کیا آپ خود کو بہت زیادہ دباؤ اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے محسوس کر رہے ہیں؟
ایلڈر کیرون کی نئی تقریر شاید بالکل وہی ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے۔
ایلڈر پیٹرک کیرون نے 18 اگست 2026ء کو بریگم ینگ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک ڈیووشنل سے خطاب کیا۔
اپنی روایتی محبت بھری گفتگو اور مزاحیہ انداز میں،
اس رسول نے زندگی کی رفتار کو کچھ سست کرنے اور صرف یسوع مسیح کے لیے کام کرنے کے بجائے
یسوع مسیح کے ساتھ وقت گزارنے کی اہمیت پر زور دیا
اپنا نقطۂ نظر واضح کرنے کے لیے، ایلڈر کیرون نے عہدِ جدید سے مریم اور مارتھا کے واقعے کو بڑے مؤثر انداز میں دوبارہ بیان کیا۔
عام طور پر اس واقعے کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ مارتھا دنیاوی کاموں میں الجھی ہوئی تھی،
جبکہ مریم نجات دہندہ کی خدمت میں مصروف تھی—یعنی ایک طرف دنیاوی کام اور دوسری طرف مقدس کام۔
یسوع اُس شخص کی تعریف کرتے ہیں جس نے مقدس کام کو اختیار کیا—
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ مارتھا بھی ایک مقدس کام میں مصروف تھی، اور وہ مقدس کام مسیح کی محبت بھری خدمت تھی،
جسے اُس نے اپنے گھر میں مدعو کیا تھا۔”
لوقا باب 10 میں ہم پڑھتے ہیں کہ مارتھا ”خدمت“ کر رہی تھی۔ ایلڈر کیرون وضاحت کرتے ہیں کہ خدمت کے پیچھے جو یونانی لفظ ہے وہ
Diakonia
ہے، جو عہدِ جدید میں مذہبی/روحانی خدمت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایلڈر کیرون کا کہنا ہے، ”لہٰذا لوقا یہ نہیں کہتا کہ مارتھا دنیاوی کاموں کی وجہ سے خدمت سے غافل ہو گئی تھی، بلکہ یہ کہ اس کا خدمت کا کام ہی اسے تھکا رہا تھا اور ذہنی تناؤ میں مبتلا کر رہا تھا، اور آپ اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
وہ یونانی ترجمے سے مزید دو اہم تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پہلی تفصیل لوقا 10:40 میں ملتی ہے، جہاں لکھا ہے کہ مارتھا بہت خدمت کرنے کی وجہ سے پریشان تھی۔
دوسرا، لوقا 10:41 میں نجات دہندہ فرماتے ہیں کہ مارتھا پریشان ہے۔ لفظ پریشان کے پیچھے جو بنیادی لفظ ہے اس کا مطلب افراتفری، ہلچل یا اضطراب ہے
ایلڈر کیرون کہتے ہیں، ”وہ صرف بہت سے کاموں میں مصروف نہیں ہے، بلکہ وہ ذہنی اضطراب اور بوجھ کا شکار ہے۔ لیکن یہ سب کچھ وہ صرف انہی
کے لیے کر رہی ہے۔ یہ کہانی ایک انتہائی محنتی پیروکار (شاگرد) کے بارے میں ہے۔
یہ کہانی مقدسین اخری ایام کے لیے کیا معنی رکھتی ہے
ایلڈر کیرون کہتے ہیں کہ مریم اور مارتھا کا واقعہ ہمیں یہ سکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ
خدا سے محبت رکھنا کیسے دکھائی دیتا ہے
”خود سے پوچھیں کہ اپنے پورے دل، طاقت، ذہن اور توانائ کے ساتھ خدا سے محبت کرنا کیسا لگتا ہے؟ مجھے گمان ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ خود کو کچھ کرتے ہوئے، خدمت کرتے، تعمیر کرتے، سکھاتے، نظم و ضبط قائم کرتے اور آستینیں چڑھائے کام کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ‘طاقت’ اور ‘توانائی’ جیسے الفاظ پرسکون نہیں ہیں۔ لیکن لوقا ہمیں مریم کے روپ میں خدا سے محبت کرنے کا ایک ماڈل پیش کرتا ہے: ایک ایسی عورت جو زمین پر بیٹھی سن رہی ہے۔“
مارتھا کی کئی گھنٹوں کی خدمت کے بعد وہ پوچھتی ہے:
اَے خُداوند! کیا تجھے فکر نہیں کہ میری بہن نے خدمت کرنے کے لیے مجھے اکیلی چھوڑ دیا ہے؟
وہ اس کیفیت سے یہ سوچتے ہوئے نکلتی ہے کہ آیا وہ اُس سے محبت کرتا بھی ہے یا نہیں۔ جب ہماری خدمت اُس کے ساتھ ہماری رفاقت اور تعلق سے مقابلہ کرنے لگتی ہے، تو یہی ہوتا ہے۔ اس بارے میں یوں سوچا جا سکتا ہے کہ مارتھا یسوع کے لیے بہت کچھ کر رہی تھی، لیکن اُس کے ساتھ رہنے کے لیے کافی وقت نہیں دے رہی تھی۔
خدا کے خادم
مریم اور مارتھا کے درمیان اس فرق کو ایک اہم اصول سکھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں: اگرچہ ہمیں باہر نکل کر خدمت کرنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے، ”لیکن آئیے ہم یہ کام اس وقت کریں جب ہم بیٹھنے اور نجات دہندہ کی باتوں پر توجہ دینے کے لیے وقت نکال چکے ہوں۔“ رسول بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں
ہم وہ پیروکار بننا چاہتے ہیں جو ایک ضروری کام کرتا ہے بیٹھنا اور مسیح کو سننا
جیسے جیسے ہم ان کے بارے میں جانیں گے، ہم زیادہ واضح اور منتخب انداز میں دیکھ سکیں گے کہ وہ ہم سے کیا کروانا چاہتے ہیں اور ہمیں کیا بنانا چاہتے ہیں
اور جب بات عمل کرنے اور بہتر انسان بننے کی ہو، اگر ہم نے وقت نکالا ہو، اپنے لیے جگہ بنائی ہو، اور اتنا آہستہ ہو گئے ہوں کہ نجات دہندہ کی بات سن سکیں، تو ہمارے اعمال اور ہماری شخصیت میں تبدیلی کہیں کم بےچینی کے ساتھ آئے گی اور اُس کے سکون سے کہیں زیادہ برکت پائے گی۔”
SOURCE :
FAQ :
دعا اور خدا پر ایمان ہمیں دباؤ اور بھاری ذمہ داریوں سے نمٹنے میں کس طرح مدد دے سکتے ہیں؟ .Q
دعا اور خدا پر ایمان ہمیں دباؤ اور بھاری ذمہ داریوں کا سامنا کرتے وقت سکون طاقت اور امید فراہم کرتے ہیں
جب ہم اپنی پریشانیوں اور بوجھ دعا کے ذریعے خدا کے سامنے رکھتے ہیں تو ہمیں یہ یقین ملتا ہے
کہ ہم اکیلے نہیں ہیں خدا پر ایمان ہمیں اپنی حدود کو تسلیم کرنے صحیح فیصلہ کرنے اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے میں مدد دیتا ہے
ہم اپنی خاندانی، کام اور کلیسیائی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے سکون اور توازن کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟.Q
خاندان کام اور کلیسیا ذمہ داریوں میں سکون اور توازن حاصل کرنے کے لیے ہمیں یسوع مسیح کو اپنی زندگی
کا مرکز بنانا چاہیے اور دعا کے ذریعے خدا کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیےایلڈر پیٹرک کیرون کےذریعے ہم یہ سیکھتے ہیں
کہ صرف یسو مسیح کے لیے کام کرنا ہی کافی نہیں ہمیں یسوع مسیح کے ساتھ رہنے کے لیے بھی وقت نکالنا چاہیے
جب ہم اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے محسوس کریں تو مدد مانگنا کیوں ضروری ہے؟.Q
خدا یسوع مسیح نے اپنی زمینی زندگی میں کہا اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو
میرے پاس اؤ میں تمہیں ارام دوں گا اگر ہم اپنی زندگی میں بوجھ کے محسوس کرتے ہیں
تو ہمیں اپنی توجہ مسیح کی طرف کرنا ہوگی
