چرچ یونیسیف کے ساتھ جنوبی ایشیا میں ماؤں اور نوائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے کے لیے
تعاون کر رہا ہے، جس میں پاکستان میں ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے لیے (1.2 ملین) ڈالر کا تعاون بھی شامل ہے۔
چرچ نے یونیسیف کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے اقدام کا آغاز کیا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد اس خطے میں 1.5 ملین ماؤں اور 1.5 ملین نوزائیدہ بچوں تک پہنچنا ہے جس میں بچے کی پیدائش سے پہلے، اس کے دوران
بہتر طبی سہولیات اور نگہداشت کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
چرچ اور یونیسیف کے رواں ہفتے جاری کردہ اعلان کے مطابق
اس دو سالہ پروگرام میں پاکستان میں ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کی بہتری کے لیے چرچ کا (1.2 ملین) ڈالر کا عطیہ بھی شامل ہے۔
یہ پروگرام پاکستان میں 4,10,000 ماؤں اور نوزائیدہ بچوں تک پہنچے گا،
جس سے حمل کے دوران، پیدائش اور نوزائیدہ بچے کے ابتدائی دور تک مسلسل دیکھ بھال کا نظام مضبوط ہوگا۔
پروگرام کا مقصد بنیادی مادری اور نوزائیدہ صحت کی خدمات کے معیار اور دستیابی کو بہتر بناتے ہوئے، حمل کے دوران باقاعدہ معائنے
کی کوریج اور ہسپتالوں میں محفوظ ولادت کی شرح میں 50 فیصد تک اضافہ کرنا ہے۔
پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی قائم مقام ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر اور یونیسیف کی نمائندہ
پرنیلے آئرون سائیڈ نے کہا
کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین اخری کی فراخ دلانہ معاونت امداد یونیسف کو صحت کے ان نظاموں
اور خدمات کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہے
جو بچوں کو زندگی کا بہترین ممکنہ آغاز فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ آج ماں اور نوزائیدہ بچوں
کی پائیدار اور معیاری دیکھ بھال میں سرمایہ کاری کرنے کا مطلب قیمتی جانوں کو بچانا اور
ایک زیادہ صحت مند اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کرنا ہے جہاں ہر بچہ زندہ رہ سکے اور ترقی کر سکے۔

چرچ کے ایشیا ایریا کے صدر، ایلڈر کیلی آر جانسن نے کہا
"ہم پاکستان اور جنوبی ایشیا میں کمزور بچوں اور ماؤں کی صحت اور بہبود کو بہتر بنانے کے لیے یونیسف کے ساتھ اپنے
دیرینہ تعاون کو جاری رکھنے پر شکرگزار اور خوش ہیں۔ چرچ خدا کے زیادہ سے زیادہ ضرورت مند بچوں تک اپنی امداد پہنچانے کے لیے کوشاں ہے
اس سلسلے میں پاکستان میں ہزاروں ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو جان بچانے والی طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے میں مدد کر رہا ہے
جو ہر متاثرہ خاندان کے لیے بہتر زندگی کا باعث بنے گی
پاکستان میں روزانہ 700 سے زائد نوزائیدہ بچے دم توڑ دیتے ہیں اور تقریباً 500 بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں
جبکہ حاملہ ہونے کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہر گھنٹے تقریباً دو ماؤں کی موت ہو جاتی ہے۔ ان اموات کی بڑی وجوہات غذائیت کی کمی
ریفرل سسٹم کی خامیاں، ادویات و وسائل کی فراہمی میں رکاوٹیں اور بالخصوص غریب
دیہی علاقوں اور کم عمر ماؤں کے لیے معیاری طبی سہولیات تک غیر مساوی رسائی ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں ماں اور نوزائیدہ بچے کی صحت کے شعبے میں اہم پیش رفت کے باوجود، پورے جنوبی ایشیا میں
قابلِ علاج اور قابلِ تدارک اموات اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اب بھی بہت سی خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو پیدائش سے پہلے،
پیدائش کے وقت اور پیدائش کے بعد معیاری طبی دیکھ بھال میسر نہیں۔ اس خطے میں ہر سال
اندازاً 43,000 خواتین دورانِ حمل یا زچگی کی پیچیدگیوں سے فوت ہو جاتی ہیں
جبکہ 60 لاکھ سے زائد بچوں کی پیدائش ماہر طبی عملے کے بغیر ہوتی ہے۔
جنوبی ایشیا ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا خطہ ہے
جہاں ہر سال 784,000 نوزائیدہ بچے اپنی زندگی کے پہلے مہینے میں ہی انتقال کر جاتے ہیں اور 597,000 بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔

یونیسف کے ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقائی ڈائریکٹر، سنجے وجیسیکرا نے کہا
”جنوبی ایشیا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہونے والی تمام اموات میں سے تقریباً دو تہائی اموات زندگی کے پہلے ہی مہینے میں واقع ہوتی ہیں۔
ماؤں اور نومولود بچوں دونوں کے لیے بچے کی پیدائش سے پہلے،
دورانِ پیدائش اور بعد از پیدائش معیاری طبی نگہداشت زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ تعاون ان خدمات، مہارتوں اور نظاموں کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا جو قابلِ روک تھام اموات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں،
اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جنوبی ایشیا بھر میں زیادہ سے زیادہ مائیں اور بچے زندہ رہیں، صحت مند نشوونما پائیں اور بہتر زندگی گزار سکیں۔“
یہ اقدام صحت کے مراکزی بنیادی سامان اور آلات کی فراہمی میں معاونت کرے گا
ہائی رسک (خطرناک) حمل اور زچگی کی پیچیدگیوں کو پہچاننے اور ان کا مؤثر طریقے سے علاج
کرنے کے لیے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا،
اور دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا اور ڈیجیٹل سسٹم کے استعمال میں بہتری لائے گا۔
قومی اور صوبائی سطح کی ہیلتھ اتھارٹیز کے تعاون سے نافذ کیا جانے والا یہ منصوبہ مقامی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جائے گا
اور ساتھ ہی پورے جنوبی ایشیا میں صحت کے مزید مضبوط اور پائیدار نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
"صحتمند خاندان کا آغاز ماؤں اور نوزائیدہ بچوں سے ہوتا ہے جنہیں اہم ترین لمحات میں ضروری نگہداشت ملتی ہے،”
مکی لیو، چرچ کے ایشیا علاقے کے ڈائریکٹر برائے وقتی امور نے کہا۔ "فرنٹ لائن صحت کارکنوں
اور ان وسائل میں سرمایہ کاری کرکے جو انہیں معیاری نگہداشت فراہم کرنے کے لیے درکار ہیں،
ہم جنوبی ایشیا بھر میں خاندانوں اور برادریوں کے قریب جان بچانے والی زچگی اور نوزائیدہ خدمات کو پہنچانے میں مدد کر سکتے ہیں
ریلیز سوسائٹی کی جنرل صدر کیملی این جانسن نے کہا، "ہر ماں اور بچے کی عظیم وقعت اور لا محدود صلاحیت ہے، اور ہم نے دیکھا ہے
کہ جب برادریوں کو درکار دیکھ بھال اور وسائل ملتے ہیں تو وہ کس طرح ترقی کرتی ہیں۔
یونیسف کے ساتھ یہ اقدام صحت کے نظام کو مضبوط بناتا ہے اور وسائل کی کمی کو دور کرتا ہے
تاکہ مائیں اپنی زندگی کے اہم ترین لمحات میں اپنے اور اپنے بچوں کے بہترین علاج پر زیادہ اعتماد محسوس کر سکیں،
جس سے خاندانوں اور برادریوں کے لیے ایک زیادہ صحت مند مستقبل کی تعمیر میں مدد ملے گی۔
source :
مزید جاننے کے لیے آپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں
آخری آیام کے مقدسین کے لیے سنہری اصول کیا ہے؟
دُور دراز علاقوں کے لیے کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری آیام عبادت گاہوں (چیپلز) کا ایک نیا ماڈل تیار کر رہی ہے۔
