صدر پورٹر اپنی زندگی کے سب سے تاریک لمحوں میں سے ایک کا تجربہ بیان کرتی ہیں—اور یہ بھی کہ انہیں روشنی کیسے ملی۔

"آزمائش کے سخت ترین لمحات میں، تنہائی محسوس کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن یسوع مسیح کی وجہ سے، ہمیں کبھی بھی مکمل طور پر اکیلا نہیں چھوڑا جاتا۔ ۔

صدر سوسن ایچ پورٹر نے حال ہی میں کلیسیاکی ایک نئی ویڈیو میں اس سچائی کی گواہی دی۔ اس کلپ میں، صدر پورٹر نے اپنے شوہر، بروس کی وفات کے بعد کے دنوں کو یاد کیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ اپنے غم کا بوجھ اُٹھانے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک غیر متوقع مشکل کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس نے اُن کے دل میں بے یقینی اور تنہائی کے احساس کو مزید گہرا کر دیا

ایلڈر بروس ڈی اور سسٹر سوسن ایچ پورٹر 2011 میں ایک تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں۔
ایلڈر بروس ڈی اور سسٹر سوسن ایچ پورٹر 2011 میں ایک تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں۔

میں ہارڈویئر اسٹور میں رونا شروع نہیں کر سکتی

اپنے شوہر کہ جنازے کے دن، صدر پورٹر کو معلوم ہوا کہ ان کے گھر میں پانی بھر گیا ہے۔

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، "کوئی بھی شخص تیار ہونے اور (جنازے پر) جانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، ہمیں اپنے جذبات کو ایک طرف رکھنا پڑا کیونکہ ہماری تمام تر توجہ بروس، ان کی یادوں اور جنازے پر مرکوز تھی۔”

جنازے کے بعد، صدر پورٹر نے ایک کنٹریکٹر سے رابطہ کیا۔ چونکہ وہ چند ہفتوں تک ان کے گھر پر کام شروع نہیں کر سکتا تھا، اس لیے اس نے انہیں کچھ چیزوں کی فہرست دی جو وہ نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے خرید سکتی تھیں۔

چنانچہ، جنوری کی ایک سرد اور تاریک جمعہ کی رات،

صدر پورٹر اکیلے اپنے قریبی ہارڈویئر اسٹور (سامان کی دکان) گئیں۔ انہوں نے اپنے آگے ایک جوڑے کو ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے ہوئے دیکھا۔

غم کی ایک لہر ان پر طاری ہو گئی کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ اس زندگی میں بروس کے ساتھ اب ایسے لمحات دوبارہ کبھی نہیں آئیں گے۔ ہارڈویئر اسٹور کے اندر پہنچ کر،

انہیں اپنی ضرورت کا سامان تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہوا۔

وہ بتاتی ہیں، "مجھے (اسٹور میں مدد کے لیے) کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا، اس لیے میں لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے ادھر ادھر چکر لگاتی رہی اور… مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں۔

اور میں نے سوچا، ‘میں ہارڈویئر کی دکان میں یوں رو نہیں سکتی۔'”

جب کوئی اور راستہ نظر نہ آیا، تو صدر پورٹر نے اپنا سر جھکایا اور خاموشی سے ایک دعا مانگی۔

یہ احساس کہ وہ کبھی اکیلی نہیں تھیں

آنکھیں کھولنے کے بعد، صدر پورٹر گلیارے میں آگے بڑھیں اور موڑ پر ایک ملازم کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ اس ملازم نے ان کی فہرست میں شامل ہر چیز تلاش کرنے میں ان کی مدد کی

وہ گواہی دیتے ہوئے بتاتی ہیں، "یہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا

کہ یہ خدا کی طرف سے ایک تحفہ تھا، میں اس وقت اکیلی نہیں تھی،

اور میں کبھی اکیلی رہی ہی نہیں تھی۔ میرا ماننا ہے کہ جیسے جیسے ہم اپنی زندگی میں آگے بڑھتے ہیں،

ہم یہ یاد رکھ سکتے ہیں کہ ایک پیار کرنے والے آسمانی باپ نے اپنے بیٹے،

خداوند یسوع مسیح کو بھیجا، جنہوں نے وہ سب کچھ محسوس کیا جو ہم محسوس کرتے ہیں۔

اور وہ ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔”

صدر پورٹر کی کہانی نے دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے دلوں کو چھوا ہے،

اور متعدد دیکھنے والوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں

تک خداوند کی روشنی پہنچانے میں کیسے مدد کر سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ نگار نے لکھا، "اس واقعے میں ایک سبق چھپا ہے…

دوسروں کے لیے فرشتہ بنیں!” ایک اور صارف نے شیئر کیا:

"جب میں شدید جذباتی تکلیف سے گزرتا ہوں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں روح القدس کی تسلی کو فوراً محسوس نہیں کر پاتا۔ لیکن ایسے اوقات میں مجھے دوسرے لوگوں کے ذریعے،

کی عملی مدد اور محبت سے، تسلی ضرور ملتی ہے۔ یہ ہارڈویئر اسٹور والی کہانی

مجھے یہی یاد دلاتی ہے کہ خدا اپنی محبت اور مدد کرنے والے ہاتھ

ہمارے ذریعے دوسروں تک پہنچاتا ہے، جب ہم ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں۔”

Source:

LDSLiving

مزید جاننے کے لیے اپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں

ایمان: بھروسے اور وفاداری کا ایک بندھن

مسیح پر ایمان ہمیں سب سے بڑی نعمت کی طرف لے جاتا ہے۔

SEE ALSO :