1980
کی دِہائی کے اَواخِر میں، مارٹِن صاحِب شدید دِل کے دَورے کا شِکار ہُوئے۔ دَستیاب جدید ترین اَدویات کے باوجُود
اُن کا دِل اُن کے خُون کی گردِش کو مُناسب طریقے سے سہارا دینے سے قاصِر تھا۔ دِل کی پیوند کاری کے
بغیر وہ جان کی بازی ہار جاتے۔ وہ میری ٹیم کے مریض بن گئے، اور پھر عطیہ کیے جانے والے کے دِل کا اِنتظار شُروع ہو گیا۔
اُن کی حالت مزید بگڑ گئی، اور اُن کی زِندگی کو بچانے کے لیے مصنُوعی پمپ نصب کِیے گئے۔
چند دِن بعد، مارٹِن صاحِب کا جِگر، گُردے، اور پھیپھڑے بھی جواب دینے لگے۔
اگر جلد ہی کسی عطیہ دینے والے کا دِل دَستیاب نہ ہوتا،
تو اُن کی مَوت یقینی تھی۔ ایک دِل دَستیاب ہو گیا، اور مارٹِن صاحِب کی پیوند کاری کر دی گئی۔ حیرت اَنگیز طور پر،
یہ نیا دِل اچھے طریقے سے کام نہ کر سکا، اور اُن کی حالت اَب پہلے سے بھی زیادہ بِگڑ گئی۔ چند دِنوں کے بعد، صُورتِ حال بالکل نااُمید دِکھائی دینے لگی،
اور ہم عِلاج مُعالجہ بند کرنے اور مصنُوعی پمپ ہٹانے کی تیاری کر رہے تھے۔ مِسز مارٹِن کے ساتھ محدُود آپشنز پر بات چیت کرنے کے دَوران،
مُجھے مُطلع کِیا گیا کہ ایک اور عطیہ دینے والے کا دِل دَستیاب ہے۔ اِس عطیہ دینے والے کے دِل کو غیر معیاری قرار دے دیا گیا
اور مُلک میں کسی اور وصُول کُنندہ کے اِستعمال کے لائق نہ ٹھہرایا گیا۔ مِسز مارٹِن کی رضامندی سے،
ہم نے دُوسری پیوند کاری کے لیے اِس نیم معیاری دِل کو اِستعمال کرنے کا فیصلہ کِیا۔
خُوش قِسمتی سے، اِس نیم معیاری دِل نے اِنتہائی شاندار اَنداز میں کام کِیا۔ چند گھنٹوں کے اَندر، مارٹِن صاحِب کا جِگر، گُردے،
اور پھیپھڑے صحت یاب ہونے لگے، اور مصنُوعی پمپ ہٹا دِیے گئے۔ دس دِن بعد، مَیں مارٹِن صاحِب کے ہسپتال کے کمرے میں داخِل ہُوا،
یہ جانتے ہُوئے کہ وہ اگلے دِن ہسپتال سے گھر روانہ ہو جائیں گے۔ وہ اپنے بِستر پر بیٹھے ہُوئے، ناشتے کی ٹرے کو مضبُوطی سے پکڑے ہُوئے تھے،
اور واضح طور پر پریشان اور خفا نظر آ رہے تھے۔ مَیں نے پُوچھا کہ کیا بات ہے۔ دانتوں کو پیستے ہُوئے،
مارٹِن صاحِب نے جواب دِیا، ”دلیہ گرم نہیں ہے، اور دُودھ ٹھنڈا نہیں ہے!“
گُزشتہ تین ہفتوں سے، مارٹِن صاحِب مَوت کے دَہانے پر تھے اور اَب وہ ہسپتال کے کھانے کے معیار پر شِکوہ کر رہے تھے!
(میرے خیال میں جب آپ مارٹِن صاحِب جیسی کسی آزمایش سے گُزرتے ہیں، تو آپ کا سارا صبر جواب دے جاتا ہے۔
اور میرا خیال ہے کہ دلیے کا درجہِ حرارت کُچھ بھی ہو کسی کو بھی دلیہ کھانے کی سزا نہیں مِلنی چاہیے) لیکن
اُس لمحے، مارٹِن صاحِب کی ساری توجہ اپنے سامنے رکھے ہُوئے ٹھنڈے دلیے یعنی فوری اور نِسبتاً چھوٹے مسئلے پر مرکُوز تھی
اور اُنھوں نے بظاہر اُس مُعجزے کو نظر اَنداز کر دِیا تھا جس کا اُنھوں نے تجربہ کِیا تھا۔ وہ اُس بڑی حقیقت سے غافِل ہو گئے تھے،
کہ وہ کہاں سے ہو کر آئے تھے اور مُستقبل اُن کے لیے کیا وعدے لے کر آیا تھا۔
ہم بھی بُہت آسانی سے اُسی پھندے میں پھنس سکتے ہیں جس میں اُس صُبح ہسپتال میں مارٹِن صاحِب مُبتلا ہُوئے تھے،
بالخصُوص جب ہماری روزمرّہ کی مُشکلات ہمارے سامنے پہاڑ بن جاتی ہیں۔ ہم اپنی توجہ موجُودہ لمحے
—یعنی ”فوری اور نِسبتاً چھوٹے مسئلے“—پر مرکُوز کر لیتے ہیں اور اُس بڑی حقیقت سے غافِل ہو جاتے ہیں،

کہ ہم کہاں سے گُزر کر یہاں پُہنچے ہیں اور خُدا نے ہم سے کیا وعدے فرمائے ہیں۔
اور یہ محض کوئی جدید رُجحان نہیں ہے۔ جیسا کہ عہدِ عتیق میں درج ہے، خُداوند نے بنی اِسرائیل کو مِصر کی غُلامی سے
نجات دِلائی اور وہاں سے باہر نکالا۔ خُداوند نے اُس وقت بھی اُن کی حِفاظت فرمائی جب وہ بحرِ قُلزم میں پھنس گئے تھے
اور جب اُنھیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا ہُوا تو اُنھیں مہیا کِیا۔ یہاں تک کہ جب اُنھوں نے ایک ہی
جیسی خوراک مِلنے پر شکایت کی، تو خُداوند نے مُعجزانہ طور پر اُن کی دَست گِیری فرمائی۔
وہ خُدا کے مُعجزات کی بدولت زِندہ بچ گئے، لیکن وہ بار بار اپنا دھیان نِسبتاً چھوٹے مسئلے پر مرکُوز کرتے رہے۔
جب وہ خُداوند کی برکتوں اور اُس کے وعدوں دونوں کو فراموش کرنے لگے، تو خُدا،
اور خُدا کے نبی، مُوسیٰ پر، اُن کا بھروسا آہستہ آہستہ کمزور ہوتا گیا۔
جب بنی اِسرائیل وعدے کی سر زمین پر پُہنچے، تو وہ سامنے آنے والے خطرات دیکھ کر خوف زدہ اور ہمت شکن ہو گئے۔
اُنھوں نے دوبارہ اپنی صُورتِ حال پر شکایت کرتے ہُوئے کہا، ”ہائے کاش ہم مِصر میں ہی مَر جاتے! یا کاش اِس بیابان ہی میں مَر جاتے!“
دُوسرے لفظوں میں، اُن کا خیال تھا کہ پہلے اُن کے حالات بہتر تھے اور یہ مُشکل یقیناً خُداوند کے لیے بھی بُہت بڑی تھی۔
صحائف میں خُداوند کا یہ جواب درج ہے: ”اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا، …
باوجُود اُن سب مُعجزوں کے جو مَیں نے اِن کے درمیان کِیے ہیں، یہ کب تک مُجھ پر اِیمان نہیں لائیں گے؟
“ دُوسرے لفظوں میں، خُداوند پُوچھ رہا تھا: ”وہ مُجھ پر بھروسا کیوں نہیں کرتے؟ مَیں نے اُن کے لیے جو کُچھ بھی
کِیا اُس کے باوجُود، وہ مُجھ پر اِیمان کیوں نہیں لاتے؟“ خُداوند نے کِتنی ہی بار بنی اِسرائیل کو، اور ہمیں بھی،
اپنی غیر مُتزلزل وفاداری و ثابت قدمی کا یقین دِلایا، اور اِعلان فرمایا ہے کہ، ”مَیں ہرگز تُم سے عہد شِکنی نہیں کرُونگا۔“
شاید آپ نے زِندگی میں بُہت سے فوری اور نِسبتاً چھوٹے مسائل کا سامنا کِیا ہو۔ شاید، آپ نے بھی، بنی اِسرائیل کی طرح،
خُدا کی جانب سے آپ کی دیکھ بھال، آپ کی مدد کرنے کی اُس کی رضا مندی، یا اپنے وعدوں کو نِبھانے
کی اُس کی قُدرت پر شک کِیا ہو۔ پھر بھی خُدا ہمیں دَعوت دیتا ہے کہ ہم اُس پر اور اُس کے وعدوں پر بھروسا کریں۔
اپنی فانی خِدمت کے دَوران، نجات دہندہ نے اپنے شاگِردوں سے فرمایا: ”مَیں نے یہ باتیں اِس لِیے کہیں،
کہ تُم مُجھ میں اِطمینان پاؤ۔ تُم دُنیا میں مُصیبت اُٹھاتے ہو: لیکن خاطر جمع رکھو؛ مَیں دُنیا پر غالِب آیا ہُوں۔“
یِسُوع مسِیح دُنیا پر غالِب آیا ہے؛ لہٰذا ہمیں خُود سے اَیسا کرنے کی ضرُورت نہیں۔ جب ہمارا اِیمان یِسُوع مسِیح پر مرکُوز ہوتا ہے،
تو وہ ہمیں ہر طرح کے حالات میں رُوحانی اِطمینان عطا کرنے کا وعدہ فرماتا ہے۔
ہم اُس کی بدولت اور اُس کے ساتھ اپنے عہد کے رِشتے کے ذریعے اپنے موجُودہ اور فوری حالات میں خُوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔
یِسُوع مسِیح پر اِیمان ہمیں بے یقینی سے آزاد کرتا ہے کیوں کہ ہماری اُمید کا دارومدار اپنی ذات پر نہیں،
بلکہ اُس کی وفاداری اور راستبازی پر ہے۔ لِحی نبی نے اپنے بیٹے یعقُوب سے گواہی دیتے ہُوئے کہا، ”پَس، مَیں جانتا ہُوں
کہ تیرے فِدیہ دینے والے کی راست بازی کے سبب سے تُجھے مُخلصی ملی ہے۔“ یعقُوب ایک نیک اور وفادار شخص تھا۔
پھر بھی اُس کی راستبازی اُس کی مُخلصی کا ذریعہ نہیں ہوگی۔ نہیں،
یعقُوب کی مُخلصی یِسُوع مسِیح کی راستبازی کے وسِیلہ سے حاصِل ہوگی۔ ہم میں سے ہر ایک ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔
مورمن کی کِتاب کے مقاصِد میں سے ایک ہمیں یہ دِکھانا ہے ”خُداوند نے کیسے عظیم کام کِیے ہیں …
تاکہ [ہم] خُداوند کے عہُود جان سکیں، تاکہ [ہم] ہمیشہ کے لیے ترک نہیں کِیے گئے۔“ مرونی ہمیں تاکید کرتا ہے
”کہ [ہمیں] یاد رہے کہ خُداوند آدم کی تخلِیق سے لے کر [تمام زمانوں میں] کس قدر مہربان رہا ہے، اور جب ہم [اپنے] دِلوں میں اِس بات پر غور و فِکر کریں۔“
جب ہم اُن عظیم کاموں پر غور کرتے ہیں جو خُداوند پہلے ہی اَنجام دے چُکا ہے
اور اُس کی نیکی اور رحم کو یاد رکھتے ہیں، تو ہم بڑے تناظر کو سمجھنے اور اپنے واسطے اُس کے وعدوں
پر بھروسا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم اُس پر بھروسا کر سکتے ہیں۔
مُجھے اپنی چھوٹی بہن، لِنڈا سے سیکھا ہُوا، بہت سے سبقوں میں سے، ایک اہم سبق یاد ہے۔
اُس نے کہا کہ وہ اپنے صحائف پڑھے گی اور اُن غیر معمُولی برکتوں کو دیکھے گی جن کا خُداوند نے وعدہ فرمایا ہے۔
مگر اُس کے دِل میں یہ خیال آتا تھا کہ، ”یہ برکتیں سب کے لیے ہیں — ماسِوائے لِنڈا کے۔“ کئی برسوں کے بعد،
لِنڈا کو ایک مُختلف حقیقت کا اِحساس ہُوا۔ اُس نے کہا، مَیں اِتنی غیر معمُولی نہیں ہُوں کہ مُجھے کوئی اِستثنٰی مِلے۔
یہ برکات میرے لیے بھی وعدہ کی گئی ہیں۔“ لِنڈا بھی باقی سب کی طرح ہے خُدا کے وعدوں سے محرُوم نہیں کی گئی
۔ نہ ہی آپ کو، بھائیو اور بہنو؛ کوئی غلط عقیدہ یا خیال خُدا کی وعدہ کی گئی برکات پانے سے روکتا ہے۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا کوئی نشان موجود ہے،
تو ایک بڑا سا ربڑ نکالیے اور اُس ستارے (*) کو مکمل طور پر مٹا دیجیے۔ آپ خُدا کے وعدوں پر توکُّل کر سکتے ہیں۔
نبی جوزف سمِتھ نے سِکھایا کہ یِسُوع مسِیح ”زِندوں اور مُردوں دونوں کی حالت کو جانتا ہے،
اور اُس نے اِس دُنیا میں، یا آنے والی دُنیا میں، اُن کے مُختلف حالات، اور خُدا کی بادشاہی کے قوانین کے مُطابق اُن کی نجات کا بھرپُور اِنتظام کر رکھا ہے۔“
”بھرپُور اِنتظام“ سے مُراد ہے کہ اِنسان کے تمام حالات مُنّجی کی نجات بخش قُدرت اور صلاحیت کے دائرے میں آتے ہیں۔
یِسُوع مسِیح کے کفّارے نے ہمارے آسمانی باپ کو یہ اِختیار دِیا ہے کہ وہ نجات دہندہ کو
”آسمان اور زمین“
کا کُل اِختیار عطا کرے۔ ممسُوح کی نجات و سرفرازی دینے کی قُدرت نہایت ذاتی اور گہری ہے،
اور اِنسانی فہم سے کہیں بڑھ کر لامحدود ہے؛ ہم سب کے لیے، ہم میں سے ہر ایک کے واسطے،
کسی بھی کمی، ضرُورت، یا نُقص کو پُورا کرنے کے لیے حد سے زیادہ وافر مقدار میں موجُود ہے۔
جب مَیں اِس بات پر غور کرتا ہُوں کہ یِسُوع مسِیح نے ہمارے واسطے کیا کِیا ہے، تو میرا نہیں خیال کہ ہم چاہیں گے کہ وہ ہم سے پُوچھے،
”[تُم] کب تک مُجھ پر اِیمان نہیں لاؤ گے؟ اِس بات کو یاد رکھنے کی کوشِش کریں کہ جب بھی اُس نے آپ کی طرف کان لگایا،
بالخصُوص جب آپ فوری اور نِسبتاً چھوٹے مسائل کا سامنا کر رہے تھے
۔ مرونی کے ساتھ، مَیں اِعلان کرتا ہُوں، ”خُدا کے اَبَدی اِرادے جاری و ساری رہتے ہیں جب تک کہ اُس کے سارے وعدے پُورے نہیں ہو جاتے۔
“ ہم خُداوند پر بھروسا کر سکتے ہیں، بالخصُوص اُس کے وعدوں پر۔ یہ وعدے آپ پر لاگُو ہوتے ہیں۔ ہم خُوشی سے گا سکتے ہیں:
مسِیح، میرے بادِشاہ، کے وعدوں پر مضبُوطی سے قائم ہُوں، …
اُن وعدوں پر مضبُوطی سے قائم ہُوں جو کبھی ناکام نہیں ہو سکتے …
وعدوں پر مضبُوطی سے قائم ہُوں، مَیں کبھی گِر نہیں سکتا، …
خُدا کے وعدوں پر مضبُوطی سے قائم ہُوں۔
مَیں جانتا ہوں کہ خُدا زندہ ہے اور یِسُوع ہی المسِیح ہے۔ صِرف یہی نہیں، بلکہ مَیں یہ بھی جانتا ہُوں
کہ اُن کے ”قِیمتی اور نِہایت بڑے وعدے“ یقینی ہیں اور یہ کہ ”اُس خرابی سے چھُوٹ کر جو دُنیا میں بڑی خواہش کے سبب سے ہے،
[ہم] ذاتِ اِلہٰی میں شریک ہو جاتے ہیں۔“ مَیں یِسُوع مسِیح کے نام پر، اِس کی مُخلصانہ گواہی دیتا ہُوں، آمین۔
SOURCE :
مزید جاننے کے لیے آپ یہ بھی دیکھ سکتےہیں
وہ سب جِنھوں نے دلیری سے برداشت کِیا ہے
جب میں نے اپنی زندگی میں ایک مثبت موڑ لیا
SEE ALSO :
