازع کو ہوا دینے کا باعث،”

ڈاکٹر العیسیٰ نے کہا، جنہوں نے سب سے پہلے 2019 میں ٹیمپل اسکوائر میں چرچ کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

بلکہ، یہ اس تنوع کا ایک حصہ ہے جو خدا نے اپنی آفاقی اور ازلی حکمت کے ذریعے انسانیت کے لیے مقدر کیا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ویٹیکن کے سفارتی نمائندےآرچ بشپ گیبریئل کاچیا نے

کارڈینل پیٹرو پارولین کی جانب سے پوپ لیو چہاردہمکا بھیجا گیا پیغام پڑھ کر سنایا

اس پیغام میں اس اجتماع کوانسانی خاندان کی یکجہتی کی ایک روشن مثال

قرار دیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ انسانی وقار، مذہبی آزادی اور اجتماعی بھلائی کی اہمیت پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔

آرچ بشپ کاچیا نے کہا

پوپ لیو چہاردہم دعا کرتے ہیں کہ آپ کی یہ گفتگو اور مشاورت، جو نرمی اور باہمی احترام کے ساتھ انجام دی جا رہی ہے،

ایمان رکھنے والوں کو اس بات کی ترغیب دے کہ وہ اُن لوگوں کو، جو ہماری امید کی وجہ دریافت کرتے ہیں،

مزید مؤثر اور قائل کرنے والے جوابات دے سکیں۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ لوگ اعتماد کے ساتھ اپنے خالق کے قریب آ سکیں۔

موسیقی نے بھی اس شام ایک اہم کردار ادا کیا۔ ‘ٹیمپل اسکوائر میں واقع ٹیبرنیکل

‘کوائر’ (گلوکاروں کے دستے) کی پیشکش کا حوالہ دیتے ہوئے، ایکومینیکل پیٹریاارکیٹ کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدیدار،

میٹروپولیٹن ایمینوئیل آف چیلسیڈن نے بین المذاہب تعاون کو ‘کوائر’ کی ہم آہنگ ترنم سے تشبیہ دی۔

ایلڈر سٹیونسن کی طرف سے امن قائم کرنے کا ایک پیغام

فورم کی افتتاحی تقریب سے قبل، بارہ رسولوں کے کورم

کے ایلڈر گیری ای۔ سٹیونسن نے چرچ آفیس بلڈنگ کی لابی میں منعقدہ ایک عشائیے کے دوران شرکاء

کا خیرمقدم کیا اور امن کے قیام اور برادریوں کو مضبوط بنانے میں اہل ِ ایمان کے کردار پر بات کی۔

نجات دہندہ کی اس تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہ "مبارک ہیں وہ جو امن قائم کرتے ہیں،”

انہوں نے مذہبی رہنماؤں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ انسانی کنبے کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔

جب گروپ ایک ساتھ ٹیبرنیکل کی طرف پیدل جانے کے لیے تیار ہوا، تو ایلڈر

نے ان سے خدا اور اپنے پڑوسی سے محبت کرنے کے مسیح کے دو عظیم احکامات کو یاد رکھنے کی التجا کی۔

ایلڈر سٹیونسن نے کہا

"آج رات ان میزوں کے گرد، مختلف مذاہب کے لوگوں نے ان احکامات پر ایک ساتھ عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔

دعا ہے کہ ہم امن قائم کرنے والوں اور خدا کی اولاد کے طور پر ایسا کرنا جاری رکھیں۔ میں یسوع مسیح،

جو امن کے شہزادے ہیں، کے نام کی گواہی دیتا ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس ہفتے

آپ کے کام میں آپ کو برکت دے، ان لوگوں کو برکت دے جن کی آپ خدمت کرتے ہیں،

اور آج رات اس کمرے میں بننے والی دوستیوں کو برکت دے، تاکہ ہم اس دنیا میں امید لا سکیں جسے اس کی سخت ضرورت ہے۔

تعاون کا وہی جذبہ دن کی دیگر سرگرمیوں کے دوران ایک عملی شکل میں سامنے آیا۔

فورم کے افتتاحی سیشن میں یوٹاہ کے گورنر سپنسر کاکس، جنوبی کیرولائنا کے سابق گورنر ڈیوڈ بیزلی

اور مارٹن لوتھر کنگ سوم نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ "بہتر انداز میں اختلاف کیسے کیا جائے۔

گورنر کاکس نے کہا کہ معاشرے "ایک وقت میں ایک گفتگو، ایک اختلاف، ایک پڑوسی اور خدمت کے ایک عمل” کے ذریعے تقسیم کو ختم کر سکتے ہیں۔

گورنر بیزلی نے ذاتی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، "جب آپ کسی کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں،

تو اس سے نفرت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔” کنگ نے بھی اسی خیال کا اعادہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ان کے والدین

"یہ بات سمجھتے تھے کہ ہم بدتمیز یا نازیبا ہوئے بغیر بھی اختلاف کر سکتے ہیں۔

SOURCE :

Church News

SEE ALSO :